جج صاحب کا فیصلہ اور آنسو!

gul-nokhaiz

واٹس ایپ پربعض اوقات ایسی ایسی چیز آجاتی ہے جسے اگنور کرنا ممکن نہیں رہتا۔ مُرشد یاسر پیرزادہ ہمیشہ ایسی کوئی چیز بھی بھیجتے ہیں جو غور وفکر سے خالی نہیں ہوتی۔کچھ روز پہلے انہوں نے واٹس ایپ پر ایک پی ڈی ایف فائل بھیج دی۔ میں نے کھولی تو سہم کیا‘ یہ 116 صفحات تھے‘ گویا پوری کتاب کا مواد تھا۔میرے لیے یہ موبائل پر پڑھنا ناممکن تھا‘ لیکن پھر سوچا مرشد نے بھیجی ہے تو کوئی نہ کوئی تو وجہ ہوگی۔فائل کھولی اور چونک اٹھا‘ یہ جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے سوشل میڈیا پر توہین رسالتﷺ کے حوالے سے دیا جانے والا مفصل فیصلہ تھا اور اُردو میں تھا۔ناممکن تھا کہ اسے نہ پڑھا جاتا۔ پھر یوں ہوا کہ ایک گھنٹے میں اس فیصلے نے ازخود مجھ سے اپنا آپ پڑھوا لیا۔ میں نے بڑی کوشش سے اس فیصلے کا لب لباب نکالا ہے جو خود جناب جسٹس شوکت عزیز کا فیصلہ ہے‘ یہ اقتباس اپنے اندر بہت سے سوالات کا جواب ہے۔ہمارے ہاں بہت سے لوگ اس حوالے سے مختلف نظریات بیان کرتے ہیں تاہم جسٹس شوکت عزیز صاحب نے انتہائی تفصیل سے اپنے فیصلے میں حرمت رسولﷺ کا ذکر کیا ہے اور اور میری خواہش ہے کہ قارئین کو بھی اس تجربے میں شریک کروں۔ جج صاحب نے فیصلے کی ابتداء میں تسلیم کیا ہے کہ جب ان تک یہ مقدمہ پہنچا اوراس کی تفصیلات انہوں نے دیکھیں تو خود ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور ان کی روح تڑپ گئی۔جج صاحب کے اپنے الفاظ ہیں کہ ’’قانون کے طلباء کی نظر میں جج کی ایسی کیفیت کچھ نرالی تصور کی جاتی ہے اور یہ خدشہ رہتا ہے کہ جذبات میں شائد احتیاط کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے‘ لیکن یہ مقدمہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ذرا مختلف ہے کیونکہ اس مقدمہ میں عدالت کو کسی فریق کے ذاتی جھگڑے یاحق کا تصفیہ نہیں کرنا بلکہ اپنے نظر ثانی کے حق کو استعمال کرتے ہوئے ریاستِ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی بقاء ‘ سلامتی اور تحفظ کے ضمن میں اپنی آئینی و قانونی ذمہ داری کو پورا کرنا ہے‘‘۔ یہاں میں جج صاحب کے فیصلے کے وہ اہم نقاط درج کر رہا ہوں جو یقیناًبہت سے ذہنوں کی تشفی کریں گے۔ تو لیجئے پڑھئے!
’’چند نامور دانشور یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مسلمان اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کے لئے کٹ مرنے اور تختہ دار پر چڑھنے کے لئے کیوں تیار رہتے ہیں ۔ مسلمان کو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا تعارف اور اس کی ہستی کے ہونے کی دلیل آپ ﷺ نے دی تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے ایمان و یقین پیدا ہوا اسی طرح قرآن کریم جو مختلف اوقات میں نبی مہربان ﷺ کے قلب اطہر پر وحی کی صورت میں نازل ہوتا تھا اور آپ ﷺ اس کی تلاوت فرما کر صحابہ کرام اجمعینؓ کو سناتے تھے پر اللہ کا کلام ہونے کا یقین اور ایمان اس لئے پیدا ہوا کہ آپ ﷺ نے گواہی دی کہ یہ کلام اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ۔ آج ہم قرآن کریم کو جس کتابی صورت میں دیکھتے ہیں یہ ہر گز اس شکل میں نازل نہیں ہوا تھا ۔ اس پہلو پہ غور کرنے سے ناعاقبت اندیش ملحدوں اور کم ظرف دانشوروں کو جواب مل جانا چاہیے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی ہستی اور قرآن مجید کا الہامی کتاب ہونا نبی آخر الزماں ﷺ کی گواہی کا ثمر ہے ۔
ایسے ہی افراد پر مشتمل ایک مخصوص طبقہ کئی دہائیوں سے توہین رسالت ﷺ کے قانون پر برانگیختہ ہے اور قانون پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے ایک دلیل پیش کرتا ہے کہ اس قانون کا غلط استعمال ہوتا ہے لہذا اس قانون کو ختم کر دینا چاہیے ۔ یہاں قابل غور امر یہ کہ کیا کسی قانون کے غلط استعمال کی وجہ سے اس کا صحیح استعمال بھی روک دینا چاہیے یا غلط استعمال کے اسباب کو دور کرنا چاہیے؟ یقیناً ایک عام فہم آدمی بھی یہ رائے ہی قائم کرے گا کہ غلط استعمال کے اسباب دور ہونے چاہیں نہ کہ قانون ۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں آج تک کسی بھی مسلم یا غیر مسلم کو توہین رسالت ﷺ کے جرم کے ارتکاب پر سزائے موت پر عمل درآمد نہیں ہوا ۔
پاکستانی معاشرہ کی ساخت اس نوعیت کی ہے کہ یہاں خاندانی دشمنیاں کئی نسلوں تک چلتی ہیں اور قتل اور بدلہ ایک عمومی کاروائی تصور ہوتی ہے اور اگرمعاملہ قانونی کاروائی کی طرف جائے تو بے گناہ افراد کو بھی مقدمہ میں ملوث کرنا لازمی شرط ہے ۔ یہ عمل صدیوں سے جاری ہے لیکن قانون کے اس غلط استعمال پر کبھی کوئی نوحہ کناں نہ ہوا اور نہ ہی معترض ، محض قانون رسالت ﷺ پر تنقید اور ہرزہ سرائی نیک نیتی کو ظاہر نہیں کرتا ۔ عدالت اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ بعض عناصر اپنے ذاتی مذموم مقاصد کے حصول کے لئے اور اپنے مخالف کو عامتہ الناس کے غصے اور غضب کا نشانہ بنوانے اور قانون کے شکنجے میں پھانسنے کے لئے توہین رسالت ﷺ کا جھوٹا الزام بھی عائد کر دیتے ہیں ۔ اس سے ملزم اور اس کا خاندان نفرت کی علامت ، لائقِ معاشرتی قطع تعلق اور قانونی کاروائی کے تحت واجب سزا تصور ہوتا ہے گو ایسے واقعات بہت ہی محدود تعداد میں ہیں لیکن توہین رسالت ﷺ کا جھوٹا الزام لگانا کسی جرم کی غلط اطلاع دینے اور دفعہ 182 مجموعہ تعزیرات پاکستان کے تحت سزا وار عمل نہیں ہے بلکہ یہ ازخود ایک سنگین جرم ہے جو کہ الزام لگانے والا کسی بے گناہ فرد سے توہین رسالت ﷺ کے الفاظ ، حرکات یا عمل منسوب کرکے ، کم از کم خود اس جرم کا ارتکاب کرتا ہے ۔ اس لئے غلط استعمال روکنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ توہین رسالت ﷺ کا لگایا گیا الزام غلط ثابت ہونے پر الزام لگانے والے کو وہ سزا دی جائے جو کہ توہین رسالت ﷺ کے قانون کی صورت میں موجود ہے ۔ اس لئے یہ معاملہ مقننہ کے پاس لے کر جانا ضروری ہے تاکہ ضروری قانون سازی کی جا سکے ۔
عدالت پوری یکسوئی سے اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ ریاستی اداروں کے ذمہ داروں کو حضور نبی کریم ﷺ کی ذات اطہر کے ساتھ پاکستانی قوم کی وابستگی اور عشق و محبت کی گہرائی کا صحیح اندازہ نہیں ہے ۔ حضور شفیع المسلمین و المرسلین ہیں انکی ذات پر حملے یا انکی شان میں گستاخی متقی و پرہیزگارو دنیا دار و گناہ گار کوئی مسلمان بھی برداشت نہیں کر سکتا ۔ بے علم و بے عمل مسلمان بھی اتنا شعور بہر حال ضرور رکھتاہے کہ روزِ محشر جب خونی رشتے اجنبی بن جائیں گے دوست احباب کنارہ کش ہو جائیں گے اور مال و اسباب حیثیت کھو بیٹھیں گے تو اس کیفیت میں اللہ کریم سے گناہوں کی معافی کیلئے آپ ﷺ ہی شفاعت فرمائیں گے ۔ اس لیے یہ مذہبی جنوں کا معاملہ نہیں بلکہ ایمان کی پونجی جو اُخروی زندگی کے لئے کامیابی کا واحد حوالہ ہے ، جسے کوئی مسلمان چاہے اس کے روز و شب ، مطلوب مسلمان جیسے نہ بھی ہوں تب بھی آپ ﷺ کیساتھ عشق کی حرارت میں صاحبان عمل سے پیچھے نہیں رہتا اور اس کو سرمایہ حیات سمجھتا ہے ۔ ریاستی اداروں کو ایسے مقدمات میں اس امر کا بھی ادراک کرنا چاہیے کہ اطلاع کردہ وقوعہ دو متحارب گروپوں یا افراد کے درمیان نہیں ہوتا بلکہ گستاخی رسول ﷺ کا جرم خیبر سے کراچی تک پوری قوم کے جذبات کو مجروح کرنے اور اضطراب پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے ۔ قانونی کاروائی میں تاخیر لازمی طور پر قانون شکنی اور امن عامہ کا مسئلہ پیدا کرتی ہے ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو قطعاً یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ اس بابت فیصلہ کریں کہ کون سا قانون ٹھیک ہے اور کونسا نہیں ۔ قانون کی کتب میں درج ہر قانون زندہ اور لائق نفاذ ہوتا ہے ۔‘‘

(گل نوخیزاختر کا یہ کالم روزنامہ دنیا سے لیا گیا ہے)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *