تاریخی اعتبار سے مولانا کا مَوقِف غلط

munir ahmed munir

حکمران جماعت مسلم لیگ ن کا قائم مقام صدر منتخب ہونے کے بعد سردار یعقوب خاں ناصر نے کہا: ''.....چند روز قبل میرے آبائی حلقہ این اے263 لورالائی میں میرے حریف مولانا امیر زمان کو وفاقی کابینہ میں شامل کیا گیا۔ اگلے الیکشن میں میرا مولانا امیر زمان کے ساتھ ایک مرتبہ پھر مقابلہ ہو گا۔ میری پارٹی نے مجھے مضبوط کرنے کے بجائے میرے حریف کو مضبوط کیا ہے۔ میں الیکشن ہار گیا تو پارٹی مجھ سے کہے گی آپ الیکشن ہار گئے ہیں..... مسئلہ یہ ہے کہ فیصلے باہمی مشاورت سے نہیں کیے جاتے‘‘۔ (روزنامہ دنیا لاہور، 18 اگست 2017)۔

مولانا امیر زمان کو جماعتی مشاورت کے بغیر وزیر ہی نہیں بنایا گیا، بہ طور وزیر ان کی کھپت کے لیے ''پوسٹل سروسز‘‘ کے نام سے ایک نئی وزارت بھی قائم کی گئی ہے۔ ان کے وزیر بننے کے باعث سردار یعقوب خاں ناصر کو آنے والے انتخابات میں کٹھن صورت حال درپیش ہونے کا خدشہ ہے۔ انہیں شاید اس کا علم نہیں، اگر راجا ظفرالحق سمیت ان کے علم میں ہے بھی تو وہ اسے بیان کرنے کی ہمت نہیں رکھتے کہ اٹھارہ برس قبل جب مرکز میں مسلم لیگ ن کی حکومت تھی تو مولانا امیر زمان بلوچستان میں سینئر وزیر تھے۔ اور انہوں نے اور جمعیت طلبائے اسلام کے صوبائی صدر سید عزت اللہ شاہ نے لورالائی میں جمعیت طلبائے اسلام گورنمنٹ ڈگری کالج یونٹ کے کنونشن میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا: ''قیامِ پاکستان کے وقت پاکستان کے بانی نے تقسیم کے دوران مسلمانوں کے ساتھ غداری کرکے نصف سے زیادہ مسلمانوں کو انڈیا میں چھوڑ دیا‘‘۔
قائد اعظمؒ کے بارے میں اس ہرزہ سرائی کے باوجود مسلم لیگ ن کے بادشاہ سلامت میاں محمد نواز شریف نے مولانا امیر زمان کو وفاقی کابینہ میں گھسیڑ کر اپنے ہی ایک وفادار کے لیے جو مشکل پیدا کی ہے وہ ایک الگ معاملہ ہے۔ تاہم مولانا کا بیان نری ہرزہ سرائی نہیں، مبنی بر جہالت بھی ہے، کیونکہ قائد اعظمؒ نے یہ کبھی نہیں چاہا تھا کہ نصف سے زیادہ مسلمان انڈیا میں چھوڑ دیے جائیں۔ مثلاً:-
25 نومبر 1946ء۔ اقلیتوں کو جبروتشدد سے محفوظ رکھنے کی غرض سے قائد اعظمؒ نے تبادلۂ آبادی کے حق میں اخباری بیان جاری کیا۔ صرف ایک نہیں کئی بار انہوں نے اپنا یہ موقف دہرایا، تاہم ان کا تبادلۂ آبادی مشروط تھا اس پاکستان کے ساتھ جو پورے بنگال، پورے پنجاب، آسام، سندھ، سرحد اور بلوچستان، چھ صوبوں، پر مشتمل ہو گا۔ لیکن ہندو کانگریس اور انگریز کے گٹھ جوڑ سے جو کٹا پھٹا پاکستان دیا گیا اس میں تبادلۂ آبادی کے تحت پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو کھپانا ممکن نہ رہا۔ جو ہندو قیادت قائد اعظمؒ کی طرف سے تبادلۂ آبادی کی تجویز پر شور مچایا کرتی تھی، بائونڈری کمشن کی کھلی دھاندلی اور ناانصافی کے بعد وجود میں آنے والے پاکستان کی صورت میں ایکاایکی تبادلۂ آبادی کے حق میں ہو گئی۔ چنانچہ گاندھی جی نے تپرہ اور نواکھلی میں فی الفور پلٹا کھایا: ''میں تبادلۂ آبادی کے حق میں ہوں‘‘۔
بمبئی،27 مارچ 1947ء۔ میمن چیمبرز آف کامرس کے اجلاس میں گاندھی کی اس پلٹی پر تبصرہ کرتے ہوئے قائد اعظمؒ نے کہا: ''..... جس وقت تبادلۂ آبادی کی تجویز میں نے پیش کی تھی اس وقت یہ جرم شمار کیا گیا تھا۔ اور اس کے خلاف شوروغوغا بھی بلند ہوا تھا‘‘۔
اُس وقت یہ اس لیے جرم تھی اور اس کے خلاف شوروغوغا اس لیے بلند کیا گیا تھا کہ قائد اعظمؒ کی تبادلۂ آبادی کی یہ تجویز اس سے مشروط تھی کہ پاکستان میں پورا بنگال، پورا پنجاب، آسام، سندھ، سرحد اور بلوچستان، چھ صوبے، شامل ہوں۔ جب ہندو کانگریس اور انگریز گٹھ جوڑ نے اس کے بجائے کٹا پھٹا پاکستان دیا تو ہندو قیادت تبادلۂ آبادی پر زور دینے لگی جو کٹے پھٹے پاکستان کے لیے ممکن نہ رہا تھا۔
مولوی امیر زمان نے یہ تو فرما دیا کہ ''پاکستان کے بانی نے تقسیم کے دوران مسلمانوں کے ساتھ غداری کرکے نصف سے زیادہ مسلمانوں کو انڈیا میں چھوڑ دیا‘‘ لیکن اس حقیقت سے وہ آنکھیں چرا گئے کہ کٹا پھٹا پاکستان ملنے کی صورت میں نصف سے زیادہ مسلمان ہندوستان میں رہنے پر کیوں مجبور ہو گئے؟ اور اس کے ذمہ دار کون لوگ تھے؟ مولوی صاحب اور اکھنڈ بھارت کے پیرو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہندوستان کو متحد رکھنے کے لیے آخری انگریز وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن کی جب ہر کوشش قائد اعظمؒ کی سیاسی دانش اور یقینِ محکم کے سامنے ناکام ٹھہری تو قیامِ پاکستان کو ناممکن بنانے کے لیے ہندو کانگریس کے ایک سابق صدر اور رہنما مولانا ابوالکلام آزاد نے مائونٹ بیٹن کے حضور تجویز پیش کی کہ ''اگر وہ تقسیمِ بنگال کا اعلان کر دے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ بنگال کے مسلمان لیگ سے علیحدگی اختیار کر لیں گے۔ ان کے خیال میں پنجاب میں بھی ایسا ہو سکتا ہے، اگرچہ وہاں اس کا امکان کم ہے‘‘۔ (دی گریٹ ڈیوائڈ۔ ص:245۔ ایڈیشن 1969۔ لندن)۔
کتاب کا مصنف ایچ وی ہڈسن مزید لکھتا ہے کہ..... مائونٹ بیٹن کے نزدیک یہ ایک دانش مندانہ نقطۂ نظر تھا۔
قائد اعظمؒ کی طرف سے شدید مخالفت کے باوجود تقسیم بنگال و پنجاب ہو کے رہی۔ اور پھر حد بندی کرتے وقت پاکستان کی جو صریحی حق تلفی کی گئی اس کے اہم ذمہ دار وہ بھی تھے جو تقسیم بنگال و پنجاب پر اٹل رہے۔ نتیجتاً تباہی مچی۔ ان کے بارے میں مولانا امیر زمان کون سا اسم صفت استعمال کریں گے؟
اگر قائد اعظمؒ کی بات مان لی جاتی اور جمعیت العلمائے ہند، مجلسِ احرار اور دیگر نیشنلسٹ گروہ اور افراد مسلم لیگ کا ساتھ دیتے تو ہندو کانگریس اور انگریز اس مکمل پاکستان پر اتفاق کرنے پر کیوں نہ مجبور ہو جاتا جس کے لیے قائد اعظمؒ نے جدوجہد کی تھی، لیکن نیشنلسٹوں کے رویے فیصلہ کن مرحلے پر بھی مخالفانہ رہے۔ مثلاً:-
نئی دہلی، 15 مارچ 1947ء، جمعیت العلمائے ہند کی مجلسِ عاملہ نے قیامِ پاکستان کی مخالفت اور اکھنڈ بھارت کے حق میں فیصلہ کیا۔ حالانکہ اکھنڈ بھارت کا مقصد ہندو راج کا قیام اور مسلمانوں کی دائمی غلامی تھا۔
3 جون 1947ء، پارٹیشن پلان آیا، جس کے تحت ہندوستان کو پاکستان اور بھارت دو ملکوں میں تقسیم ہونا تھا، لیکن اس کے دس روز بعد 13 جون 1947ء کو کل ہند مجلسِ احرار کی عاملہ نے قیامِ پاکستان کا تصور ایک بار پھر مسترد کر دیا۔
جائز علاقوں سے محروم کر دیے جانے کے بعد جو پاکستان وجود میں آ رہا تھا یہ لوگ اس کے بھی درپے رہے۔ خان عبدالغفار خاں جو تقسیم ہند کے مخالف تھے اب تقسیمِ پاکستان کی طرف آ گئے۔ مثلاً: بنوں، 21 جون 1947ء، خدائی خدمت گاروں نے ایک اجلاس میں آزاد پختونستان کے لیے کام کرنے کا عہد کیا۔
پشاور: 22 جون، فرنٹیئر کانگریس کمیٹی، فرنٹیئر کانگریس پارلیمانی پارٹی اور سُرخ پوشوں نے ایک مشترکہ میٹنگ میں ''آزاد پٹھان ریاست‘‘ کا مطالبہ کر دیا۔
نئی دہلی، 25جون 1947ء، کل ہند جمعیت العلمائے ہند کی مجلسِ عاملہ نے قرار دیا کہ وہ صوبہ سرحد میں سُرخ پوشوں کے موقف کی حمایت کرے گی۔یعنی جو کٹا پھٹا پاکستان مل رہا تھا اسے مزید چھوٹا کرنے کے لیے عبدالغفار خاں کی خدائی خدمت گار اور مولانا حسین احمد مدنی کی جمعیت العلمائے ہند پوری طرح سرگرم عمل تھی۔ اب یہ کہتے ہیں ہم پاکستان کے نہیں مسلمانوں کی تقسیم کے خلاف تھے۔ یہی بات 14 اگست کو اے این پی کے الیاس بلور نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں کہی۔ سوال یہ ہے کہ اگر آپ مسلمانوں کی تقسیم کے خلاف تھے تو جو کٹا پھٹا پاکستان مل رہا تھا اس میں سے پختونستان حاصل کرکے آپ مسلمانوں کو کیا مزید تقسیم نہیں کر رہے تھے؟
القصہ، آدھے سے زیادہ مسلمانوں کے انڈیا رہ جانے کے متعلق مولانا امیر زمان کا موقف تاریخی اعتبار سے قطعاً درست نہیں۔ اور یہ کہ سردار یعقوب خاں ناصر کو اپنی پڑی ہے جبکہ مولانا امیر زمان کے فکر و نظر کا اٹکاؤ کہیں اور ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *