"یہود و ہنود گٹھ جوڑ افغان پالیسی" اور پاکستانی قوم 

شاھد نسیم چوھدری

shahid nasim

ماضی میں ایک ڈکٹیٹر کے دور میں امریکہ سے ایک دھمکی آمیز کال آئی تھی،اور ڈکٹیٹر سے پوچھا گیا تھا کہ آپ نے افغان پالیسی پر ہمارا ساتھ ہماری شرائط پر دینا ہے یا پھرپتھروں کے دور میں واپس جانا ہے، تو "ون مین شو" کمانڈو صاحب نے اس فون کال پر فوری ڈھیر ہوتے ہوئے امریکہ بہادر کے پہلے آپشن کا "من و عن "انتخاب کیا، اور انکی شرائط پر انکا ساتھ دیتے ہوئے دوسروں کی جنگ میں اپنی قوم کو جھونک دیا، اور اس وقت کے کمزور فیصلے کے نتیجے میں اپنے ہزاروں فوجی جوان اور شہری اس جنگ کی بھینٹ چڑھا دئے، اور کمانڈو دوسروں کی لڑائی اپنے گھر میں لے آیا،آج پھر اسی امریکہ کے صدرنے یہود و ہنود گٹھ جوڑ کے تحت پاکستان کو دھمکی آمیز پیغام دیا،نئی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان پر دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کاکا الزام اور افغانستان میں بد امنی کا ذمہ دار قرار دیا، اور ڈو مور کیلئے کہا.... ، جس کو وزیر اعظم پاکستان، جمہوری حکومت ، پاک فوج کے جمہوریت پسندسپہ سالار اور پوری قوم نے جوتی کی نوک پر رکھتے ہوئے نہ صرف مسترد کردیا، بلکہ حکومت نے وزیر خارجہ خواجہ آصف کا طے شدہ امریکہ کا دورہ بھی ملتوی کر دیا،تاریخ میں پہلی بارپاکستان کے غم وغصے کا اظہار اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آج سوموار کے دن طے شدہ پروگرام کے مطابق امریکہ کی معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز نے بھی خطے کے چھ روزہ دورے پر پاکستان پہنچنا تھا، لیکن پاکستان کی غیور حکومت اور فوج نے ان حالات میں امریکہ کی معاون وزیر خارجہ کی میزبانی سے صاف انکار کر دیا، اور دو ٹو ک کہا کہ ان سے ملاقات کیلئے کسی پاکستانی آفیشل کے پاس ٹائم نہیں ہے،....، اور آئندہ کیلئے بھی اگر پاکستان میں آنا ہوگا تو پروگرام طے کرنے اور اجازت لینے کے بعد آنا ہو گا،اچانک آنے پر کسی قسم کا بھی پروٹوکول نہیں دیا جائیگا،.بس !! یہی فرق ہوتا ہے ایک جمہوری حکومت اور ڈکٹیٹر کی حکومت میں...،واضح رہے کہ امریکی حکومت نے اپنی معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز کے دورہ پاکستان کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا تھا،ایلس ویلز نے ٹرمپ کی نئی افغان پالیسی پر بات کرنا تھی،لیکن پاکستان کی نیشنل سیکورٹی کونسل کے اجلاس میں امریکی دھمکیوں کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ سب سے پہلے امریکہ پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرے،اور اس اجلاس میں اس بات کو بھی اجاگرکیا گیا کہ ٹرمپ نے پاکستان کو اربوں ڈالر دینے کے حوالے سے بھی غلط بیانی سے کام لیا ہے،پاکستان کو دی جانے والی رقم ہماری فضائی اور بری حدود کے استعمال کے بدلے میں ہے، جبکہ ہماری قربانیاں اس سے کہیں زیادہ ہیں جسکا کوئی مول نہیں ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان پر الزامات کے بعد چین،روس اور ایران نے بھی پاکستان کی حمایت کر دی،اور امریکہ کو واضح پیغام دیا کہ وہ خطے کے ممالک میں مداخلت اور انکو ڈکٹیٹ کرنے سے باز رہے،چین،روس اور ایران نے امریکہ کی نئی افغان پالیسی پر کھلے الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ آج جس چیز کی وجہ سے دوسرے ملکوں کی مذمت کر رہا ہے، وہ خاص کرافغانستان میں غیر مناسب پالیسیوں،موقع پرستانہ و من مانی حکمت اور مداخلت پسندانہ اقدامات کے نتیجے میں خود ذمہ دار ہے،اور اسکی اسی قسم کی پالیسیوں کی وجہ سے علاقے میں بحران،تشدد،کشیدگی،دہشت گردی اور انتہا پسندی بڑھی ہے اور وہ افغانستان میں ناکام و نامراد ہو گیا ہے، جسکا ملبہ وہ پاکستان پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے،پاکستان کی منتخب حکومت نے بھی ٹرمپ کے تمام الزامات کو دبانگ دہل مسترد کردیا، پوری پاکستانی قوم ٹرمپ کے الزامات اور دھمکیوں پر ایک ہو گئی ہے،پورے ملک میں امریکہ کے خلاف ریلیاں نکلنا شروع ہو گئی ہیں، ٹرمپ اور مودی کے پتلے جلائے جا رہے ہیں ،اسکے خلاف نفرت کااظہار کیا جا رہا ہے،ماضی میں اگرڈکٹیٹر امریکہ کی ایک فون کال پر ڈھیر نہ ہو جاتا تو آج پاکستان کے نتائج مختلف ہوتے ،لیکن ڈکٹیٹر کی حکومت اور جمہوری حکومت میں یہی فرق ہوتا ہے،اب اگر بات ہو گی تو عزت و توقیر کے ساتھ ہوگی،برابری کی بنیاد پر ہو گی،ٹرمپ کو شاید علم نہیں کہ ہماری قوم باوجود تمام اختلافات کے "یہود و ہنود "کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے،اور پاکستانی قوم کو اپنی بہادر فوج پر بھی فخر ہے،ہماری بہادر فوج راتوں کو جاگتی ہے اور پوری قوم چین کی نیند سوتی ہے،اپنی دھرتی ماں کی حفاظت پاک فوج کا نصب العین ہے،ایمان تقوہ اور جہاد فی سبیل ا للہ اسکی بنیاد اور نعرہ تکبیر ۔اللہ اکبر اس کی اساس ہے،پاکستانی فوج نے اپنی صلاحیتوں اور تکنیکی مہارتوں کا پوری دنیا کو اعتراف کرنے پر مجبور کر دیا اور باور کرایا کہ پاکستانی فوج دنیا کے ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کی اہل ہے،جنرل قمر جاوید باجوہ کی ولولہ انگیز قیادت اور پاکستانی فوج کے جوانوں نے پوری دنیا میں ثابت کر دیاکہ جیسے بھی حالات ہوں وہ ہر طرح کے حالات میں اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھانے کی اہلیت رکھتے ہیں پاک فوج دنیا کی بہترین فوجوں میں سر فہرست ہے جو اپنے جذبہ ایما نی کی بدولت ایمان،تقوہ اور جہاد فی سبیل ا للہ ے سر شار ہے، اور پھر اب تو پاکستان ایٹمی طاقت بھی ہے، جسکو زیر کرنا ناممکنات میں سے ہے، بطور دنیا کی نمبر فوج کا اعزاز حاصل کیا اور ا پنے وطن عزیز کا سر پوری دنیا میں فخر سے بلند کیا، اور پاکستانی فوج کی دھاک پوری دنیا پر واضح کر دی اور دشمن کو پیغام دیا کہ جو ہم سے ٹکرائے گا پاش پاش ہو جائے گا،اس کی داستان تک نہ ھو گی داستانوں میں، امریکہ کے دھمکی آمیز رویے پر وزیر اعظم پاکستان شاھد خاقان عباسی، پاک فوج کے جمہوریت پسند آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور پاکستان کے بائیس کروڑ عوام ایک ہی صفحہ پر ہیں ،وہ ہے وطن کے دفاع کا،اسکی عزت و ناموس کا اور پاکستان کی توقیر کا.......،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کو دھمکیوں او ر ہرزہ سرائی پر ساری قوم اپنے اختلافات بھلا کر یہود و ہنود گٹھ جوڑ افغان پالیسی کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن گئی ہے اور دنیا کوپیغام دیا کہ ہم اپنی دھرتی ماں کادفاع کرنا جانتے ہیں،اور اگر باوجود اس تنبیہ کے "یہود و ہنود" گٹھ جوڑ نے پاکستان پرکوئی ناپاک جسارت کرنے کی کوشش کی تو پھر نعرہ تکبیر اللہ و اکبر...جہاد فی سبیل ا للہ سے تو پوری دنیا واقف ہی ہے....،اور پھر پاکستانی قوم سے بھی "کوئی "خیر کی امید نہ رکھے......!!کیونکہ پاکستانی قوم بھی اللہ کے فضل سے دنیا کا نقشہ بدلنے کی اہلیت رکھتی ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *