قربانی کس کی ہماری یا کھیر کی؟

razia syed

آج پھر سے ہمارا ہنسنے ہنسانے کو دل کر رہا ہے ، خدا جھوٹ نہ بلوائے کم ازکم دو ہفتے تو ہو ہی گئے ہیں کہ ہم نے آپ کے چہروں پر مسکراہٹ نہیں دیکھی قارئین دیکھ لیں ہم پھر حاضر ہو ہی گئے بوتل کے جن کی طرح ۔۔

اب قصہ ہم کیا سنائیں ، آپ پڑھتے جائیں ہم لکھتے جاتے ہیں ۔ خیر ہماری کہانیاں کیا ہوں گی وہی ملا کی دوڑ مسجد تک یعنی اپنےمحلے کے قصے ہی سنائیں گے آپ کو ۔۔

پہلے تو ہم صبح اپنے گھر سے نکلے تو دیکھا کہ پوری گلی قربانی کے جانوروں سے اٹی پڑی ہے ۔اب جو نگاہ اٹھا کر دیکھا تو آنٹی نرگس ہیں تو وہ  بھی کونے کونے ہو کر کھڑی ہیں ، میں نے پوچھا ’’چلئے کہاں جانا ہے ؟‘‘تو بولیں کہ ’’ بیٹا کیا بتائوں ان لوگوں نے میری زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے ، لگتا ہے کہ کوئی مویشی منڈی کھلی ہوئی ہے اور دل ہے ڈرتا رہتا ہے کہ عید سے پہلے ہی کہیں وہیڑے کی ٹانگ نہ کھانی پڑ جائے  اور وہ بھی کچی ۔ ‘‘

اسکے ساتھ ہی انھوں نے خواجہ صاحب کو آواز دی ’’خواجہ او خواجہ جلدی باہر نکل ‘‘ خالہ کیا ہوا بتاو تو کیونکہ دن تھا اتوار کا اور خواجہ صاحب حسب معمول گھر پر ہی موجود تھے ۔ خالہ بولیں ’’خالہ کے کچھ لگتے جیسے تم ڈھیٹ ویسے ہی تمھارا ویہڑا ڈھیٹ ، بس ادھر ہم خواتین نکلیں نہیں ادھر اسکی ’ہے ہے ‘‘ شروع نہیں ہوئی دو تین دفعہ تو میرے ہاتھوں سے میرا پوتا گرتا گرتا بچا ہے اور میں سمجھی کہ پاک بھارت جنگ کا خدا نخواستہ بگل بج گیا ہے ، میری مانو تو اسکو ذبح ہی نہ کرو اسکی ’’غراری ‘‘ رمضان میں لوگوں کو جگانے کے کام آئے گی اور کچھ دیر مولوی بھی سکھ کا سانس لے لے گا ۔‘‘

’’ ارے خالہ اب بس بھی کرو پوری گلی میں سب کے جانور بندھے ہیں میرا یہ معصوم کلو ہی آپ کو نظر آرہا ہے خالہ تو کیا چپ کرنی تھیں کہ نوید صاحب باہر آگئے اور گویا ہوئے ’’ مجھے سمجھ نہیں آتی خالہ کہ یہ لوگ نمائش کیوں کرتے ہیں ، ایک جگہ کرائے پر لے کر وہاں سب جانور کیوں نہیں باندھ لیتے ، قربانی دیں یہ غلاضت بگھتیں ہم ، خدانخواستہ کانگو بھی اور تو اور خالہ یہ جو جانوروں کو شیروں کی طرح گلیوں میں دوڑائی جاتے ہیں وہ ۔ ‘‘

اب بولنے کی باری خالہ کی تھی ’’ابے او کاغذی شیر آپ مجھے کس خوشی میں خالہ بنا رہے ہیں ، خدا میری لمبی حیاتی کرے ، میں جب یہاں شادی ہو کے آئی تھی تب بھی تمھارا سلیم  پانچ سال کا اور گڈو گود میں تھا ، تم مجھے خالہ نہ کہو ، صرف یہ بتائو کہ خضاب کون سا لگاتے ہو ؟ ذرا ہم بھی جوانی کے مزے چکھ لیں ۔ اور ہاں سنا تو یہ بھی ہے کہ تم پاکستان جتنے ہو یعنی ستر کے اب ’‘ سترے بہترے ‘ ہو کے بھی ’’ چھنے کاکے ‘‘ بنو تو کوئی کیا کرے؟ ‘‘

ابھی اتنی گپ ہی لگ رہی تھی کہ قیصر میاں بھاگتے بھاگتے دکھائی دئیے اور ہمارے دروازے کی بیل اس قدر زور سے بجائی  کہ ہم سمجھے کہ شاید ’’ دیار غیر ‘‘ سے ہمارے لئے کوئی تحفہ آیا ہے َ‘‘ خیر دروازہ کھولنے پر ان کی حالت غیر تھی ، دو گلاس گلوکوز پینے کے بعد بولے ’’ باجی کیا بتائوں انکل سلیم  کا وہیڑا رسی تڑا کر بھاگ گیا اور میرے پیچھے ہی لگ گیا ۔‘‘ میری امی بولیں ’’ضرور تم نے ہی کوئی شرارت کی ہو گی اب وہ حیوان مال ہیں ، کھلی جگہوں کے عادی ہیں انھیں کیا معلوم کہ انھیں کہاں رکھا جا رہا ہے ۔؟‘‘

ابھی میں یہی روداد سن رہی تھی کہ دروازہ پھر سے بجا لیکن افسوس کہ کھولنے پر کوئی دکھائی نہ دیا ، خیر غور کرنے پر معلوم ہوا کہ بنٹو اورپپو ہمارے تھڑے پر سجدہ ریز ہیں اور منہ پر کھیر اسی طرح ملی ہوئی ہے جس طرح کسی کی سالگرہ پر کیک کی کریم ملی جاتی ہے ۔

خیر میں نے دونوں کو اٹھایا اور پوچھا کہ کیا ہوا تو بولے ’’آنٹی ماما نے پورے محلے میں کھیر بھجوائی تھی آپ کے لئے تو  زیادہ تھی کیونکہ آپ کو میٹھا پسند ہے لیکن ہمیں کیا پتہ تھا کہ سلمان کا پہاڑی بکرا مجھے ٹکر مار دے گا اور پلیٹٰں گر جائیں گی اتنی دیر میں پپو بولا کہ اسی وجہ سے میں بھی گر گیا باجی ۔ ‘‘

کھیر کی قربانی کا تو جو افسوس ہے سو ہے لیکن اسکے بعد میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی کہ آخر ہم کیوں اپنی خوشی کے لئے ہمسائیوں کا سکون برباد کرتے ہیں ؟ قربانی کے جانور تنگ گلیوں میں باندھ کر راہ گیروں کے صبر کا امتحان لیتے ہیں ؟ کیا ہم نمود و نمائش سے باز نہیں آسکتے ؟ کیا ہم ایک بڑا سا میدان کرائے پر لے کر ان تمام مویشیوں کو نہیں رکھ سکتے کہ جو ان کی دیکھ بھال والے افراد ہوں ان کی بھی چند دن کی روزی ہو جائے ؟ کیا ہم ہمیشہ قربانی کی اصل روح کو نہیں سمجھیں گے ؟

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *