خودکش حملہ آور۔۔۔مسرت نذیر

asghar nadeem syed.

یہ بات پچھلے چالیس سال سے ہماری نوجوان نسل اور شائد ان کے والدین نہیں جانتے کہ پاکستان کی کوئی فلم انڈسٹری بھی ہوتی تھی۔ وہ کیسی تھی‘ کیسی نہیں تھی ‘ اس پر بات بعد میں کریں گے۔ یہ غالباً1960 کی دہائی ہے کہ ایک فلمی ہیروئین نے صبیحہ خانم کے ساتھ خود کو نہ صرف منوایا بلکہ ایسی فلموں میں کام کیا کہ سینما انڈسٹری کو پاکستان بننے کے بعد ایک بہت اچھا سٹارٹ مل گیا۔ اس آغاز میں جو فلم اسٹار خواتین سامنے آئیں ان میں ’مینا شوری‘ صبیحہ خانم‘ نیر سلطانہ‘ مسرت نذیر اور نیلو‘ شامل تھیں۔ نیلو ہمارے ہیرو شان کی والدہ ہیں۔ صبیحہ خانم اِس وقت امریکہ میں ہیں‘ نیر سلطانہ اللہ کو پیاری ہوچکی ہیں اور مجھے یہ کہنے کا حق ہے کہ انہوں نے اپنی آخری پرفارمنس میرے ایک ٹی وی ڈرامے میں دی۔

Image result for nayyar sultanaہو ا یہ کہ ’’چاند گرہن‘‘ میر ا سیریل جب بے حد مقبول ہوگیاتو عظمیٰ گیلانی‘ جو آج بھی ماشاء اللہ کام کر رہی ہیں‘ اُنہوں نے ایک سیریز بنائی جو پاکستانی فلمی ستاروں کی زندگی پر تھی۔ نصرت ٹھاکر نے اسے پروڈیوس کیا تھا۔اس میں بھی بھابی نیئر سلطانہ کا ایک Episode تھا۔ خیر جب عظمیٰ گیلانی اور میں گارڈن ٹاؤن میں اُن کے اپارٹمنٹ میں گئے تو وہ نماز پڑھ رہی تھیں۔جب نماز سے فارغ ہوئیں تو ہم سے ملیں ۔وہی دودھ سے دُھلا چہرہ‘ وہی کھنکتی آواز اور پھر۔۔۔جب کچھ عرصہ بعدان کی وفات کی خبر آئی تو میں وہاں گیا۔اِن کے شوہر’’درپن‘‘ کا میں مداح اس لیے تھا کہ ان کی فلموں نے مجھے گھائل کر دیا تھا۔ وہ فلمیں یہ تھیں’گلفام‘ اک تیرا سہارا‘ قیدی‘ باپ کا باپ‘ سہیلی‘ باجی ‘ نائلہ‘ آنچل‘ پائل کی جھنکار‘ جب کہ دیکھا ہے تمہیں ۔۔۔اور شکوہٰ وغیرہ‘۔ درپن کا اصل نام عشرت رضا تھا‘ ان کے بڑے بھائی سنتوش کا نام موسیٰ رضا تھا۔ ان کے تیسرے بھائی سید سلمان فلموں کے ڈائریکٹر تھے‘ میرے اب بھی دوست ہیں۔
مسرت نذیر پڑھے لکھے گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں‘ انہوں نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں کی فلموں میں ایک مخصوص عرصے تک ہیروئین کی حیثیت سے کام کیا۔اپنے کیرئیر کے عروج پر ڈاکٹر مجید سے شادی کرنے کے بعد فلموں سے الگ ہوگئیں اور شوہر کے ساتھ کینیڈا چلی گئیں۔لوگ بھول بھی گئے کہ مسرت نذیرکبھی زندگی سے بھرپور کردار ادا کیا کرتی تھیں۔اچانک غالباً1986 کے آس پاس کی بات ہے کہ مسرت نذیر کی بحیثیت گلوکارہ ٹیلی ویثرن پر رونمائی ہوئی‘پنجابی فوک اورغزلوں کی گائیکی کے ساتھ۔ان کی کئی کیسٹیں اتنی مقبول ہوئیں کہ آج بھی اس کی گونج موجود ہے۔اسی زمانے میں وہ پی ٹی وی لاہور پر آئیں تو میری ملاقات بھی ہوئی اور کسی پروگرام میں ہم دونوں شریک بھی ہوئے۔اب ان کی پہچان گلوکارہ کی ہوگئی اور لوگ بھول گئے کہ وہ کبھی فلموں کی کامیاب اداکارہ بھی تھیں۔

Image result for mussarat nazirابھی ہمارے دوست نیئر علی دادا نے اپنی ’نیرنگ گیلری‘ میں ماہانہ بیٹھک میں مسرت نذیر کی گائی ہوئی منیر نیازی کی غزل ’اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو‘ سنوائی تو بہت کچھ یاد آگیا۔منیر نیازی کی یہ غزل ان کے پہلے مجموعے’تیز ہوا اورتنہا پھول‘ میں شامل تھی جس کا دیباچہ اشفاق احمد نے لکھا تھا۔یہ غزل جب موسیقار رشید عطرے نے پڑھی اور خلیل قیصر نے فلم’شہید ‘ بنانے کا سوچا تو منیر نیازی سے اجازت لے کر اسے نسیم بیگم کی آواز میں ریکارڈ کیا۔غزل فلم کی کامیابی کا باعث بن گئی۔یہ غزل فلم میں مسرت نذیر پر فلمائی گئی۔اب عرصے بعد مسرت نذیر نے اسی غزل کو خود گایا اور کمال کردیا۔ اب ذرا اس فلم کی بات کرتے ہیں۔
یہ 1962 کی سردیوں کا زمانہ ہے۔۔۔میں اُس وقت آٹھویں جماعت کا طالبعلم تھا اور واحد تفریح فلم ہوا کرتی تھی۔اس زمانے میں فلمی اداکاروں کی تصاویرفلم کے بورڈز پر ہاتھ سے بنائی جاتی تھیں۔ ایسا آرٹ تھا کہ تصویر بولتی تھی۔مجھے یاد ہے ہمارے سکول کے قریب باہر سینما میں ’نرگس‘ کی فلم ’برسات‘ ریلیز ہوئی تو اس کی تصویر کے سامنے صبح سکول جانے سے پہلے حاضری دینا ضروری تھا۔اکثر سکول بھی دیر سے پہنچنے لگے تو پرنسپل صاحب نے سینما سے وہ بورڈ ہٹوا دیا۔خیر اسی زمانے میں ’رادھو سینما‘ میں فلم ’شہید‘ ریلیز ہوئی۔رادھو سینما قیام پاکستان سے پہلے ایک ہندو خاندان کی ملکیت تھا۔پاکستان بننے کے بعد اس کا نام تبدیل نہ کیا گیا۔میں نے یہ فلم بارہ آنے کی ٹکٹ لے کر دیکھی۔فلم کے ڈائریکٹر خلیل قیصر تھے اور موسیقار رشید عطرے۔فلم کے ہیرو اعجاز درانی اور ہیروئین مسرت نذیر تھیں۔فلم کی کہانی یہ تھی کہ فلسطین کی سرزمین پر یہودیوں کا قبضہ ہوچکا ہے اور فلسطینی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ہیرو اعجاز درانی عربی لباس پہنے نوجوانوں کی وطن پرستی کو اجاگر کرنے کے لیے تنظیم چلا رہا ہے‘ ایسے میں رشید عطرے نے فیض احمد فیض کی مشہور نظم کو منیر حسین سے گوایا اور شامل کیا۔اعجاز درانی یہ نظم فلسطین کی گلیوں میں گاتا پھرتا ہے ’نثار میری تری گلیوں کے اے وطن کہ جہاں۔۔۔چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے‘۔ مسرت نذیر ایک قحبہ خانے کی رقاصہ ہے جو غالباً عیسائی مذہب سے تعلق رکھتی ہے۔

Image result for musarrat nazir in film shaheed

شائد پاکستانی فلم میں قحبہ خانے کی رقاصہ کو عیسائی دکھانا ضروری ہوتاتھا ‘ کیوں ہوتا تھا؟ یہ آپ سمجھ گئے ہوں گے۔مسرت نذیر قحبہ خانوں اور گلیوں میں ناچتی گاتی پھرتی ہے‘ اس حوالے سے وہ یہودی سپاہیوں اور یہودی فوج کے افسروں کا دل بہلاتی ہے۔یہودی فوج کے سربراہ کا کردار آغا طالش نے کیا تھا اور بہت کامیاب رہے تھے۔ایسے میں مسرت نذیر ‘ اعجاز درانی سے متاثر ہوکر اس سے محبت کرنے لگتی ہے اور وہ فلسطین کی آزادی کی جدوجہدمیں شامل ہوجاتی ہے۔ اعجاز کو گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔اسی بات پر مسرت نذیر ‘ منیر نیازی کی غزل گلیوں میں گاتی ہے’اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو۔۔۔‘‘
قصہ مختصر۔۔۔مسرت نذیر ‘ اعجاز درانی سے کسی بہانے سے قید خانے میں جاکر ملتی ہے اوراس ملاقات کا موقع ایسے نکالا جاتا ہے کہ مسرت نذیر قحبہ خانے میں یہودیوں فوجیوں کو شراب پلا کر بیہوش کردیتی ہے اور پھر ملاقات ہوتی ہے۔یہ طے ہوتاہے کہ وطن کو آزاد کرانے کے لیے قربانی دی جائے گی۔مسرت نذیر دشمنوں کے ہیڈ کوارٹر پر خودکش حملہ کرتی ہے۔تیل کے ذخیرے کو آگ لگتی ہے اور مسرت نذیر سارے ہیڈ کوارٹر کو تباہ کردیتی ہے اور خود کش حملے میں کام آجاتی ہے جسے شہید کا لقب ملتا ہے جو کہ فلم کا ٹائٹل ہے۔
یہ 1962میں پاکستانی عوام کے لیے شائد پہلا خودکش حملہ تھا جس میں کسی کو شہادت نصیب ہوئی۔ہم نے ایک عیسائی لڑکی کی قربانی دے کرفلم میں فلسطین کو آزاد کرالیا تھا۔وہ اگر ابھی تک غلام ہے تو ہمارا قصور تو نہیں۔ہم کسی اور عیسائی لڑکی کی قربانی دے کر پھر سے فلسطین کو آزاد کراسکتے ہیں۔ لیکن سوال تو اب یہ ہے کہ خود کش حملوں کا رواج1962 میں ایک فلم میں متعارف ہوا جو ‘ اب ایک تناور درخت بن چکا ہے اور پاکستان کی سرزمین پر اس کی جڑیں پھیل چکی ہیں۔ایسا صرف خلیل قیصر نے نہیں کیا بلکہ اس سے پہلے عبدالحلیم شرر نے اپنے ناولوں میں عیسائی لڑکیوں کو ایسے کاموں کے لیے استعمال کیا۔آخر میں انہیں مسلمان کرکے ان کی مجاہدوں سے شادیاں کروا دیں۔پھر نسیم حجازی کے ناولوں نے یہی کام کیا۔عیسائی لڑکیاں ایسے کاموں کے لیے کیوں موزوں ہوتی تھیں؟ اور پھر انہیں مسلمان کرنا کیوں ضروری ہوتا تھا‘ اس زمانے میں نقادوں نے سوال اٹھایاتھا یا نہیں؟ آج خوش کش حملہ آور عیسائی لڑکیاں نہیں ہیں۔کم عمر نوجوان ہیں اور وہ شہید نہیں ہوتے‘ وہ دہشت گرد ہوتے ہیں۔ہم کہاں سے چلے تھے‘ کہاں پہنچے۔ہاں یاد آیا۔۔۔خلیل قیصر کچھ عرصے بعد لاہور میں قتل کردیے گئے تھے ‘ یہ اندھا قتل تھا۔۔۔!!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *