ایک لڑکی جو بھاگ رہی تھی

محمد نذر

Mohammad Nazar Syed

اس نے بتایا ۔ ۔ ۔ ۔ اگست کی رات تھی اور بہت ٹھنڈ تھی۔ چاند آنکھ مچولی کھیل رہا تھا۔ ہم کئی رات سے سفر کر رہے تھے اور اب اپنی منزل کے قریب تھے۔ جس ٹاون میں ہم رکے تھے اس کے بارے میں ہمیں کچھ پتہ نہ تھا۔ کبھی اس کا بھی ایک نام تھا لیکن تقسیم کے فیصلے کے بعد اس کا نام ختم ہو گیا۔ وہاں بہت سمارٹ اور توہم پرست لوگ رہتے تھے۔

میں اپنے سامان سمیت ایک جھونپڑی میں داخل ہوئی ۔ یہاں بہت اندھیرہ تھا۔ صرف چاند کی کچھ روشنی اندر آ رہی تھی۔ میں نے چٹائی ایک کونے میں رکھی اور سامان چٹائی پر رکھ دیا۔پھر میں نے قدموں کے نشانات مٹائے اور دروازہ بند کر دیا۔ کھڑکی سے کوئی روشنی نہیں آ رہی تھی ۔ جب سے ہم نے سفر شروع کیا تھا ، دو ہفتے سے ہمارا سب سے بڑا دشمن روشنی تھی۔ روشنی میں دشمن ہمیں دیکھ لیتے اور حملہ کر دیتے۔ ہمارے ساتھ بچے تھے جو چل نہیں سکتے تھے اور بوڑھے بھی تھے جنہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا۔ ہم ان بچوں اور بوڑھوں کو بچا نہیں پاتے تھے۔ ہم رقم نہ ہونے کی وجہ سے ٹرین پر بھی نہیں جا سکتے تھے۔ یہ ایک اچھی بات ثابت ہوئی کیونکہ جو لوگ بھی ٹرین پر گئے ان کی لاشیں ہی پہنچ سکیں۔ عائشہ جو میری دوست تھی ایک ٹرین پر ہی گئی تھی۔ اچانک میں اپنی دنیا میں واپس آئی تو آس پاس خون ہی خون سے لت پت دیواروں نے مجھے حیران کر دیا۔ باہر سے لوگ رائفلز لیے گھوڑوں پر دوڑتے آ رہے تھے۔ میں نے پہلے لیٹ کر چھپنے کا سوچا پھر خیال آیا کہ اب پاکستان جا کر ہی سونا ہے۔ میں دو ہفتوں سے نہیں سوئی تھی اور میرا پکا ارادہ تھا کہ پاکستان پہنچ کر ہی دم لوں گی۔

اس سفر کے دوران ہمارے پاس کھانے پینے کی اشیا بھی وافر مقدار میں موجود نہیں تھیں۔ پچھلی رات ہمارا سامان ختم ہو چکا تھا۔ کچھ بچے کھچے ٹکڑے پڑے تھے جن پر مجھے گزارہ کرنا تھا ۔ جب میں کہیں رکتی تو میری بھوک اور پیاس سے بری حالت ہو جاتی۔ میں نے فیصلہ کیا کہ رکنا فضول ہے۔ مجھے یقین تھا کہ ہوائیں اور بادل پاکستان کی طرف سے آ رہے تھے۔ اس لیے بہتر تھا کہ میں انہیں ہواوں کا پیچھا کروں۔

میرا منہ اتنا خشک تھا کہ مجھے لگتا تھا میری زبان سینڈ پیپر کی بنی ہوئی ہے۔ میں اٹھ کھڑی ہوئی۔ شاید میں پیاسی ہونے کی بجائے بے چین زیادہ تھی۔ میں نے بیگ پیک کیا اور جھونپڑی سے نکل کھڑی ہوئی۔ آسمان اب بھی کالا تھا لیکن سورج کے قریب آنے کی وجہ سے افق پر روشنی پھیلنے لگی تھی۔ بھوک اور پیاس کی وجہ سے چلنا مشکل ہو رہا تھا۔ لیکن مجھے معلوم تھا کہ کچھ دیر ہی کی بات ہے اور میں بہت جلد بارڈر پار پہنچ جاوں گی۔ پھر سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ میں نے اپنی چٹائی بھی جھونپڑی میں چھوڑ دی تھی کیونکہ مجھے پکا یقین تھا کہ اس کے بعد میں گھر یعنی پاکستان میں میٹرس اور تکیے پر سو پاوں گی۔ یہ سوچ کر میرا حوصلہ بڑھا اور میں چلنے لگی۔ یہ چٹائی میرے لیے ایک بوجھ تھا اور اس کی مدد سے دشمن مجھے آسانی سے دیکھ سکتا تھا۔ جب ہم چل رہے تھے اسی سامان کی وجہ سے پناھ گزینوں اور مہاجروں میں ہم فرق دیکھ سکتے تھے۔ ریت گرم تھی لیکن ہر قدم کے ساتھ مجھے سردی محسوس ہو رہی تھی۔ شاید یہ ارض پاک کا کمال تھا۔ ہم قریب پہنچ رہے تھے۔ سامنے ایک بہت بڑا افق تھا۔ میں ریت کو آسمان سے ملتا دیکھ سکتی تھی۔ چاچا نے بتایا تھا کہ جب ریت ختم ہو گی اور درخت دکھائی دیں گے تو اس کا مطلب آپ پاکستان میں ہو۔ سفر لمبا ہے لیکن اس کےبعد امن کی زندگی ہے۔

چاچان نے کہا تھا: "پاکستان ایک جنت ہے۔ کشمیر کے پہاڑآسمان کو چومتے ہیں اور وہاں کے لوگ بادلوں میں رہتے ہیں۔ پاکستان کے لوگ جنت کے باسی ہیں ، وہاں کی زمین ان خیالی کہانیوں جیسی ہے جسے تم مایا سے سنتی ہو۔ بارڈر پہنچتے ہی مسلم کیمپ پنجاب کیولکیڈ کا انتظار کر رہا ہو گا۔ آپ اس کا حصہ ہوں گے۔ لاکھوں لوگ آپ کو خوش آمدید کہیں گے۔ "

میں پہلے سے خوش آمدید کہنے والوں کی آوازیں سن پا رہی تھی۔ لو گ کہہ رہے تھے ہم ہندو کو شکست دے کر یہاں پہنچ گئے۔ ہم محفوظ ہو گئے۔ ہم زندگہ بچ گئے۔ ان کے جشن کی آواز میرے کانوں کو بہرہ کر رہی تھی۔

افق کے پاس میں نے کچھ گڑ بڑ دیکھی۔ وہاں کوئی چیز آگے بڑھتی دکھائی دی لیکن یہ کوئی درخت نہیں تھا۔ میں اس کی طرف چلنے لگا۔پیاس سے میرا برا حال تھا۔ میں نے اپنا دوپٹہ سنبھالا اور دوڑنے لگی۔ ہر طرف ریت اڑ رہی تھی۔ میں تیزی سے کنوئیں کی طرف بھاگی۔ بالٹی میں جب پانی باہر آیا تو میں بے صبری سے ہاتھوں سے اسے پینے ہی والی تھی کہ پتا چلا پانی کا رنگ سرخ تھا۔ میں نے پانی کو سونگھنے کی کوشش کی تو یہ ایک خشک دھات جیسی بدبو تھی۔ میں نے کنوئیں میں جھانکا تو کچھ دکھائی نہ دیا۔ میں نے ایک بار پھر بالٹی پھینکی لیکن اس بار پانی تک نہیں پہنچ پائی۔ یہ کسی نرم چیز پر گری اور پھر پانی میں گرنے کی آواز آئی۔ ایک بار پھر جب بالٹی باہر آئی تو پانی کا رنگ سرخ تھا۔ میں نے بالٹی کے نیچے دیکھ تو خون لگا ہوا دکھائی دیا۔ اس کے ساتھ انسانی جسم کے اعضا ء بھی چپکے ہوئے تھے۔ مجھے الٹی آتی محسوس ہوئی۔ میں نے بالٹی ایک طرف رکھی اور رونے لگی۔ میرے آنسو واحد ایسی چیز تھے جو میرے ہونٹوں تک پہنچ پائے۔ میں نے اپنے آپ کو یاد دلایا کہ ارض پاکستان قریب ہے۔ پیٹ میں بھی ہول اٹھ رہے تھے۔ میں نے پیٹ کو نظر انداز کیا۔ دور میں نے دو چھوٹے چھوٹے نقطے حرکت کرتے دیکھے۔ میں فورا بھاگنے لگی۔ مجھے بھوک اور پیاس بھول گئی اور دوڑنے لگی۔ گھوڑے کی چاپ کی آواز تیز ہونے لگی۔ مجھے لگا بہت جلد میں پکڑی جاوں گی۔ تھوڑی دیر بعد چاپ کی آواز رک گئی لیکن میں بھاگتی رہی۔ میں اچانک سانس رکنے کی وجہ سے زمین پر گر گئی۔ گھوڑے کی چاپ رکے ابھی تھوڑی دیر ہوئی تھی۔ یہ لوگ کنوئیں پر رکے تھے۔ وہ کنوئیں کے گر دبھیگی ریت کا جائزہ لے رہے تھے۔ انہوں نے بالٹی پر خون بھی دیکھا۔ شاید انہوں نے کنوئیں سے ایک لاش بھی نکالی۔ ایک بار پھر گھوڑوں کے دوڑنے کی آوازیں آنے لگیں۔ ابھی میری سانس بحال نہیں ہوئی تھی۔ میرے پھیپھڑے تھک چکے تھے اور دل ہار مان رہا تھا۔

Image result for young girl ran

لیکن میں اسے سونگھ سکتی تھی، اسے اپنی سانسوں میں محسوس کر سکتی تھی ۔ پاکستان بہت قریب تھا۔ وہ مجھے روک نہیں سکتے تھے۔میں ایک بار پھر بھاگنے لگی۔ سامان بھی گرا دیا تا کہ کچھ وزن کم ہو۔ ہر چیز میرے لیے بوجھ تھی۔ میں اسے مزید نہیں اٹھا سکتی تھی۔ میرے پاس دو ہی آپشنز تھیں۔ یا تو ان کے تیروں کا نشانہ بن جاوں یا بارڈر کراس کر لوں۔ ہر قدم کے ساتھ ہم منزل کے قریب ہو رہے تھے۔ سورج نے آسمان کو روشن کر دیا تھا اور اس وجہ سے میں راستہ دیکھ پا رہی تھی ۔ گھڑ سوار میرے قریب پہنچ چکے تھے۔ وہ قریب سے قریب تر پہنچ رہے تھے۔ ایک نے مجھے رکنے کا کہا میں زیادہ تیزی سے بھاگنے لگی۔ ایک دوسرے شخص نے بھی پکارا لیکن میں نے چلا کر جواب دیا۔ اب گھوڑوں کی چاپ میرے بہت قریب پہنچ چکی تھی۔ گھڑ سوار میرے آس پاس دائیں بائیں موجود تھے۔ میں زمین پر گر گئی۔ میری آنکھوں میں ریت چلی گئی۔ میرے آنسو میرے غصے میں مکس ہو گئے۔ کاش میں اس کنوئیں میں چھلانگ لگا دیتی۔ مجھ سے پہلے لڑکیوں نے ایسا ہی کیا تھا۔ اپنی عزت کی خاطر۔ دنوں آدمی گھوڑوں سے اترے۔ میں چلانے لگی: مجھے چھوڑو، میرے پاس مت آؤ۔ میں نے کچھ ریت اٹھائی اور ان پر اچھال دی۔ ایک شخص نے مجھے پکڑنے کی کوشش کی۔ میں ایک بار پھر چلائی ۔ اس نے چلا کر مجھے چپ ہونے کا کہا۔ پھر ایک شخص نے اپنا سامان میری طرف پھینک دیا۔ جس شخص نے مجھے پکڑنے کی کوشش تھی دور کھڑا رہا۔ دوسرے شخص نے تلوار نکالتے ہوئے پوچھا: تم مسلمان ہو؟ میں نے ہاں میں جواب دیا۔ اس کے کہنے پر میں نے دو بار کلمہ سنایا۔ اس نے پوچھا کہ پاکستان کہاں ہے؟ میں نے اشارہ کرتے ہوئے کہا: وہاں ہے۔

دن کی سرخ روشنی میں میرے سفید شلوار قمیض چمک رہے تھے ۔ یہ ایک پیٹرن بن چکا تھا جو میرے خاندان کے خون کے رنگ سے مرتب ہوا تھا۔ اس شخص نے مجھے اٹھایا اور اپنے گھوڑے پر بٹھا لیا۔ میں اس شخص کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ ہوا تیز تیز چلنے لگی ، گھوڑوں کے قدموں کی آواز زیادہ ہو گئی اور سورج کی چمک بھی بڑھ گئی۔

اپنے آنسو کی چمک میں میں نے اسے محسوس کیا۔ ہم رات شروع ہونے سے کافی دیر پہلے پہنچ چکے تھے۔ گھوڑوں کی تیز رفتار سواری کے بعد میں اپنے گھر پہنچ چکی تھی۔ یہی میرا گھر تھا۔


Courtesy:https://blogs.tribune.com.pk/story/54938/i-could-smell-it-i-could-breathe-it-pakistan-was-near/

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *