خانم بازار کی موتی طوائف

انتخاب: احمد فرید

khanam

عشاءکی نماز ہو چکی ہے۔ نمازی جامع مسجدشاہجہانی کے مختلف دروازوں سے نکل کر گھروں کو جا رہے ہیں۔ ایک دبلا پتلا میانہ قامت شخص قلعے کی جانب والے دروازے سے نکلتا ہے اور خانم بازار کی طرف چل دیتا ہے۔ وضع قطع میں عام سا آدمی لگتا ہے، مگر عام آدمی ہے نہیں۔ یہ وہ شخص ہے جس کا نام لال قلعے سے لیکر جھونپڑیوں تک ہر زباں پر ہے۔ گھر گھر اس کا چرچا ہے کہیں بھلائی سے کہیں برائی سے اور جیسا کہ اس دنیائے فانی کی ریت رہی ہے کہ بھلے لوگوں کو برائی سے یاد کرنے والے ہمیشہ زیادہ ہوتے ہیں، اس لئے کہ وہ انہیں ان کی غلطیوں پر ٹوکتے ہیں، انہیں نیکی اور بھلائی کی ترغیب دیتے اور حق پرستی اور اچھی باتوں کی تلقین کرتے ہیں، پھر ان لوگوںکے نزدیک حق کی تلقین اور باطل کی تردید سے بڑھ کر جرم اور کیا ہو سکتا ہے؟
یہی حال اس شخص کا ہے۔ یہ لوگوں کو قرآن وسنت کی طرف بلاتا اور بدعت و ضلالت کی تردید کرتا ہے۔ مسلمان جن غیر اسلامی رسومات میں جکڑے ہوئے ہیں اور جن کے بوجھ تلے ان کی کمر جھکی جا رہی ہے، ان کے خلاف آواز بلند کرتا ہے۔ انہیں کہتا ہے: اے اللہ کے بندو! جو بوجھ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تم پر نہیں ڈالا، اسے کیوں اٹھا رکھا ہے؟ وہ بوجھ جس نے تمہاری معاشرتی زندگی دوبھر کر دی ہے۔ یہ شخص ہر اس جگہ پہنچا ہے جہاں ابو الحسن علی ندوی رحمتہ اللہ علیہ کے الفاظ میں: ”آج تک سورج نہیں پہنچا تھا، جہاں جاہلیت کی رات تھی اور جہاں حق کی آواز نہ سنی گئی تھی“ جہاں بھی جاتا ہے حق کھول کر بیان کرتا ہے کسی قسم کی لاگ لپیٹ نہیں رکھتا، باطل کو باطل اور غیر اسلام کو غیر اسلام کہنے میں ذرا خوف نہیں کھاتا۔ اثر یہ ہوا کہ وہ لوگ اس کے دشمن ہو گئے ہیں جنہوں نے عام مسلمانوں کو مشر کا نہ عقائد، گوناگوں بدعتوں اور رسم ورواج کے جال میں پھنسا کر اپنی دکانیں چمکا رکھی ہیں۔ اسے سربازار گالیاں دی جاتی ہیں۔ دلی کے شہدے اور غنڈے اس کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور ہر وقت جان کا خطرہ رہتا ہے۔ دوست احباب اور خیر خواہ اس سے لوگوں کے اس ردعمل پر اظہار افسوس کرتے ہیں، تو کہتا ہے: ”بھائی یہ لوگوں کا قصور نہیں، ہمارے علماءکا قصور ہے۔ انہوں نے یہ باتیں ان کے سامنے کبھی واشگاف بیان نہیں کیں اور اب میری زبان سے سنتے ہیں تو انہیں وحشت ہوتی ہے۔“
یہ شخص کون ہے؟ شاہ محمد اسماعیل۔ اس خانوادے کے مایہ ناز رکن جس کے فیض سے برصغیر کا شاید ہی کوئی دینی حلقہ ایسا ہو جو محروم رہا ہو اور جس کا سلسلہ تلمذاس نامور خانوادے تک نہ پہنچا ہو۔ شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ کے پوتے شاہ عبد الغنی کے صاحبزادے اور شاہ عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ ، شاہ عبد القادر رحمتہ اللہ علیہ اور شاہ رفیع الدین رحمتہ اللہ علیہ کے بھتیجے۔ چونکہ ایک دنیا ان کی دشمن ہو چکی ہے، دہلی کے بدمعاش اور شہدے ان کے قتل کے درپے ہیں، اس لئے ان کے خاندان والے ان کی بہت حفاظت کرتے ہیں جہاں جاتے ہیں کوئی نہ کوئی ان کے پیچھے ہوتا ہے۔
شاہ اسماعیل رحمتہ اللہ علیہ جامع مسجد شاہجہانی کی سیڑھیوں پر پہنچتے ہیں تو پیچھے سے ایک سایہ لپک کر انہیں جا لیتا ہے۔ شاہ صاحب مڑ کر دیکھتے ہیں۔ یہ مولانا محمد یعقوب ہیں۔ شاہ عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کے نواسے وہ پوچھتے ہیں ”اسماعیل کہاں جاتے ہو؟ اس وقت تمہیں تنہا نہ جانے دونگا، جہاں جاﺅ گے تمہارے ساتھ جاﺅنگا“ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں میں ایک خاص کام سے جا رہا ہوں، مجھے جانے دو اور میرے ساتھ نہ آﺅ، مولانا یعقوب اصرار کرتے ہیں، مگر شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نہیں مانتے اور تنہا چل دیتے ہیں مولانا یعقوب بھی ذرا فاصلے سے ان کے پیچھے پیچھے ہو لیتے ہیں۔
شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ خانم بازار پہنچتے ہیں اور موتی نامی ایک مشہور رنڈی کے مکان کے سامنے جا رکتے ہیں پھر آواز دیتے ہیں تھوڑی دیر میں ایک لڑکی اندر سے نکلتی ہے۔ پوچھتی ہے تم کون ہو اور کیا چاہتے ؟“ وہ کہتے ہیں: ” فقیر ہوں۔ لڑکی اندر جاتی ہے اور جاکر کہتی ہے کہ ایک فقیر کھڑا ہے۔ رنڈی کچھ پیسے دیتی ہے کہ جاکر دے دے۔ لڑکی پیسے لاکر دیتی ہے کہ لو میاں یہ پیسے !“ شاہ صاحب کہتے ہیں: ” میں ایک صدا کہا کرتا ہوں اور بغیر صدا کہے کچھ نہیں لیتا اپنی بی بی سے کہو میری صدا سن لیں۔“ وہ جاکر ”فقیر“ کا پیغام دیتی ہے۔ رنڈی کہتی ہے: اچھا بلا لے ”وہ انہیں بلا کر لے جاتی ہے۔ شاہ صاحب صحن میں رومال بچھا کر بیٹھ جاتے ہیں اور سورہ وَالتِّینِ.... ثُمَّ رَدَدنَہُ اَسفَلَ سَافِلِینَ تک تلاوت فرماتے ہیں اتنے میں مولانا محمد یعقوب بھی آکر شاہ صاحب کے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ رات کا سماں، شاہ صاحب کی دل میں اترتی ہوئی پر تاثیر زبان اور پھر آیات الٰہی اس ماحول کے عین مطابق جس میں شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ حق کی دعوت پہنچانے آئے ہیں۔ ان آیات میں ذکر ہے کہ فطری جمال، جسمانی تناسب اور ذہنی صلاحیتوں کے اعتبار سے اللہ نے انسان کو تخلیق کے بہترین سانچے میں ڈھالا ہے، پھر اس کے جسمانی اور روحانی انحطاط کا تذکرہ ہے کہ جب وہ اس عظیم بلندی سے گرتا ہے، تو انتہائی پستیوں میں پہنچ جاتا ہے۔ ایسی پستیاں جن کے بعد کسی اور پستی کا تصور نہیں کیا جا سکتا شاہ صاحب کی آواز آہستہ آہستہ بلند ہوتی جاتی ہے۔ موتی کے گھر کی ساری رنڈیاں اور ارد گرد کے دوسرے لوگ جمع ہو چکے ہیں اور دم بخود سن رہے ہیں۔ شاہ صاحب انسان کی پیدائش اور اس کے اخلاقی عروج وزوال کا ذکر اس قدر بلیغ اور موثر انداز میں کرتے ہیں کہ جنت اور دوزخ کا نقشہ سننے والوں کی آنکھوں میں کھینچ جاتا ہے۔ دلوں کے پردے چاک ہو جاتے ہیں اور یہ اثر ہوتا ہے کہ سب چیخ چیخ کر رونے لگتے ہیں اور کہرام مچ جاتا ہے۔ عالم وارفتگی میں وہ اپنے ڈھول، ستار اور دوسرے آلات موسیقی توڑ دیتے ہیں۔ موتی اور اس کے ساتھ کئی اور رنڈیاں اور ان کے مرد گناہ کی زندگی سے تائب ہو جاتے ہیں۔رات بھیگ چکی ہے، چودھویں رات کا چاند سر پر کھڑا مسکرا رہا ہے اس کی نورانی کرنیں صحن میں چاندی بکھیر رہی ہیں۔ موتی کے گھر پر یہ چاندی پہلے بھی بکھرتی ہوگی مگر آج دلوں میں پھیلنے والے نور نے اس گھر کے ظاہر وباطن کو اجالے کی لہریں لیتے ہوئے سمندر میں نہلا دیا ہے۔ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ اٹھتے ہیں اور اپنا رومال کندھے پر ڈال کر اور گھر والوں کو سلامتی کی دعا دے کر چل دیتے ہیں۔ مولانا یعقوب بھی پیچھے پیچھے ہیں، دل ہی دل میں کٹ رہے ہیں کہ اتنے عالی گھرانے کا فرزند اور ایسے بدنام کوچے میں ! آخر دل کی بات زبان پر آجاتی ہے۔ شاہ صاحب جامع مسجد کی سیڑھیوں پر پہنچتے ہیں تو یہ ان سے جاملتے ہیں اور کہتے ہیں : ”میاں اسماعیل! تمہارے دادا ایسے تھے، تمہارے چچا ایسے اور تم ایسے خاندان کے ہو جس کو بادشاہ سلامی دے رہے ہیں مگر تم نے اپنے آپ کو بہت ذلیل کر لیا ہے، اتنی ذلت اچھی نہیں“۔ شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ ان کی طرف حیرت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں جیسے انہوں نے کوئی بہت ہی غیر متوقع بات کہہ دی ہو، پھر کھڑے ہو جاتے ہیں، ٹھنڈی سانس بھرتے ہیں اور کہتے ہیں: ” مولانا! یہ آپ کیا فرما رہے ہیں؟ آپ اس کو میری ذلت سمجھتے ہیں! یہ تو کچھ بھی نہیں۔ میں تو اس روز سمجھوں گا کہ میری عزت ہوئی جس روز دلی کے بدمعاش میرا منہ کالا کر کے اور گدھے پر سوار کر کے مجھے چاندنی چوک میں نکالیں گے اور میں پکار پکار کر کہہ رہا ہوں گا اللہ نے یہ فرمایا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا۔“ مولانا محمد یعقوب خود کہتے ہیں یہ جواب سن کر مارے شرم کے پانی پانی ہو گیا اور زبان بند ہو گئی اور اس کے بعد مجھے زندگی بھر ان سے آنکھ ملانے کی جرات نہ ہوئی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *