جنرل میک ماسٹر اور منی سکرٹس

رافعہ زکریا

Jeremy Hogan | Herald-Times Rafia Zakaria is a Pakistani native, mother, lawyer, PhD student, advocate of women's rights and a critic of honor killings in Pakistan.

یہ سب منی سکرٹس کی وجہ سے ممکن ہوا۔ پچھلے کئی ماہ سے امریکی صدر کو اس کی فوجی قیادت یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہی تھی کہ افغانستان میں مزید فوج بھیجی جائے تا کہ طالبان کو طاقت حاصل کرنے سے باز رکھا جا سکے۔ ٹرمپ ایسا نہیں چاہتے تھے کیونکہ انہوں نے امریکیوں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ پہلے امریکہ کو اپنی شان و شوکت کے دور میں واپس لائیں گے اور امریکیوں سے نفرت کرنے والوں کے لیے عمارتیں، سڑکیں اور سکول تعمیر نہیں کیے جائیں گے ، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو امریکیوں کو اندھا کر رہے ہیں اور امریکی فوجیوں پر شب خون مارتے ہیں۔ پھر انہیں منی سکرٹس دکھائی دیں ۔ امریکی جنرل میک ماسٹر نے ایسی تصویر ڈھونڈ نکالی جس میں 1972 کی تین افغان خواتین کو منی سکرٹس میں ملبوس دیکھا جا سکتا تھا۔ یہ 1972 کا واقعہ تھا جب ابھی روس بھی افغانستان میں داخل نہیں ہوا تھا۔ صدر ٹرمپ خواتین کی منی سکرٹس والی تصاویر پر بہت توجہ دیتے ہیں ۔ اس لیے اچانک صورتحال بدلنے لگی۔ ٹرمپ بھی افغان خواتین کی حمایت میں جنگ کو نئی شکل دینے کے لیے تیار ہو گئے۔

Image result for afghan girls in skirts

نتیجتا" افغان جنگ کو جاری رکھنے، نئے فوجی جوانوں کو افغانستان بھیجنے کا فیصلہ فوری طور پر کر لیا گیا۔ امریکہ کا یہ خیال کہ منی سکرٹ خواتین کی آزادی کی علامت ہے کوئی نیا نہیں ہے۔ 9/11 حملے کے بعد کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے کیرولائن میلونی نے کہا تھا کہ امریکی خواتین کو ہاؤس کے اندر نیلے رنگ کا افغان برقعہ پہننا چاہیے۔ انہوں نے خود برقعہ پہن کر پارلیمنٹ میں آنے کے بعد اسے اتار کر کہا کہ وہ اسے پہن کر بہت ظلم کا شکار محسوس کرتی ہیں۔ اس طرح امریکہ کی جنگ کی خواہش مند قیادت نے اپنے فیمنسٹ نظریے کو دوبارہ عیسائیت کا رنگ دیا۔ اس کے بعد کانگریس کے حامیوں نے اسی نیلے برقعہ کو استعمال کرتے ہوئے ملک کو بموں کا نشانہ بنانے کی حمایت حاصل کی اور افغان جنگ کو خواتین کی آزادی کا رنگ دیا۔ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ افغان خواتین کو پہلے سے ہی آزادی دلائی جا چکی ہے اور یہ کام امریکی افواج کے علاوہ کسی دوسری طاقت نے کیا ہے۔ جب سوویت یونین نے 1979 میں افغانستان پر حملہ کیا تو انہوں نے بھی دعوی کیا تھا کہ وہ خواتین کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ لیکن وہ غلط تھے۔ یہ انکشاف مشہور مصنف ڈورس لیسنگ نے کیا جو اصل افغان خواتین کا انٹرو یو لے رہی تھیں۔ ایک اینٹی سوویت لیڈر عامر محمدی نے اس دوران دعوی کیا کہ خواتین کو روس سے آزدی مل رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خواتین خود برقعہ پہننا چاہتی ہیں تو انہیں کیوں روکا جائے اور اگر وہ جینز پہننا چاہیں تو یہ بھی ان کی اپنی مرضی پر منحصر ہے۔لیکن سوویت فورسز نے ان کی بات پر کان نہیں دھرے۔ ان کے لیے ممکن نہیں تھا کہ وہ اسی بات پر عمل کرتے ہوئے اپنا قبضہ چھوڑ کر واپس چلے جائیں جیسا کہ اس وقت امریکہ کے لیے ناممکن بنا ہوا ہے۔ اس وقت بھی منی سکرٹ خواتین کی آزادی کا ہتھیار بن گئی اور آج ایک بار پھر اسی موضوع نے افغانستان کو جنگ کا میدان بنا رکھا ہے۔ برقعہ پہننے والی خواتین کی وجہ سے افغانستان بموں اور گولیوں کا نشانہ بنا ہوا ہے۔ یہ صرف ٹرمپ اور میک ماسٹر ہی نہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بموں سے خواتین کو آزاد کیا جا سکتا ہے۔ اس سال جون تک فیمنسٹ میجورٹی فاونڈیشن جو امریکہ کی سب سے بڑی فیمنسٹ تنظیم ہے ، کانگریس سے مطالبہ کر رہی تھی کہ افغانستان پر قبضہ برقرار رکھا جائے۔ ان کا نقطہ نظر یہ تھا کہ امریکہ کے قبضہ کے بعد افغان خواتین بہت آزاد اور طاقتور ہو چکی ہیں۔ افغانستان کی مظلوم خواتین کی طرف سے ایک شاندار تبدیلی دیکھنے کو ملی جس کی وجہ امریکی کانگریس میں موجود خواتین کی کمٹمنٹ اور خلوص سے بھری کوششیں تھیں جنہوں نے جنگ کے لیے 800 بلین ڈالر کا بل پاس کروایا۔

اس جارحانہ تقریر کے بعد باقی ممبران کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں بچی تھی جس کی بنیاد پر وہ افغانستان پر قبضے کی مخالفت کر سکتے۔ کسی کو یہ ہمت نہ ہوئی کہ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کی طرف توجہ دلاتے جس میں بتایا گیا ہے کہ 2009 سے 2014 تک افغانستان میں خواتین کے خلاف طاقت کے استعمال میں 400 فیصد اضافہ ہوا۔ نہ ہی کسی کواقوام متحدہ کی وہ تازہ ترین رپورٹ یاد آئی جس کے مطابق مالی امدا د کے وعدوں سے افغان خواتین کی زندگی پر کوئی مثبت اثر نہیں پڑا اور آج بھی افغان خواتین کو نفرت اور تعصب کا سامنا رہتا ہے اور ہر وقت وہ تشدد کے خطرے میں رہتی ہیں۔ کانگریس ممبران یہ بھی بھول گئے کہ 2001 سے اب تک افغانستان میں 1 لاکھ سے زیادہ سویلین مارے جا چکے ہیں۔ امریکہ کے فیمنسٹ ، خاص طور پر ایف ایم ایف کے نمائندے میکماسٹر کے اس نظریے سے متفق ہیں کہ افغانستان جنگ کو جاری رکھنا بہتر ہے، قبضہ کرنا اور بھی اچھا ہے اور خواتین کی آزادی کی جنگ کا نظریہ ہر ملک تک جنگ کی خاطر پھیلایا جا سکتا ہے۔

طاقت کے بل پر فینمزم اور منی سکرٹ کی آزادی ایک ایسا جھوٹ ہے جو امریکہ کے افغان بیانیہ پر صاد ق آتا ہے۔ اگر جنرل میک ماسٹر نے ایک فوٹو کا استعمال کیا ہے تو دوسرے لوگوں نے انسانوں کے استعمال کیا ہے جن میں ان خواتین کی این جی اوز شامل ہیں جنہیں امریکہ کی طرف سے ڈالر دیے جاتے ہیں۔1972 میں جینز پہننے والی خواتین سے لیکر 2017 میں برقعہ پہننے والی افغان خواتین تک تمام افغان خواتین کو ملک میں جنگ لڑنے اور قبضہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ پینٹا گون کے لیے اب یہ فیشن بن چکا ہے کہ افغانستان میں خواتین کا جتنا لباس مختصر ہو گا ، جنگ اتنی ہی طویل ہوتی جائے گی۔


Courtesy:https://thebaffler.com/alienated/mcmaster-miniskirts-zakaria?utm_content=buffer12b82&utm_medium=social&utm_source=twitter.com&utm_campaign=buffer

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *