مردم شماری کے ابتدائی نتائج پر شور

photo-nusrat-javed-sb-6-2

پاکستان کی اصل بدنصیبی یہ ہے کہ اس کے باسیوں کو حقوق وفرائض والے شہری ہمارے دائمی حکمران ماننے کو تیار نہیں۔ ”قومی مفاد“ میں وہ کچھ فیصلے سوچتے ہیں۔ ان فیصلوں کو Top Downانداز میں ہمارے اوپر مسلط کردیا جاتا ہے۔
دائمی حکمرانوں کی حماقتوں اور من مانیوں کا مقابلہ محض طویل سیاسی جدوجہد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ہمارے ”سیاست دانوں“ کو مگر سب کچھ آتا ہے سیاست نہیں۔وہ کسی Inclusiveپیغام کے ذریعے سیاسی جماعتیں منظم کرنے کی بجائے ذات، برادری،عقیدے،زبان اور نسل کی بنیاد پر اپنے لئے ”ووٹ بینک“ بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ اپنے ”تشخص“ کو اجاگر اور برقرار رکھنے کو بضد یہ ووٹ بینک والی سیاست قوم کو بالآخر اندھی نفرتوں اور عقیدتوں میں تقسیم کرنے کے بعد خانہ جنگی کی طرف لے جاتی ہے۔
حالیہ تاریخ میں لبنان میں یہی تو ہوا تھا۔ 1970ءکے آغاز میں پاکستان دو لخت بھی اسی بنیاد پر ہوا۔ ان دنوں عراق اور شام بھی Identity Politicsکی وجہ سے خون آلود ہوئے کامل انتشار کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔
آج کے دور میں کوئی جدید ریاست یہ جانے بغیر قومی ترقی اور فلاح کا کوئی منصوبہ بناہی نہیں سکتی کہ اس کے زیر نگین شہریوں کی کل تعداد کیا ہے۔ اس تعداد کو طے کرنے کا عمل مردم شماری کہلاتا ہے۔ اکبر اعظم کے دور میں ٹوڈرمل جیسے نابغوں کی بدولت یہ عمل اس خطے میں متعارف ہوا تھا۔ برطانوی سامراج نے اپنا اجارہ قائم کرنے کے بعد اسے جدید تر بنایا۔
کسی بھی شہر کے بارے میں انگریز ڈپٹی کمشنروں کے لکھے گزیٹرزاٹھالیجئے۔ آپ کو بہت وضاحت کے ساتھ بتادیا جائے گا کہ اس شہر میں کل کتنے لوگ رہتے تھے۔ حتمی گنتی کے علاوہ آپ کو اس شہر میں مختلف پیشوں اور آمدنی کے اعتبار سے تقسیم کے حوالے سے بھی ٹھوس اعدادوشمار مل جاتے ہیں۔ بہت محنت اور خلوص سے جمع کئے ان اعدادوشمار کی صداقت پر کبھی کسی شخص نے سوالات نہیں اٹھائے تھے۔
آج کی نام نہاد Digital Ageمیں لیکن ہماری ریاست اور اس کے دائمی وعارضی حکمران مردم شماری کے عمل سے فرار کے بہانے ڈھونڈنتے رہے ہیں۔ آخری مردم شماری ہمارے ہاں 1998ءمیں ہوئی تھی۔ 2008ءمیں اس عمل کو دہرانا ضروری تھا۔ عوام کے ”حقیقی نمائندوں“ پر مشتمل حکومت مگر اس فرض سے بھاگنے کے بہانے ڈھونڈتی رہی۔ 2013ءکے بعد نواز حکومت نے بھی یہی چلن اختیار کیا۔ بالآخر سپریم کورٹ نے از خود اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے ریاست کو اپنا ایک بنیادی فریضہ نبھانے پر مجبور کردیا۔
سپریم کورٹ کے ایک حکم کی تعمیل میں ہوئی مردم شماری والا عمل اب مکمل ہوچکا ہے۔ جب اس کام کا آغاز ہوا تو ہمارے ہمہ وقت مستعد رہنے کے دعوے دار 24/7چینلوں نے اس کے طریقہ کار پر مناسب توجہ ہی نہ دی۔پانامہ کے بہانے ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کی جدوجہد میں مصروف رہے۔ ”ڈالر گرل“ کے جسم پر بنے Tatooدکھاتے رہے۔
مردم شماری کے عمل کے بارے میں اصل خدشات بلوچستان کے بلوچوں اور سندھ میں اُردو بولنے والوں کو لاحق تھے۔ بلوچ ان دنوں بہت ہی محب وطن ہوکر خاموش رہنا سیکھ گئے ہیں۔اُردو بولنے والوں کا ”طوطا“ کئی دہائیوں سے لندن میں مقیم ہے۔ 22اگست 2016ءکی وجہ سے نازل ہوئی خاموشی کے بعد اس کا بنایا ”ووٹ بینک“ خود کو لاوارث سمجھنے پر مجبور ہے۔ مصطفےٰ کمال نامی ایک شخص نے ”کمال کی ہٹی“ کھول کر اسے سرپرستی فراہم کرنے کی کوشش کی۔ کمال کے ”سرپرست“ مگر ”ووٹ بینک“ کو اچھے نہ لگے۔ بالآخر فاروق ستار کو مہلت مل گئی کہ وہ ایم کیو ایم (پاکستان) کے ذریعے اس ”ووٹ بینک“ کو کسی نہ کسی طرح زندہ رکھے۔ اس ووٹ بینک کو مگر ”روح کوتڑپادے“ والا کوئی پیغام نہیں مل رہا تھا۔
وفاقی حکومت کے محکمہ شماریات نے مردم شماری کے جو ابتدائی نتائج پیش کئے ہیں،اس نے فاروق ستار کی مشکلات آسان بنادی ہیں۔ حقائق خواہ کچھ بھی رہے ہوں،سندھ ہی نہیں بقیہ پاکستان کی بے پناہ اکثریت بھی یہ طے کرچکی ہے کہ شہر کراچی کی آبادی تین کروڑ سے کم ہوہی نہیں سکتی۔ حالیہ مردم شماری کے ابتدائی نتائج کے مطابق اس شہر کی آبادی سے مبینہ طورپر ”کم از کم“ ڈیڑھ کروڑ افراد ”غائب“ کردئیے گئے ہیں۔ کیسے؟! اس سوال کا جواب مجھے کوئی دینے کو تیار ہی نہیں ہورہا۔
اپنی بات کو مزید بڑھانے سے پہلے میں یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ مجھے کراچی سے مردم شماری کے نتائج کے خلاف اُٹھی آوازوں کے بارے میں کوئی متعصبانہ تحفظات نہیں ہیں۔ میں ان کی شکایات کو کھلے ذہن کے ساتھ سمجھنا چاہتا ہوں۔ بڑے خلوص اور ٹھنڈے دل کے ساتھ کوئی سمجھانے کو تیار تو ہو۔
ذرا منطقی انداز میں بات کریں تو آج کے Digitalدور میں گھر گھر جاکر Dataاکٹھا کرنا مردم شماری کے لئے حتمی طریقہ تسلیم ہی نہیں کیا جاسکتا۔ 1975ءسے ہمارے ہاں قومی شناختی کارڈ متعارف ہوچکا ہے۔ نادرا کے ذریعے انگوٹھے کے نشان سمیت CNICملتے ہیں۔
ابتداءمیں ہماری آبادی کی بے پناہ اکثریت نے اس عمل میں دلچسپی نہیں لی تھی۔ووٹوں کے اندراج،موبائل فونوں کے حصول اور پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنسوں کی ضرورت نے انہیں یہ کارڈ حاصل کرنے پر مجبور کیا۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی وجہ سے غریب اور ان پڑھ عورتیں بھی یہ کمپیوٹرائزڈ کارڈز حاصل کرنے پر مجبور ہوئیں۔
CINCکے حصول کے لئے فارم(ب) کو پُر کرنا بھی ضروری ہے۔ نادرا کے ذریعے CNICکے اجراءکے نظام میں یقینا بہت خامیاں ہوں گی۔ طالبان کا ملامنصور اس کی بدولت ”ولی محمد“ بن کر پاکستانی پاسپورٹ بھی حاصل کرلیتا ہے۔ اس کا قصہ مگر مستثنیات میں شمار ہونا چاہیے۔
بنیادی حقیقت یہ ہے کہ نادرا کی بدولت ہمارے پاس وہ بنیادی Dataبالکل موجود ہے جو ہمیں یہ بات طے کرنے میں آسانی فراہم کرے کہ پاکستان کے کتنے شہریوں نے اپنے شناختی کارڈز پر کراچی میں واقع کسی مکان کو اپنا ”مستقل پتہ“ بنایا۔ ایسے لوگوں نے فارم (ب) میں کتنے لوگوں کو اپنے کنبوں کا رکن قرار دیا۔
حالیہ مردم شماری کے ابتدائی نتائج کے بارے میں احتجاجی شور بلند کرنے سے پہلے فاروق ستار کو کم از کم نادرا کے ذریعے یہ Dataاکٹھا کرنا چاہیے تھا۔ یہ Dataسیاسی وابستگیوں سے بالاتر مردم شماری کے علم سے باخبر Demographersکے روبرو رکھ کر ہی ہم ٹھوس اعدادوشمار کی بنیاد پر یہ طے کرسکتے ہیں کہ حالیہ مردم شماری کے ابتدائی نتائج ہمارے لئے قابلِ قبول ہوسکتے ہیں یا نہیں۔ ایسی تحقیق کے بغیر ان نتائج کے بارے میں مچائی دہائی محض ووٹ بینک کی سیاست ہوگی جس کا انجام بہت خوفناک اور بھیانک بھی ہوسکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *