بائسویں گریڈ کا ملازم ۔ کبھی سوچا؟ 

tariq ahmed
جب بائسویں درجے کا ایک سرکاری ملازم اس جدید ترقی یافتہ، تعلیم یافتہ اور جمہوری دنیا میں اپنے ھی وزیراعظم کے برابر بیٹھنے کو اپنی شان سمجھتا ھے۔ اسے سیلیوٹ کرنے میں اپنی توھین سمجھتا ھے۔ اپنے ھی وزیراعظم کے اختیارات کو غصب کر لیتا ھے۔ کرپشن اور احتساب کے نام پر منتخب حکومت کو یرغمال بنا لیتا ہے ۔ قید اور پھانسی اور قتل کی سزاؤں سے ڈراتا ھے۔ اور ان پر عمل بھی کر گزرتا ہے ۔ سزا اور جزا کی پالیسی سے جوڑ توڑ کرتا ھے۔ تقسیم کرتا ہے اور حکومت کرتا ھے۔ غیر ملکی سفارتی وفود سے ملاقاتیں فرماتا ھے۔ غیر ملکی سفارتی دورے کھڑکاتا ھے۔  دباؤ، لالچ اور بلیک میلنگ سے عدلیہ اور میڈیا کو اپنا غلام بنا لیتا ہے ۔ جنگی ترانوں اور جنگی تقریروں سے پوری قوم کے ذھن کو یرغمال بنائے رکھتا ھے۔ معاشی فورمز پر کلیدی لیکچر دیتا ھے۔ اپنے آپ کو رہنما کہلوانا پسند کرتا ھے۔ اپنے آپ کو ھیرو بنا کر پیش کرتا ھے۔ باقی سب کو زیرو بنانے کے چکر میں پڑا رھتا ھے۔ اور اس تمام تر پروپیگنڈے کے باوجود عوام اس کے جھانسے میں نہیں آتے۔ باھر کی دنیا اسے مجبورا" قبول کرتی ھے۔ جب یہ ریٹائر ھوتا ھے۔ تو باھر کے ملکوں میں نوکری تلاش کرتا ھے۔ یا گم ھو جاتا ھے۔ لوگ اسے فراموش کر دیتے ھیں ۔ بائسویں درجے کا یہ سرکاری ملازم، اس ترقی یافتہ، جدید ، جمہوری دور میں جب یہ سب کچھ کرتا ھے۔ تو اس کا اپنا ظمیر کہاں ھوتا ھے؟ اس کا اپنا پڑھا لکھا ، تعلیم یافتہ ذھن کہاں ھوتا ھے ؟ یہ کیسے ممکن ھے۔ ایک بائسویں درجے کے ملازم کو یہ احساس ہی نہ ہو کہ وہ غیر آئینی و غیر قانونی کام سر انجام دے رھا ھے۔ وہ ایک ناجائز قابض ھے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس کی پالیسیاں اس ملک کو مسلسل نقصان پہنچا رھی ھیں ۔ کہیں ایسا تو نہیں وہ ایمانداری سے سمجھتا ھے۔ وہ جو کر رھا ھے۔ وھی درست ھے۔ اس کے ادارے نے اسے یہی سمجھایا ھے۔ کہ اس ملک کے سیاستدان اور سویلینز نا اہل ھیں ۔ ان پر اعتبار اور اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔ وہ ایک ایسا محب وطن ھے۔ جو دل و دماغ سے سمجھتا ھے۔ اس ملک کے مسائل کا حل اس کے پاس ھے۔ اور اس کے تمام ماتحت اور پورا ادارا بھی یہی سمجھتا ھے۔ یار کبھی کسی نے ان ملازمین کی تحلیل نفسی کرکے دیکھا ھے۔ ان کے تحت الشعور  میں کیا ھے۔ آخر ایک سترہ اٹھرا سال کے نوجوان کی عمر ھی کیا ھے۔ جب وہ ادارا جوائن کرتا ھے۔ محض ایک بچہ۔ یہ بچہ اسی ادارے کی گود میں پل کر جوان ھوتا ھے۔ زندگی کے بے شمار سال ایک ھی جیسی تربیت حاصل کرتا ھے۔ ایک خاص مائنڈ سیٹ کا حامل بن جاتا ہے ۔ اس کے دل و دماغ  میں قوم پرستی ، حب الوطنی، ایمانداری، اور بھارت دشمنی کے جذبات اٹوٹ ھوتے ھیں۔ وہ خود کو ایفی شینٹ اور عقل کل سمجھتا ھے۔ ضرورت پڑنے پر اپنی زندگی قربان کر دیتا ھے۔ جبکہ اس کو مسلسل یہ بتایا جاتا ھے۔ تم نے جن کے لیے اپنی زندگی قربان کی۔ وہ کرپٹ ھیں۔ نااہل ھیں ۔ چور اور ڈاکو ھیں۔ یار وہ ایک بچہ ھی تھا۔ جب اس نے ادارا جوائن کیا۔ ھم نے کبھی اس کا ذھن پڑھنے کی کوشش کی۔ کبھی اس کی تحلیل نفسی کی۔ ایک بائسویں درجے کا ملازم اور اس کے ماتحت کئ دھائیوں سے ایسا کیوں کر رھے ھیں ؟ اور آخر اس کا حل کیا ھے ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *