مردم شماری پر اُٹھتے اعتراضات

 شہزاد حسین بھٹی

shehzad hussain bhatti

کوئی بھی ملک اُ سوقت تک ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا جب تک اس ملک کی آباد ی کے درست اعداد و شمار معلوم نہ ہوں۔ ملک کی آبادی کا تعین مردم شماری کے عمل سے ہی ہو سکتا ہے۔ مردم شماری کے تحت حاصل ہونے والے مواد اور اعدادوشمار کے ذریعے محققین اور تجزیہ کار معاشرے کے مختلف امور پر معاشی اور معاشرتی عوامل کے وقوع پذیر ہونے یا ختم ہونے سے پیدا ہونے والے رجحان کی نشاندہی اور مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔
ٓ آئین پاکستان کے تحت ملک میں ہر دس سال کے بعد مردم شماری و خانہ شماری لازم ہے لیکن انتہائی افسوس اور مقام شرمندگی ہے کہ ہم قیام پاکستان کے بعدسے لے کر اب تک صرف چھ بار مردم شماری کروا سکے۔ پہلی مردم شماری 1951، پھر بالترتیب 1961، 1972، 1998,1981 اور آخری بارمارچ/اپریل 2017 میں ہوئی۔ یہ ہمارے حکمرانوں کی غفلت اور کوتاہی ہے کہ وہ تواتر کے ساتھ مردم شماری کرانے میں ناکام رہے، جسکا خمیازہ آج پاکستان مسائل کے انبار کی صورت میں بھگت رہا ہے۔
پاکستان کی آبادی تیز رفتاری کے ساتھ بڑھ رہی ہے، پاپولیشن کونسل کی مرتب کردہ فہرست کے مطابق پاکستان آبادی کے لحاظ سے چھٹا بڑا ملک ہے اور اگر اسی رفتار سے آبادی بڑھتی رہی تو 2050 میں پاکستان آبادی کے لحاظ سے پانچویں نمبر پر آجائے گا۔پاکستان میں چھٹی مردم شماری عبوری نتائج کے مطابق ملک کی آبادی 20 کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار پانچ سو بیس افراد پر مشتمل ہے۔یہ اعدادوشمار پاکستان کے ادارہِ شماریات نے جمعے کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں پیش کیے ہیں۔ان اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 19 سالوں کے دوران ملک کی آبادی میں 7,54,22,241افراد کا اضافہ ہوا ہے جو کہ 57 فیصد اضافے کے برابر ہے۔اعدادوشمار کے مطابق ملک کی موجودہ آبادی میں مرد اور خواتین کا تناسب تقریباً برابر ہے اور مردوں کی تعداد خواتین کے مقابلے میں صرف 51 لاکھ زیادہ ہے۔
مردم شماری میں پہلی بار خواجہ سراؤں کو بھی گنتی میں شامل کیا گیا تھا جن کی تعداد 10418 بتائی گئی ہے۔ خواجہ سراؤں کی سب سے زیادہ تعداد صوبہ پنجاب میں تقریباً سات ہزار جبکہ سب سے کم تعداد فاٹا میں 27 ہے۔ابتدائی نتائج میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں آبادی میں اضافے کی اوسط سالانہ شرح دو اعشاریہ چار فیصد رہی ہے۔ پنجاب اور سندھ میں اس شرح میں کمی آئی ہے جبکہ بلوچستان، خیبر پختونخوا اور فاٹا میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔مردم شماری کے نتائج کے مطابق آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب ہے جو ملکی آبادی کا نصف سے زائد ہے۔اعداد و شمار کے مطابق پنجاب کی آبادی 11 کروڑ ہے جس میں دیہی آبادی تقریباً سات کروڑ ہے جبکہ چار کروڑ یا تقریباً 37 فیصد لوگ شہروں میں مقیم ہیں۔ 1998 ء میں پنجاب کی آبادی سات کروڑ سے زیادہ تھی۔
آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا صوبہ سندھ ہے جو پونے پانچ کروڑ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں دو کروڑ 49 لاکھ مرد، جبکہ دو کروڑ 29 لاکھ خواتین بستی ہیں۔باقی صوبوں کی نسبت سندھ میں آبادی کا بڑا حصہ شہری علاقوں میں مقیم ہے، جو صوبے کی کل آبادی کا 52 فیصد ہے۔خیبر پختونخواہ کی آبادی پونے چار کروڑ ہے۔ وہاں بھی مرد و خواتین کی تعداد تقریباً برابر ہی ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا میں 81 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں مقیم ہے جبکہ فاٹا کی کل آبادی 50 لاکھ بتائی گئی ہے۔بلوچستان میں کل آبادی ایک کروڑ 23 لاکھ سے زائد ہے۔ جہاں 64 لاکھ سے زائد مرد اور خواتین کی تعداد 58 لاکھ سے زائد ہے۔تازہ اعداد و شمار کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی آبادی 20 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ادارہ شماریات کے مطابق اسلام آباد میں شہری آبادی میں کمی جبکہ دیہی علاقوں میں اضافہ ہوا ہے۔ 1998 میں اسلام آباد میں شہری آبادی تقریباً 66 فیصد تھی جو اب کم ہو کر تقریباً 51 فیصد رہ گئی ہے۔واضح رہے کہ ان اعداد وشمار میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے نتائج ابھی شامل ہونا باقی ہیں۔
اب ضرورت اس امر کی ہے کہ انتخابی حلقہ بندیوں میں آج کی صورتحال کو مدِ نظر رکھ کر نشستوں کی فراہمی ممکن بنائی جائے ناں کہ ماضی کے مطابق۔ ماضی میں ہونے والی مردم شماریوں پر بھی اعتراض اٹھائے گئے۔ 1961 میں ہونے والی مردم شماری پر مشرقی پاکستان کی جانب سے یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ ان کی آبادی کو کم ظاہر کرکے ان کے وسائل پر ڈاکا مارا جارہا ہے۔ اسی طرح 1982 میں بھی کراچی کی آبادی کو کم ظاہر کیا گیا اور سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جس پر اس وقت کے سیکرٹری داخلہ محمد خان جونیجو نے اس بات کا اعتراف کیا کہ انہوں نے وفاق کے دباؤ پر کراچی کی آبادی کے اعداد و شمار میں رد و بدل کیا۔ 1991 کی مردم شماری بھی سیاست کی نظر ہوگئی تھی اس وقت بلوچستان اور کراچی کی آبادیوں میں غلطیاں اور تضاد پایا گیا تھا۔1998 کی مردم شماری کو آج تقریباً اٹھارہ سال ہو چکے ہیں، چھٹی مردم شماری 2008 میں ہونا تھی مگر اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت نے مردم شماری کرانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔
موجودہ مردم شماری کے عبوری نتائج پر ابھی سے سیاسی جماعتوں کی جانب سے اعتراضات سامنے آنے شروع ہو گئے ہیں جوکہ خوش آئیند علامت نہیں۔ایم کیو ایم پاکستان نے مردم شماری 2017ء کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کی آبادی کم دکھاکر یہاں کی رہنے والی تمام قومیتوں کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مردم شماری میں شہر کی آبادی 1کروڑ 60 لاکھ دکھائی گئی ہے جبکہ کراچی میں 3کروڑ کے قریب لوگ رہتے ہیں۔حالیہ مردم شماری میں شہر کی آبادی سے 1کروڑ 40لاکھ لوگوں کو لاپتا کردیا گیا ہے،وہ 2017ء کی مردم شماری کو مسترد کرتے ہیں اور ادارہ شماریات کی مذمت کرتے ہیں۔اسی طرح پاک سرزمین پارٹی نے بھی مردم شماری کے ابتدائی نتائج کو مسترد کر تے ہوئے کہا کہ مشرف دور میں کراچی میں اٹھارہ ٹاؤن بنائے گئے تھے جن کے مطابق کراچی کی مجموعی آباد ی 02 کروڑ سے زائد تھی جبکہ نئے اعداد و شمار کے مطابق یہ آبادی کم ہو کر صرف ایک کروڑ چالیس لاکھ رہ گئی ہے۔اسی طرح سندھ حکومت خصوصاً پیپلزپارٹی اور دیگر چھوٹی جماعتوں نے بھی ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ جسکی شاید سب سے بڑی وجہ قومی مالیاتی کمیشن میں صوبے کا حصہ کم ہوناہے ۔ علاوہ ازیں حلقہ بندیاں بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اور بجائے بڑھنے کے کم ہونے کا امکان ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت فوری طور پر تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے اور انکی جانب سے پیش کر دہ تحفظات کو دورکرے۔
مردم شماری کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم ہوتی ہے اور عوامی ضروریات کے مطابق منصوبوں کیلئے وسائل مختص کئے جاتے ہیں۔ یہ بالکل واضح ہے کہ کوئی بھی ملک اپنی آبادی کے درست اعداد و شمار کو جانے بغیر ترقی نہیں کرسکتا۔لیکن کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں مردم شماری کے نتائج کو درست اور حقیقت پر مبنی تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا؟ تعصب اور نسلی امتیاز کو کیوں ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے۔ ہمارا نظام شفاف کیوں نہیں ہو سکتا کہ کہ اس اعدادوشمار کی چھلنی پر سب کو اعتماد ہو۔ اعتراضات کی ضرورت کیوں پیس آتی ہے؟ یاد رکھیں اگر کوئی سیاسی جماعت اپنے مفاد کی خاطر اعدادوشمار میں ہیر پھیر کرتی ہے تواس کے نتائج انتہائی بھیانک ہو نگے۔ہم ایک قوم ایک قوت اور ایک جان تب ہی ہونگے جب ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد ہو گاوگرنہ آنے والی نسلیں اس معاف نہیں کریں گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *