گرمیت لڑکیوں کو جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے لئے "پتا جی " کا کوڈ استعمال کرتا تھا !

4

اسلام آباد۔ بھار ت میں نام نہاد پیر گرو گرمیت سنگھ کے ہاتھوں ریپ کا نشانہ بننے والی 2خواتین پیروکار نے سی بی آئی ججوں کے سامنے اپنے بیانات میں اہم انکشاف کردیئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ریپ کا شکار بننے والی عورتوں نے اپنے بیانات میں انکشاف کیا کہ گرو گرمیت سنگھ نے خواتین کو ریپ کا نشانہ بنانے کیلئے خفیہ سرنگ میں ایک کمرہ بنا رکھا تھا۔اس خفیہ سرنگ میں گرمیت سنگھ کا ذاتی کمرہ تھاجہاں کسی اور کو جانے کی اجازت نہ تھی۔ اخبار ”ٹائمز آف انڈیا “کی ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے خواتین پیروکاروں کی جانب سے ریکارڈ کرائے گئے بیانات پر مبنی دستاویزات حاصل کر لی ہیں جن میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ گرمیت سنگھ کے ڈیرہ سچا سودا پر ریپ کیلئے پتا جی کی معافی کی اصطلاح استعمال کی جاتی تھی۔ لڑکیوں نے بتایا کہ ہم سرنگ کے اندر جاتی تھیں تو ہمیں آواز آتی تھی "پتا جی"۔۔۔اس کا مطلب ہوتا تھا کہ برہنہ ہو جاؤ۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خفیہ سرنگ میں موجود گرو گرمیت سنگھ کے کمرے کی نگرانی کیلئے صرف خواتین شاگردوں کو ہی تعینات کیا جاتا تھا اور یہ ریپ کیلئے معافی کا کوڈ ورڈ استعمال کرتی تھیں۔28  فروری 2009کو عصمت دری سے بچنے والی ہریانا کے علاقے یامونا نگر کی رہائشی نے سی بی آئی کے جج اے کے ورما کو بتایا کہ اس نے جولائی 1999سے ڈیرہ میں رہنا شروع کیا اور اس کی وجہ اس کا بھائی تھا جسے مبینہ طور پر اپنی بہن کیلئے انصاف مانگنے پر قتل کر دیا گیا تھا۔اس نے بتایا کہ مجھے اس وقت کچھ بھی سمجھ نہیں آیا جب دیگر شاگردوں نے مجھ سے پوچھنا شروع کیا کہ کیا مجھے پتا جی کی معافی مل گئی ہے، اور جب 28 اور 29 اگست 1999کی درمیانی شب گرو گرمیت نے مجھے ریپ کا نشانہ بنایا تو مجھے علم ہوا کہ وہ کیا بات کرتی تھیں۔بات یہاں تک ہی نہیں بلکہ گرو گرمیت سنگھ نے اپنی کرنسی بھی جاری کی ہوئی تھی۔جبکہ اس وقت بھی گرو گرمیت کے ایک ہزار ایکڑ پر مشتمل آشرم’’ڈیرہ سچاسودا‘‘میں دو لاکھ سے زائد چیلے موجود ہیں جن میں عورتیں بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب پولیس اور پیرا ملٹری دستوں نے ڈیرہ سچا سوا کے 131رہائشی کمپلیکس میں سے 110کی تلاشی مکمل کر لی ہے اور وہاں سے غیر قانونی ہتھیار، آتش گیر مادے اور دیگر سامان ملنے کے بعد 32کمپلیکس کو سیل کر دیا گیا ہے۔تفتیشی حکام نے چندی گڑھ ٹریبون کو بتایا ہے کہ ڈیرہ میں گورمیت کے چیلوں نے اس کی سزا کے خلاف احتجاج کی غرض سے پورے شہر میں آگ لگانے کیلئے ہزار لیٹر آتش گیر مواد اور منوں کے حسا سے دھماکہ خیز مواد جمع کر رکھا تھا۔ پولیس نے آشرم سے خودکار رائفلوں، دونالی بندوقوں، دیسی پستولوں اور ریوالوروں کی ایک بڑی کھیپ بھی پکڑی ہے۔ اس کے علاوہ اربوں روپےمالیت کا سونا، چاندی اور نقدی بھی برآمد کی جا چکی ہے۔ واضح رہے گروگرمیت کو پیر کے روز روہتک جیل میں سی بی آئی عدالت نے دو سادھویوں سے زیادتی کے جرم میں 20سال قید کی سزا سنائی ہے۔ بھارتی جریدے فنانشل ایکسپریس نے انکشاف کیا ہے کہ متنازع گروہ نے اپنے آشرم میں، جو سیکڑوں عمارتوں، کھیل کے میدانوں، دکانوں، اسکول و کالجز ، سینما گر، شاپنگ مال ،ہسپتال اور یونیورسٹی پت مشتمل ہے، ریاست کے اندر ریاست بنا رکھی تھی۔ ڈیرے کی حدود میں کرنسی بھی بھارت کی نہیںچلتی، بلکہ گروگرمیت نے اپنی کرنسی جاری کی ہوئی تھی، جو پلاسٹک کے سکوں پر مشتمل تھی۔ آشرم کے تمام دکاندار اور افراد لین دین کیلئے ڈیرہ انتظامیہ کی جانب سے ڈھالے جانے والے پلاسٹک کے سکوں کو بطور کرنسی قبول کرتے تھے۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا نےبتایا ہے کہ ان پلاسٹک سکوں پر’’دھن دھن ست گرو تیرا ہی آسرا، ڈیرہ سچا سودا سرسا‘‘تحریر ہے۔ ڈائریکٹر جنرل پولیس ہریانہ رینج بی ایس سندھوں کا کہنا ہے کہ ڈیرے سے برآمد کئی درجن ہتھیار ممنوعہ بور کے ہیں، جو دہشتگردی کی کارروائیوں کیلئے جمع کئے گئے تھے۔ سی بی آئی اور اے این آئی سمیت انڈین پولیس نے گرفتار گروہ کے آشرم میں سے لاکھوں سکے برآمد کر لئے ہیںاور سیل کی جانے والی متعدد دکانوں کے مالکان سے اقبالی بیانات بھی لئے ہیں کہ کس طرح گرو گرمیت نے ریاست میں ریاست بنا رکھی تھی۔ ٹیلی گراف انڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ موودی حکومت سمیت ہریانہ کی حکومت نے تمام معلومات ہونے کے باوجود گروگرمیت کی طاقت اور سیاسی اپروچ کے سبب اس کی جانب سے آنکھیں پھیر رکھی تھیں۔کیونکہ گروگرمیت کی سیاسی طاقت اس قدر تھی کہ وہ ہریانہ کے کم از کم 35انتخابی حلقوں میں من پسند امیدواروں کو فتح دلوا سکتا تھا۔ اس لئے مودی حکومت کی آشیر باد سے متنازع گرو کو کسی وزیراعلیٰ کی طرز پر زیڈ پلس سکیورٹی فراہم تھی۔ بھارتی جریدے امراجالا نے بتایا ہے کہ روہتک کے آئی جی نے تصدیق کی ہے کہ گرفتار گرو کے پانچ سکیورٹی گارڈز نے اپنےگرو کو اس وقت رہا کرانے کیلئے بندوقیں استعمال کرنے کی کوشش کی جب ان کے گرو گرمیت کو زیادتی کے کیس میں مجرم قرار دے دیا گیا۔ سرسا کے آئی جی پولیس نے جب ان مسلح گارڈز کو سمجھایا کہ بندوقیں مت اٹھائو اور گرو کے قریب جانے کوشش نہ کرو تو ان گارڈز نے آئی جی کو زدوکوب کیا، جس پر ان گارڈز کو گرفتار کر کے دیش سے بغاوت کا مقدمہ درج کیا جا چکا ہے۔ادھر بھارتی جریدے سماچار کے مطابق ہریانہ ہائیکورٹ میں 25اکتوبر سے گرو گرمیت کے خلاف اپنے 400پیروکاروں کو آختہ(خواجہ سرا)بنانے کے کیس کی سماعت فاسٹ ٹریک کورٹ میں کی جائے گی۔ اس سلسلے میں کورٹ کے روبرو ان 166افراد کی مکمل فہرست جاری کر دی گئی ہے جنہوں نے رضاکارانہ طور پر گرو گرمیت کے کہنے پر خود کو آختہ کرایا تھاجبکہ خواجہ سرا بنائے جانے والے باقی 234چیلوں کی تلاش جاری ہے:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *