کیا ولیمے سے پہلے میاں بیوی کی ہم بستری ضروری ہے؟ ایک اہم ترین سوال کا شرعی جواب !

Image result for shadi

شادی کی تقریبات میں ولیمےایک ایسا عمل ہےجو مسنون ہے،یعنی نبیؐ نے اس کا حکم دیا ہے اور آپ نے خود بھی اپنی شادیوں کا ولیمہ کیا ہے۔اس کا سب سے بڑا مقصد اللہ کا شکر ادا کرنا ہے کہ اللہ نے زندگی کے ایک نہایت اہم اور نئے موڑ پر مدد فرمائی اور اسے ایک ایسا رفیق حیات اور رفیق سفر عطا فرمادیا ہے جو اس کے لیے تفریح طبع اور تسکین خاطر کا باعث بھی ہوگا اور زندگی کے نشیب و فراز میں اس کا ہم دم،ہم درداور مدد گاربھی ہوگا۔

حضرت زینب بنت جحش رضی اللہ تعالیٰ اور حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ دونوں کےساتھ نکاح کے بعد جب رسول اللہؐ نے خلوت فرمائی تو احادیث میں صراحت ہے کہ اس کے بعد دوسرے دن آپؐ نے ولیمہ کی دعوت کی۔ اس سے اسی بات کا اثبات ہوتا ہے کہ ولیمہ نکاح سے پہلے نہیں ہے، بلکہ نکاح کے بعدہونا چاہیے۔ البتہ شب باشی کے بعد دوسرے روز ہی ضروری نہیں بلکہ دو تین دن کے وقفے کے بعد بھی جائز ہے۔علاوہ ازیں ولیمے سے قبل خلوت صحیحہ بھی ضروری ہے یا نہیں یا اس کے بغیر ولیمہ جائز ہے؟ بعض لوگ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ ہم بستری سے پہلے ولیمہ جائز نہیں ہے، لیکن ایسا سمھجنا صحیح نہیں ہے ، کیوں کہ بعض دفعہ پہلی رات کو جب خلوت میں میاں بیوی کی ملاقات ہوتی ہے تو عورت کے حیض کےایام ہوتے ہیں، اس لیے ایسی حالت میں بوس و کنار سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا نیز کسی اور وجہ سے بھی بعض دفعہ ہم بستری نہیں ہو پاتی۔ اس لیے ولیمے کی صحت کے لیے ہم بستری کولازم خیال کرنا صحیح نہیں ہے ،مخصوص قسم کے حالات میں اس کے بغیر بھی ولیمہ صحیح ہوگا۔


courtesy:Muhaddisforum

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *