جڑواں یا ؟ 

ashraf Gill

ویسے تو بہت سارے لوگ پاکستان کے مختلف شہروں سے متعلق یہاں ہمارے شہر فریزنو۔کیلیفورنیا میں آباد ہیں۔ مگر شاید میں اور امتیاز اتفاق سے ملتی جلتی عادات اور خیالات کی بنا پر ایک دوسرے کے قریب تر ہو گئے تھے۔ میں لاہور سے ہوں اور وہ فیصل آباد سے۔خیر سماجی۔ ادبی۔ و مذہبی محفلوں کی وساطت سے ہماری دوستی گاڑھی ہوتی گئی۔ کیونکہ ہمارادونوں کا ایک دوسرے کی الٹی سیدھی باتوں کو سننے اور بور نہ ہونے کا نظام انہضام کچھ اچھا تھا۔ ایک دن ہم دونوں کو دفتروں سے چھٹی تھی۔ ہم دونوں کے بچے جوان ہونے کی بنا پر اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گذارنے کہیں باہر تھے۔ ہماری بیویاں بھی گھر میں بیکار بحث سے دامن چھڑا کر بڑے سٹوروں پر ونڈو شاپنگ کرنے چلی گئی تھیں۔ اسلئے ہم دونوں کی فون پر کسی کی دخل اندازی نہ ہونے کی بنا پر باتوں کی مشینیں چالو ہو گئیں۔ بات چھڑ ی اپنی اپنی بیماری کے بارے ۔ امتیاز کو کچھ دن پہلے دل کی نسوں میں چکنا ہٹ کی افزائش کی بنا پر دل کا دوسری بار مسئلہ ہو گیا تھا۔ اور اسے مجبوراََ ہسپتال جانا پڑا۔ کچھ سال پہلے اسکی چھاتی کو کھول کر ایک سٹنٹ لگا یاگیا تھا۔ جس نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ اب اسکی ایک نس کو جسم کے کسی اور حصے سے لیکر دل کی نالی کے ساتھ لگا کر خون کی نالی کو بحال کرنا پڑا تھا۔چند دن ہسپتال میں رہنے کے بعد گھر میں واپس بھجوا دیا۔ اور پھر وہی احتیاطی تدابیر کا اعادہ کر دیا تھا۔ یہ کھاؤ وہ نہ کھاؤ ۔پرہیز جیسی نصیحات سے نوازا۔ جن پر کبھی کوئی بھی ابھی تک پورا نہیں اتر سکا۔ کیونکہ جو کچھ بھی کھاؤ۔ نمک اور شکر کے بغیر ممکن نہیں ہوتا نگلنا۔ اور وہی دونوں اشیاء ہماری صحت کی بد ترین دشمن گردانی جاتی ہیں۔ نہ ہی یہ دونوں جڑواں بہن اور بھائی ہماری زندگی سے نکلتے ہیں۔ اور نہ ہی ہمارے جسم میں خون کو اعتدال میں رہنے دیتے ہیں۔ امتیاز گو مجھ سے چھوٹا ہے۔ مگر دل کی بیماری یا اور کوئی عارضہ تو کسی کا لحاظ نہیں کرتا۔ میں نے اپنے نظر یئے سے سوچا۔کہ شاید اس نے جوانی میں دل نہیں لگایا ہو گا۔ کیونکہ اگر جوانی میں کسی سے دل لگا لیتا۔ تو دل کی ورزش ہوتی رہتی۔ جیسے محبوبہ کو یاد کرنا راتوں کی نیند کا خون کرکے۔ پھر کام پر جاکر حاضر ہو کر غیر حاضر رہنا۔ جیسے آنکھیں کمپوٹر کی سکرین پر جمی ہونا۔ مگر دیکھنا کچھ نہیں۔ چپڑاسی کی آواز پر ایک دم چونکنا۔ چپڑاسی کے چائے کا پوچھنے پر بے خیالی میں’ نہیں ‘کی جگہ’ ہاں‘ بول دینا۔ وغیرہ ۔۔یہ تما م دل کی ورزشیں ہی تو ہیں۔ امتیاز بظاہر شریف لگتا ہے۔ مگرمیں نے اس کے عشق وشق کے بارے سوال کر ہی ڈالا۔ فوراََ پھٹ پڑا۔ اور بولا۔ سلیم بھائی ۔ میں نے تو عشق کے سوا کیا ہی کچھ نہیں۔ عشق تو میری جوانی کا جزو خاص تھا۔ جیسے روٹی کے ساتھ سالن ۔ جھجھک اور شرم و حیا تو مجھ سے دور بھاگتی تھی۔کالج میں عشق بازی میں۔ فیل ہونے والوں میں ۔ نک چڑھی کلاس میٹ لڑکیوں کو پیار جتلانے میں۔بس فرسٹ ہی آتا تھا۔ دوست مجھ پر ایسی لڑکی سے بات کرنے کو شرط لگاتے۔ جن سے وہ جوتوں کی مالش کروائے ہوتے تھے۔میں نے کہا۔ چھوڑو یار۔ میں نہیں مانتا۔وہ بولا۔ یہی سچ ہے۔ سلیم بھائی۔ یہ سنتے ہی میری دقیانوسی سوچ بچار پر زد تو پڑی ہی۔ مگر زیادہ اپنی شرم و حیا کو ملعون کیا۔ اور زبان پر تُف کیا۔جو تب گنگ تھی۔ جب پیار جتلانا تھا۔ جتلایا نہیں۔ اور اب بے لگام ہو نے کی ڈینگیں مارتی ہے۔مجھے ہجر کی تلخی زبان کی بے زبانی نے ہی دی ۔
امتیاز نے بھی جواباََ مجھ سے چبھتا ہوا سوال کر ڈالا۔ جس کی مجھے توقع تھی۔ بولا ۔ آپ کے دل نے بھی توجوانی میں کسی شملہ پہاڑی جیسی چٹان سے اندھا دھند ٹکر مارکر نادانی کی ہوگی ۔ میں نے کہا۔ ڈیئر۔جونہی میری شرافت کی قید سے محبت نے بغاوت کی۔ اسکی ڈورتکلے پر کچے دھاگے کی مانند نکلی ۔جواچانک ٹوٹ گئی۔ میرا اظہار محبت ریت کی دیوار کی مانند تو تھا ہی۔ پھر ایک ہمدر دنما رقیب بیچ میں ’سنامی‘ جیسی باڑھ بن کر آیا۔اور ہمیں دو مختلف سمتوں میں جا گرایا۔ حسد تواسکا بھی ناکام رہا مگر میرے ارمانوں کا خون کر کے۔ مقابلہ تومیرے دل ناتواں نے خوب کیا۔ مگر نتیجہ وہی ناکامی ۔یوں سمجھو۔ جیسے۔ بدلے میں خطائے دل۔ گھٹنوں نے سزا پائی۔چار سال پہلے دائیں گھٹنے کو بدلوایا۔ جو جلد ہی صحتیاب ہو گیا۔ مگر جب بائیں کی باری آئی تو اس میں بار بار انفیکشن ہونے کی بنا پر ہسپتال میں بیس بائیس دن اپنا گھٹنا ہی نہیں بلکہ اپنی سانسیں بچانے کی سخت تگ و دو سے دوچار رہا۔ یہ ڈاکٹر کی لاپرواہی تھی۔ یا میرے بدن کے 'immune'سسٹم کا قصور۔میں تو بلا وجہ گرفتا بلا رہا۔ اپنے گھٹنے میں انفیکشن کے دوران ہسپتال میں جب اپنے کمرے میں ہی دوسرے بیڈ پر دل کی سرجری کے مریض کو چلتا پھرتا دیکھتا۔ تو سوچتا۔ کہ دل کا مریض ہی مجھ سے بہتر ہے۔جو چل رہا ہے ۔ مگر میں دل کا مریض بھی نہیں۔ مگر چل نہیں سکتا ہوں۔
ویسے بھی بھائی یہ عشق ‘ پیار ‘ محبت ایک امر بیل کی مانند ہے۔ جب دل میں اُگ آئے تو پھر اس کی شاخیں پھیلتی ہی چلی جاتی ہیں۔خیر ہماری جوانی کے زمانے اور ماحول میں کسی کو پیار کرنے کا حق ہی نہیں ہو تاتھا۔اگر ہو جاتا۔ تو محبوبہ سے اظہار کرنا۔ ہمالیہ سر کرنے کے برابر ہوتا تھا ۔تب لڑکوں میں حیا لڑکیوں کو بھی شرماتی تھی۔ آجکل تو پیار کریانے کی دکانوں یا بس سٹاپوں پر بلا قیمت یا بغیر ٹکٹ ملتا ہے۔ تب ’ڈر‘ نوجوانوں کو وراثت میں ملتا تھا۔ اور اسکی حفاظت امانت سنبھالنے جیسی تھی۔ جیسے ماں باپ کہتے: جو نہیں کرنا۔ بس نہیں کرنا۔ ان کے الفاظ قرآن و احادیث کے جیسے تھے۔ جب پوچھنا۔ اب سارے کام ہو گئے ہیں۔کیا کھیلنے جائیں؟ تب بھی یہی جواب ہوتا۔۔ آج نہیں۔کل۔ ۔۔ جونہی بڑے ہو ئے۔ تھوڑے بال و پر نکل آئے۔ ڈر کی گو سمتیں بدل گئیں۔ مگرڈر ایسے کھال میں رچ بس گیا تھا۔ جیسے : ایک کتے اور ایک بلی کا بچہ کھیلتے کھیلتے لڑ پڑے۔ بلی کے بلونگڑے نے پلے کوپنجامارا۔ کہ پلا زخمی ہو کر درد سے چوں چوں کرتا بھاگ گیا۔ کتا جوان بھی ہو گیا۔ مگر بلی کا سامنا کبھی نہ کر سکا۔ اب ڈر ایسے بدلا! جیسے رات کو دیر تک گھر کے باہرنہیں رہنا ۔ افسروں کی غیر ذمیدارانہ اور بلا وجہ احکام سے انکار پر نوکری سے جانے کا اندیشہ۔شادی کے بعد: بیوی نے اگر ماں کی من مانی نہیں مانی۔ تو اس کو طلاق دلوانے پر ماں کے روٹھنے کا ڈر۔ ’خوف ‘ نے گو میری زندگی کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھا ۔ مگر اسی خوف نے وہ طاقت بھی دی۔ جس کی بدولت شاندار مستقبل کی عظیم اور مضبوط عمارت استوار ہوئی ۔
ایک دن پاکستانی کمیونٹی کا یہاں کے بڑے پارک (Woodward Park) میں کوئی پروگرام تھا۔ ہم دونوں بھی انواع کے ذائقوں کے کھانے کے ساتھ سا تھ رنگا رنگ باتوں میں الجھے رہے۔ شام کے بعد پارٹی ختم ہوئی۔ پارک کی سڑک پر اپنی کار کی ہیڈ لائٹوں کے سامنے ایک سائن نے مجھے روکا۔سائن تھا: ("Lahore"! Sister city of "Fresno".) ۔ بعد میں اس وقت فریزنو کی میئر مس کیرن سے بات ہونے پر معلوم ہوا۔ کہ شہر فریزنو کی اور بھی بہنیں ہیں۔جن کے بارے سٹی کے دفتر میں تمام معلومات ہیں۔ ایسے کچھ تاریخی حقائق نظروں سے اوجھل رہ جاتے۔ کیونکہ ایسے مضامین کریدنے کیلئے لائبریریوں میں جا کر ضخیم کتابوں کو کنگھالنا پڑتا۔ بھلا ہو دو امریکن کمپیوٹر سائینس دانوں 'Larry Page & Surgey Brin' کا جن کی ملاقات'Stanford University' میں ہوئی ۔انہوں نے مِل کر 'Google.com' ۱۹۹۵ء ؁میں ایجاد کیا۔ ۱۹۹۶ء ؁ میں پروگرام لکھ کر ۱۹۹۸ء ؁ میں 'Menlo Park, California' میں اسکو لانچ کر دیا۔جس سے اب دنیا بھر میں کروڑوں لوگ اپنی ضروریات کی معلومات حاصل کر رہے ہیں۔مجھے اس ایجاد کے بارے لکھتے وقت اپنے ایک محسن کی تحریر یاد آ رہی ہے۔ جس میں ایک پروفیسر اپنے ملک کے خود ساختہ دو نمبر دانشور سے مباحثہ کرتے ہیں۔ جیسے پروفیسر صاحب اس بے شعور دانشور کوغیر ملکی موجدوں کے بارے بتاتے ہیں۔مگر وہ اپنے کٹڑپن کی اکڑ پراپنے ملک کے دو نمبر موجدوں کو نمبر ون بنانے پر مصر ہیں۔ مجھے 'Google' کے ذریعے سے 'Sister Cities International' کے بارے معلوم ہوا۔کہ اس سسٹم کی بنیاد امریکہ کے ۳۴ ویں صدر'Dwight D. Eisenhower' نے ۱۹۵۶ء ؁ میں رکھی تھی۔ پھر دنیا کے مختلف شہروں کے میئروں نے کچھ شہروں کو وہاں کے موسم اور تہذیب کی مماثلت کو دیکھ کر آپس میں اپنے اپنے شہر وں کی چابیوں کا تبادلہ کرکے بہنیں بنا لیا۔ تاکہ لوگوں کے آپس میں ثقافتی ‘سیاسی اور معاشی اثر و رسوخ سے استفادہ حاصل کیا جا سکے۔ 'Google' کے مطابق لاہور پاکستان کا مختصر خاکہ معلوم کیا۔ تو پتہ چلا کہ لاہور پاکستان کا دوسرا بڑا شہر تقریباََ ۲۰۰۰ سال پرانا ہے۔ ۱۹۹۸ء ؁ کی آبادی کے سروے کے مطابق اس کی آبادی: اکیاون لاکھ تینتالیس ہزار چار سو پچانوے (5,143,495) تھی۔محمود غزنوی و تغلق و سوری و خاندان غلاماں جیسے حملہ آوروں نے یہاں یلغاریں کیں۔ آخری مغل بادشاہ اورنگ زیب (۱۷۰۷۔۱۶۵۸)نے مشہور شاہی مسجد تعمیر کی۔ شالا مار باغ۔ شاہی قلعہ۔شاہ محمد غوث۔ شاہ جمال۔ گھوڑے شاہ۔موج دریا بخاری۔ شاہ ابو المعالی۔ مادھو لال حسین۔ حضرت میاں میر۔ داتا گنج بخش۔ مزار علامہ اقبال۔ماڈل ٹاؤن۔ گلبرگ۔ڈیفینس۔ پنجاب یونیورسٹی۔ علامہ اقبال ائرپورٹ۔ و دیگرعلاقے اور اولیا ء کی قبریں لاہور شہر کی مشہوری کا باعث ہیں۔ اب اس کی بہن کیلیفورنیا ریاست کے شہر’ فریزنو‘: کے بارے دیکھا۔ تو معلوم ہوا ۔ کہ ’فریزنو‘ سپینش لفظ 'Ash Tree' سے منسوب ہے۔ اس کی تشکیل ۱۸۵۶ء ؁ میں ہوئی، جب امریکہ کی دوسری ریاستوں سے لوگ 'Gold Rush' کے دوران اس علاقے یعنی ’سین واکین ویلی 'San Jaquin Valley' میں آئے۔ اور آباد ہوئے۔ ' Yosemite National Park', 'Wooward Park', Milerton Lake' Chafee Zoo'یہاں کے مشہور علاقوں میں ہیں۔اس شہر کی آبادی: ۲۰۱۶ء ؁ میں سروے کے مطابق (522,053) پانچ لاکھ بائیس ہزار تریپن تھی۔ شاید شہر’’لاہور‘‘ اور ’’فریزنو‘‘ آپس میں بہنیں یہاں کی آب وہوا کی کچھ مماثلت سے ہی روپذیر ہوئیں۔
ایک دن ہم دونوں محو گفتگو ہوئے۔تو میں نے امتیاز سے کہا۔ کہ تمہاری اور میری ہسپتالوں سے جان تو چھوٹ چکی ہے ۔ مگر اب تمہاری گھریلو نرس (بیوی) گھر میں کیسی دیکھ بھال کر رہی ہے؟ جھٹ سے گھٹن کا تالا کھولا اور بولا۔ سلیم بھائی! کیا بتاؤں۔ جب بچے چھوٹے تھے۔ تب سب اچھا تھا۔ میرا حکم اللہ دین کے چراغ کی مانند تھا۔بچوں کے بڑے ہو تے ہی بیگم کی عادات مدو جذر کی نذرہوگئیں ۔ بیگم کا میرے کھانے پینے میں احتیاط کا کہنا تو ٹھیک ہے۔ باقی تقریباََ میری ہر’ پسند‘ اب اس کی ’نا پسند‘ ہے۔ جیسے میری ایک پسندیدہ خرید کردہ قمیض بیگم کو پہلے ہی دن سے کھٹکتی تھی۔ بولتی رہتی۔ آپکو یہ قمیض بالکل اچھی نہیں لگتی۔ مگر میں سنی ان سنی کر دیتا۔ایک دن میں نے وہی قمیض پہن کر خاص دعوت پر جانا تھا۔ ہر جگہ تلاش کیا۔ مگر نشان ندارد۔ شاید اسے زمین نگل گئی تھی۔ بیگم سے پوچھنے پر جواب ۔۔مجھے کیا معلوم۔ چند ماہ جب اس قمیض کی صورتبھولنے والی تھی۔یکایک ناکارہ کپڑوں میں چیتھڑوں کی شکل میں میرا مونہہ چڑاتے ہوئے نمودار ہوئی۔ بیگم کو شاید اس قمیض سے کوئی الرجی تھی۔ بولی۔ یہ آپ کے پہننے کے لائق ہرگز نہیں۔ اس کا جھاڑن بنا لیا۔ مگر میں نے دیکھا۔وہ جھاڑن بھی کبھی استعمال نہیں ہوا۔
میں یہ سب خاموشی سے سنتا رہا۔ اور اندر ہی اندر مسکراتا بھی رہا۔وہ اور بھی کچھ بتانے والا تھا۔ میں نے بیچ میں ٹوک کر امتیاز سے پوچھا۔ مجھے یہ بتاؤ۔ کہ تمہیں میری بیگم کے بارے یہ سب باتیں کس نے بتائیں؟ وہ زور سے ہنسنے لگا۔ اور بولا۔ کہ بھائی صاحب: میں تو اپنی بیوی کے کارنامے سنا رہا ہوں۔ میں بھی ہنسا اور کہا۔ مجھے معلوم ہے۔ تمہاری بیوی تو امریکن ہے۔ اور یہاں کے کلچر کی پلی بڑھی بھی۔ میری تو سینٹ پر سینٹ خالص پاکستانی ہے۔ مگرکیا اتفاق ہے۔کہ ان دونوں کی عادات و اطوار ایک ہی جیسی ہیں۔میں نے بھی امتیاز کو اپنی بیگم کا ایسا ایک قصہ سنا ہی ڈالا۔ میں نے بتایا۔ کہ میں نے بیگم کو بغیر بتائے اسکی بیکار پڑی ہوئی گھومنے والی کرسی اپنے کمپیوٹر میز کیلئے لا کر کیا رکھی۔ کہ بیگم کی نظر پڑتے ہی تحکمانہ لہجے میں پوچھا۔ کیوں رکھی؟ میرے جواب کا انتظار کئے بغیر کرسی کو واپس رکھنے کو کہا۔ میں نے اپنے ملک کے سیاست دانوں کے فارمولے کے مطابق پہلے جھگڑا بمقابلہ جھگڑا کیا ۔ پھر پچکارا اور کچھ رشوت کا لالچ دیا ۔ تب کہیں کرسی کو بچانے میں کامیاب ہوا۔ یعنی دیکھا کہ ہماری بیگمات بھی گو دو الگ الگ ماؤں کی بیٹیاں ہیں۔ اسلئے جڑواں تو نہیں ہیں۔ اور نہ سگی۔ مگر کہیں جمع تفریق ضرب تقسیم کرنے سے بہنیں ضرور ہیں۔مجھے یہ بھی لگا۔ کہ عورتیں چاہے دنیا کے کسی بھی علاقے یا مذہب کی ہوں۔ ان کی عادات ایک دوسری سے کافی مماثلت رکھتی ہیں۔ جیسے ان کی بولنے کی عادات کے بارے۔ ایک مرتبہ ایک امریکن انٹرنیشنل ماہنامہ 'Reader's Digest' میں سب سے بڑے جھوٹ کے بارے پہلا انعام اس شخص کو ملا تھا۔ جس نے لکھا تھا: ’ کہ ٹرین میں دو عورتیں اکٹھی بیٹھی سفر کر رہی تھیں۔ مگر وہ خاموش تھیں۔‘۔۔۔اگرچہ یہ ایک بہت بڑا جھوٹ تھا۔ مگر کیا یہ سچ نہیں؟ کہ عورتوں کی فطرت میں کتنے متشابہات ہیں؟ ابھی جب میں یہ مضمون لکھ رہا ہوں۔ ایک خبر کسی ٹی۔ وی۔ چینل پر دیکھی۔ کہ یہاں کی ریاست 'Illinois' کے شہر 'Bolingbrook' کو پاکستان کے شہر سیالکوٹ۔پنجاب۔ کا 'twin city' قرار دیا گیا ہے۔ یہاں ’جڑواں‘ 'twin' کا استعمال کچھ عجیب سا لگتا ہے۔ کیونکہ 'twin' وہ بچے(چاہے بہنیں۔بھائی۔ یا بھائی اور بہن ہوں) کہلاتے ہیں جو کسی جاندار سے یکدم یا تھوڑے ہی عرصے بعد پیدا ہوئے ہوں۔ جو تصور امریکی صدر ’آئزن ہاور‘ نے شہروں کے بارے دیا۔ وہی زیادہ حقیقت کے قریب ہے۔ کیونکہ بین الاقوامی طور پر شہروں اور ملکوں کو مونث کے طور پر برتا جاتا ہے۔ تبھی شہروں کو 'sister sisters' کہا گیا۔ 'twin' نہیں۔اب یہ فیصلہ آپ پر چھوڑتاہوں۔ کہ آپ ایسی مثالوں کو مد نظر رکھتے ہوئے بتائیں ۔جڑواں 'twin' اور 'sisters' کا استعمال کہاں مناسب ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *