نجمی صاحب

                                                   nasir malik final

جنوبی سوڈان کے دورافتادہ اورانتہائی پسماندہ گاﺅں میں اقوام متحدہ نے امن مشن کے لئے ایک کیمپ قائم کیا تھا۔یہ دراصل ”کنٹینرز “ پر مشتمل ایک چھوٹی سی بستی تھی جس میں قریب پچاس ممالک کے باشندے آباد تھے جو امن مشن پر یہاں آئے تھے۔اس مشن کے لئے اس کیمپ میں ہماری پوسٹنگ ہوئی تو ہم خرطوم سے یو این کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے یہاں پہنچے۔اپنے کنٹینر میں سامان وغیرہ سیٹ کرنے کے بعد ذرا جائزہ لینے کے لیے باہر نکلے توہمیں اس وقت خوشگوارحیرت ہوئی جب معلوم ہوا کہ ہمارے ساتھ والے کنٹینر میں بھی ایک پاکستانی بھائی ہی رہائش پزیر ہیں جن کا اسم شریف نجمی صاحب ہے۔
نجمی صاحب سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا اور ان کی شخصیت ہمارے اوپرکھلنا ذرا شروع ہوئی تو ہم ،گویا،حیرتوں میں گم ہوتے چلے گئے۔نجمی صاحب ایک دھان پان سے آدمی تھے۔سرخ و سپید رنگت،عمر یہی کوئی پچپن کے قریب ۔۔پاکستان میں کسی سول محکمے میں سینئر عہدے پر فائز رہے،اوراب امن مشن پر ادھر سوڈان آئے تھے۔ نجمی صاحب آبِ حیات کو بھی ابال کر پینے والے آدمی تھے۔ نفاست آپکی شخصیت کی امتیازی صفت تھی۔ہم نے ان جیسا نفیس انسان زندگی بھر نہیں دیکھا۔بخدا اس قدر نفاست کہ دیکھنے والے کو گھِن آتی تھی۔ان کی شخصیت اس ”نفاست“ کی دبیز ،بلکہ، ”کثیف“ تہہ کے نیچے دب کے رہ گئی تھی۔ہاتھ دھونا ان کا پسندیدہ مشغلہ تھا۔چنانچہ دفتری معاملات اور چند دیگر امور نمٹانے کے بعد ہم نے انہیں صرف ہاتھ دھوتے ہی دیکھا ہے۔ہمارے کمروں سے کوئی پچاس گز دور مشترکہ باتھ رومز بنائے گئے تھے۔دِن رات کے اکثر اوقات میں ہم نے انہیں اسی راستے پر پایا۔۔ہاتھ دھونے جا رہے ہیں یا دھو کر واپس آ رہے ہیں۔کئی دفعہ ہم نے مشاہدہ کیا کہ ہاتھ دھونے کے بعد جو سب سے پہلا کام انہوں نے کیا وہ یہ تھا کہ دوبارہ ہاتھ دھونے جا رہے ہیں۔اتنی کثرت سے ہاتھ دھونے پر تو گماں گزرتا کہ کہیں وہ اپنے ہاتھوں سے ہی ” ہاتھ نہ دھو بیٹھیں“ ۔وہ شیکسپئرکے شاہکار ڈرامے "Macbeth"کے ایک کردار لیڈی میکبتھ جیسے تھے جس کے ہاتھ خون میں رنگے تھے اور وہ انہیں ہمہ وقت ہاتھ دھوتی رہتی تھی۔ لیکن نجانے نجمی صاحب کے ہاتھوں پر کونسی آلائشیں تھیں جو کسی طور دھلنے میں نہیں   آتی تھیں۔۔۔لیجئے! !نجمی صاحب ہاتھ دھو کر واپس آ گئے ہیں تو اب اپنے کمرے کا دروازہ کھولنا اک دوسری مصیبت ہے۔اب آپ کی پوری کوشش ہے کہ ہاتھ کی سیدھی سائڈ کسی چیز سے چھونے نہ پائے(کیونکہ ہر چیز آلودہ جو ہے۔) ۔آپ نے ایک ہاتھ میں ٹشو پیپر کی مدد سے صابن دانی ایسے تھامی ہوئی ہے جیسے مائیں بچوں کے استعمال شدہ ڈائپر پکڑتی ہیں۔ دوسرے ہاتھ سے ٹشو کی مدد سے اپنی جیب سے کمرے کی چابی نکال کر لاک کھولتے ہیں۔پھر ہاتھ کی پشت سے دروازے کا ہینڈل نیچے کرتے ہیں اور کہنی یا گھٹنے کی مدد سے دروازے کو ہلکی ٹھوکر لگا کر کھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔اسی کشمکش میں اکثر ایسا ہوتا کہ صابن دانی سے ”منحوس“ صابن لڑھک کر نیچے گر جاتا اور یہ گویا مصیبت کی انتہا ہوتی۔ ۔ آپ سر پٹختے،کسی نامعلوم مخاطب کو گالیاں دیتے ہوئے گرد آلود صابن دوبارہ اُٹھاتے اور پھر وہیںسے "U TURN" لے لیتےاور یوں پھر صابن اور ہاتھ دھونے کے تمام تکلیف دہ مراحل دوبارہ شروع ہو جاتے۔میں یہ  ابنارمل مشق روزانہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھا کرتا۔

Image result for washing handنجمی صاحب کو ہر طرف غلاظت،میل اور جراثیم نظر آتے تھے۔اپنی ذات سمیت ہر چیز کو آلودہ گردانتے تھے۔کسی کے ساتھ مصافحہ کرنا ان کے لئے بڑی مصیب تھی اور معانقہ تو موت کے برابر تھا۔ مصافحے سے حتی الوسع گریزکرتے لیکن اگر کبھی کرنا پڑتا تو خاصے پریشان ہو جاتے۔لیکن اگر انہیں کبھی اس وقت مصافحہ کرنا پڑتاجب وہ ہاتھ دھو کر واپس آ رہے ہوتے تو ان کی بے بسی و بے چینی دیدنی ہوتی۔پہلے تو وہ کسی کو آتا دیکھ کر مصافحے کے اذیت ناک مرحلے سے بچنے کے لئے طرح طرح کے بہانے تراشتے ۔وہ اپنا رستہ بدللیتے،وہیں رخ پھیر کر رک جاتے یا موبائل فون پر فرضی کال سننا شروع کر دیتے،وغیرہ وغیرہ۔لیکن آپ جانتے ہیں کہ بعض لوگوں کو ہر صورت مصافحہ کرنا ہوتا ہے۔چنانچہ، ان کے نزدیک،اگرکوئی ایسا ضدّی ملاقاتی ان کا تقریبا" ”محاصرہ “ کرتے ہوئے انہیں مصافحے پر مجبور کرتاتو وہ آخری حربے کے طور پر اپنے ہاتھ گیلے ہونے کا ظاہر کر کے کلائی اور کہنی کا درمیانی حصّہ (جو کہ شرٹ سے ڈھکا ہوتا)آگے کر دیتےکہ چل یہیں کہیں اپنی خواہشِ مصافحہ پوری کر لے اور چلتا بن۔اور ایسا کرتے ہوئے ان کے چہرے پر اک اذیت ناک مسکراہٹ ہوتی !! ایک ایسی مسکراہٹ جس کی مثال صرف مونا لیزا کی تصویر میں ملتی ہے ۔روایت ہے کہ مونا لیزاکی کمر میں خنجر گھونپا گیا،بے پناہ کرب کا اظہاراس نے اپنی لازوال مسکراہٹ سے کیا جسے مصوّر نے کینوس پر اتار کر امر کر دیا۔اس زبردستی کے مصافحے کے بعد، وہ ”ستم ظریف “تو اپنی راہ لیتاجبکہ نجمی صاحب دوبارہ ہاتھ دھونے چلے جاتے۔مصافحے کا یہ نظریہ بیچارے افریقی کالوں کے ساتھ کچھ اور  بھی  سخت تھا ؛ان کے ساتھ کبھی مصافحے کا ” حادثہ“ پیش آجاتا تو مسئلہ اور بھی بڑھ جاتا تھا، فرماتے تھے کہ’’ ان سے مصافحہ کرنے سے جو آلائشیں لگتی ہیں وہ صابن وغیرہ سے صاف نہیں ہوتیں۔ ہاتھ کو گھنٹہ بھر پھٹکڑی اور عرق گلاب میں ڈبو کر رکھتا ہوں تو تسلی ہوتی ہے‘‘
نجمی صاحب کو صفائی ستھرائی کے متعلق جس واحد چیز کے متعلق بھروسہ تھا وہ تھی ’’ٹشو پیپر‘‘۔ چناچہ ٹشو پیپرز کا بے دریغ استعمال کرتے‘ ٹشو کے مقابلے میں وہ اپنے ہاتھوں کو بھی آلودہ سمجھتے جنہیں سنبھالنے کی وہ ہزار احتیاط کرتے۔ اپنے ننگے ہاتھ سے صرف ٹشو کو چھوتے اور باقی کسی کبھی صاف یا خراب چیز کو پکڑنا ‘ چھونا ہو تو ٹشو استعمال کرتے۔دوسری جدید ایجادات کے برعکس ٹشو پیپر کو بہترین ایجاد قرار دیتے۔ ایک دن ہم نے ٹشو کے اس قدر استعمال اور اس پر ان کے اس قدر اعتماد کی طرف توجہ دلائی اور ان سے بڑے ادب سے پوچھا کہ ’’حضرت! کیا پتا ان کا میٹریل صحیح ہوتا ہے یا نہیں۔۔۔اور پراسس ٹھیک کرتے ہیں یا نہیں؟‘‘۔ اس پر انہوں نے پہلے تو ٹشو پیپر کی مینوفیکچرنگ کے دوران صفائی ستھرائی پر بڑی طویل اور گھمبیر تقریر کی ‘ جس سے میں جلدی متاثر ہوگیا تاکہ تقریر مزید لمبی نہ ہو۔ پھر میرے ذرا قریب ہوکرانہوں نے ٹشو پیپر میں لپٹا ہوا ہاتھ میرے کاندھے پر رکھا اور فرمانے لگے’’ملک صاحب! وہم کا کوئی علاج نہیں‘ صفائی ستھرائی کے بارے میں اس قدر بھی احتیاط نہیں کرنی چاہیے کہ زندگی اجیرن ہوجائے‘ کام اللہ توکل چلتا ہے‘ بابا آپ تو بہت ہی وہمی ہیں‘‘۔ میں نے فوراً اعتراف کیا کہ میں زیادہ وہمی ہوگیا تھا‘ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔اس دن میری اصلاح پر نجمی صاحب بہت خوش ہوئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *