معروف اداکار میکال ذوالفقار سے گپ شپ

حیدر رفعت

Haider Rifaat

میں نے کچھ عرصہ قبل ماڈل اور ایکٹر میقال ذوالفقار کا انٹرویو کیا جس میں ان کی ابتدائی زندگی، کیریر، اور آنے والے پراجیکٹس پر بات ہوئی۔ مجھے امید ہے آپ کو یہ انٹرویو بہت پسند آئے گا۔

اینکر: آپ نے ایکٹنگ کہاں سے شروع کی؟

میقال: میں نے ایک ماڈل کی حیثیت سے کیریر کا آغاز کیا اور پھر آہستہ آہستہ ایکٹنگ میں قدم رکھا۔ میں نے ایسی ویڈیوز اور کمرشلز کے لیے ماڈلنگ کی جو ایکٹنگ سے بہت قریب تھے۔ اس کے بعد مجھے کچھ پیشکشیں آنا شروع ہوئیں اور میں نے فلمی زندگی کا آغاز کیا۔ مجھے لگتا ہے کہ میں نے ایکٹنگ کو نہیں بلکہ ایکٹنگ نے مجھے منتخب کیا۔ میں نے اپنے آپ کو ایکٹنگ کی تربیت دینے کا سلسلہ جاری رکھا اور امید ہے کہ اب میں یہ تربیت کا سلسلہ مکمل کر چکا ہوں۔

اینکر: آپ کو لگتا ہے کہ پاکستان کی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں مقابلہ سخت ہے؟

میقال: جی ہاں ایسا ہی ہے۔ مقابلے کا ہمیشہ فائدہ ہوتا ہے اور انسان اپنی کارکردگی بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان میں ٹیلنٹ بہت ہے اور بہت سے لوگوں نے دنیا بھر میں اپنی اہلیت کو ثابت کیا ہے ۔ ہمیں اس چیز پر فخر محسوس کرنا چاہیے۔ ہمیشہ مقابلے کو مثبت طرح سے لینا چاہیے۔

اینکر: ہم نے آپ کو ابھی تک کسی فلم میں نہیں دیکھا۔ اس وقت آپ کسی فلم میں کام کر رہے ہیں؟

میقال: پاکستانی فلم میں میں نے ابھی تک کوئی کام نہیں کیا لیکن 4 بالی وڈ فلموں میں کام کر چکا ہوں اور کچھ فیسٹیول فلموں میں بھی شامل رہا ہوں۔ لیکن ابھی تک کوئی فیچر فلم پاکستان میں ریلیز نہیں ہوئی جس میں میں نے کام کیا ہو۔ اس وقت میں دو پراجیکٹس پر کام کر رہا ہوں۔ ایک فلم کا نام ہے 'نہ باجا نہ باراتی'۔ یہ ایک کامیڈی فلم ہے جس کی شوٹنگ کینیڈا میں ہوئی ہے۔ یہ فلم دو بھائیوں کے بارے میں ہے جو شادی سے بچنا چاہتے ہیں لیکن ان کی شادی کروا دی جاتی ہے۔ اس فلم میں ایک خاص سپن ہے جس کے حوالے سے میں بہت پرجوش ہوں اور فلم میں تمام نئے لوگوں کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ فلم اس سال ریلیز ہونے والی تھی لیکن ہم اس کی ریلیز کے لیے کوئی آئیڈیل تاریخ ڈھونڈ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ میں لاہور میں ایک فلم کی شوٹنگ میں مصروف رہا ہوں۔ مجھے اس کے بارے میں بتانے کی اجازت نہیں ہے لیکن میں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ آئی ایس پی آر کے تعاون سے بنائی جا رہی ہے۔ اس فلم کا ٹائٹل انگریزی میں ہے، دی ٹرائل۔ یہ 1971 کی پاکستان ٹوٹنے کے وقت کی لو سٹوری ہے ۔ اس کے علاوہ میں کچھ نہیں بتا سکتا۔ اس فلم میں ایک نوجوان ہیرو لیڈر کا رول مجھے دیا گیا ہے۔ ہم اس پراجیکٹ کا 70 سے 80 فیصد حصہ مکمل کر چکے ہیں اور اس سال کے اختتام تک یہ مکمل ہو جائے گی۔ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ 2018 کے آغاز میں ریلیز کی جائے گی۔ میں اس کے علاوہ بھی ایک دو منصوبوں پر کام کر رہاہوں۔

اینکر : آپ کا پسندیدہ ٹی وی رول کیا ہے؟

میقال: میں نے اس کا جواب کئی بار دیا ہے اس لیے لوگ یہ جواب سن کر بور ہو جائیں گے۔ میں جیمز بانڈ کے کردار سے بہت لگاو رکھتا ہوں۔ صر ف اس لیے کہ وہ جیمز بانڈ ہے جو ایک ایکشن ہیرو ہے اور کرشماتی شخصیت کا مالک ہے۔ میں اس کردار میں فلم میں آنا چاہتا ہوں۔

اینکر: ایکٹنگ اور ماڈلنگ میں سے زیادہ چیلنجنگ کونسی چیز ہے اور کیوں؟

میقال: مجھے لگتا ہے ایکٹنگ زیادہ مشکل ہے۔ وجہ یہ ہے کہ بولنا ایکٹنگ کا اہم جزو ہے اور ڈائلاگ بولنا ایک محنت کا کام ہے جب کہ کیمرہ کے سامنے کھڑے ہو کر پوز کرنا زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔ اگرچہ تخلیقی آرٹ اور پوزنگ یا تو انسان کے اندر قدرتی طور پر موجود ہوتی ہے یا انسان وقت کےساتھ سیکھ لیتا ہے۔ ماڈلنگ میں ہر حال میں اپنے آپ کو بہترین دکھانا ہوتا ہے جب کہ ایکٹنگ میں کوئی بھی کردار کیا جا سکتا ہے اور اس کی کوئی بھی منفی یا مثبت خوبیاں ہو سکتی ہیں۔ اس لیے یہ دونوں چیزیں بلکل مختلف ہیں۔ میں دونوں میں کام کر چکا ہوں لیکن میں ایکٹنگ کو ماڈلنگ سے زیادہ اہم سمجھتا ہوں ۔ یہ اوسط 70 اور 30 کی ہے۔ میں ایکٹنگ سے لطف اندوز ہوتا ہوں کیونکہ یہ زیادہ چیلنجنگ ہے۔

اینکر: اگر آپ ایکٹر نہ ہوتے تو کونسا پیشہ اپنے کیریر کے لیے منتخب کرتے؟

میقال : شاید میں کسی ملٹی نیشنل فرم یا کارپوریٹ سیکٹر میں ہوتا۔ یا شاید بزنس مین بن جاتا۔

اینکر: آپ پاکستانی ڈراموں میں کیا چیز تبدیل ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں؟

Image result for meekal

میقال: میں چاہتا ہوں کہ ڈراموں کی کہانیاں بدلی جائیں اور صرف گھر کے معاملات تک محدود نہ ہوں۔ ہمیں مختلف موضوعات پر توجہ دینی چاہیے اور دوسرے لوگوں کو بھی انگیج کرنا چاہیے۔ ہمیں آوٹ آف دی باکس سوچنا چاہیے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ڈراموں کا پورا حلیہ بدل دینا چاہیے۔ لیکن ہمیں نئے تجربات ضرور کرنے چاہیے۔

اینکر: آپ کو لگتا ہے کہ پاکستانی ڈراموں میں سٹیریوٹائپ کو دبانے کے بجائے پروان چڑھایا جاتا ہے؟

میقال: جی ہاں کچھ حد تک ایسا ہی ہے۔ لیکن یہ ڈرامہ ہے جس میں ایسے کردار ضرور ہوتے ہیں جن سے مداح پیار یا نفرت کریں۔ سٹیریو ٹائپ کو مختلف معاملات سلجھانے کےلیے ڈراموں میں شامل کیا جاتا ہے۔

اینکر: آپ مستقبل میں کہاں کام کرنے کا خواب دیکھتے ہیں، لالی وڈ، بالی وڈ یا ہالی وڈ؟

میقال: میں تمام بڑے اداکاروں کے ساتھ کام کرنا چاہتا ہوں۔ میں اب تک پاکستان سے باہر بہت سے بڑے ایکٹروں کے ساتھ کام کر چکا ہوں۔ ہر شخص اپنے فن کا خود ہی ماسٹر ہے۔ اس لیے میں یہ چاہوں گا کہ ان تینوں فلم انڈسٹریز میں جہاں موقع ملے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواوں۔

اینکر: کیا آپ نوجوانوں اور ابھر تے ہوئے ایکٹرز کو کوئی نصیحت کرنا چاہیں گے؟

Image result for meekal

میقال: میرا مشورہ ہے کہ جو موقع ملے اسے حاصل کرنے کے لیے اپنی پوری طاقت لگا دو۔ کوئی رول بڑا یا چھوٹا نہیں ہوتا۔ آپ خود اسے چھوٹا یا بڑا بناتے ہو۔ نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔ انہیں دیکھنا چاہیے کہ بڑے ایکٹر کیسے جذبات اور ایکسپریشن دکھانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ایک اور مشورہ یہ ہے کہ اگر ابھرتے ایکٹرز کو کوئی رول نہ ملے تو انہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ عام طور پر 10 چیزوں کی پیشکش آتی ہے اور صرف ایک میں بات بن پاتی ہے۔ یہ بزنس اسی طرح چلتا ہے۔ انسان کو مایوس نہیں ہونا چاہیے اور محنت جاری رکھنی چاہیے۔ مواقع ہمارا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ اور ہمیں ان کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہیے۔

میقال کی سخت محنت کرنے والی اور عاجز طبیعت قابل تعریف ہے اور ان کا انٹرویو لینا میرے لیے ایک اعزاز تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *