کراچی کے ملیرڈیم میں ڈیڑھ سو فٹ بڑا شگاف پڑ گیا

damm

وقفے وقفے سے تیز بارش کے باعث کراچی میں سڑکیں دریا بن گئیں۔کئی گاڑیاں ڈوب جبکہ کئی خراب ہوگئیں، مویشی منڈی میں کیچڑ ہی کیچڑ ہوگئی۔ بارش کے باعث انٹر سٹی بس سروس بند،پی آئی اے کی دوپروازیں منسوخ کردی گئیں۔ مختلف حادثات و واقعات میں 4 بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق ہوگئے۔ملیر کے  ویئر ٹو ٹیم،میں ڈیڑھ سو فٹ بڑا بڑا شگاف پڑنے سے میمن گوٹش سمیت  گلستان جوہر، صفورہ چورنگی کے اطراف کے علاقے خصوصاً سن لے کاٹیجز سمیت کئی علاقے پانی میں ڈوب گئے۔ملیر ڈیم کے گردو نواح کے نشیبی گوٹھ بھی ڈوب گئے ہیں، سمندر کا پانی بھی شہرمیں داخل ہونا شروع ہوگیا ہے جبکہ انتظامیہ نے فوری طور پر فوج کو مدد کے لیے طلب کرتے ہوئے ہنگامی صورتحال کا اعلان کر دیا ہے--یاد رہے کہ اسی ڈیم میں 2015 میں بھی شگاف پڑا تھا-کراچی میں بارش کے باعث ندی نالے بپھر گئے، ناگن چورنگی مکمل زیر آب آگئی، ماڑی پور اور بفرزون میں پانی کچے مکانوں میں داخل جبکہ لیاقت آباد انڈر پاس میں پانی بھرگیا۔لیاری میں سرکاری اسکول، ڈسپنسری اور میڈیکل سینٹرمیں اور سندھ اسمبلی کے باہر بارش کا پانی جمع ہوگیا۔ریسکیو ذرائع کے مطابق بارش کےدوران کرنٹ لگنے کے واقعات میں بچوں سمیت11 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ کراچی کے علاقے لیاری ڈڈیال چوک ،انڈا موڑ اور گبول ٹاؤن میں کرنٹ لگنے سے 4بچے جاں بحق ہوئے۔محکمہ موسمیات کے مطابق مون سون کاسسٹم کراچی کے اردگرد اور اس کے جنوب میں موجود ہے اور آئندہ 24 گھنٹوں کےدوران گرج چمک کے ساتھ موسلادھاربارش کاامکان ہے۔

سب سے زیادہ بارش ناظم آباد میں 122 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی، نارتھ کراچی میں97 ملی میٹر ، مسرور بیس 42، صدر40 اورگلستان جوہر میں27 ملی میٹر بارش ریکارڈ، بارش کا سلسلہ جمعے تک جاری رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔دوسری جانب ٹرانسپورٹرز نے کراچی سے اندرون ملک جانے والی بس سروس بند کردی ہےاور کراچی کا بذریعہ بس سروس ملک بھر سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ شاہراہیں پانی میں ڈوبی ہوئی ہیں بسیں سڑکوں پر نہیں لاسکتے، شاہراہوں سے پانی ختم ہونے کے بعد بس سروس بحال کردیں گے۔انہوں نے بتایا کہ بارش کے باعث انٹرسٹی بسوں کو شہر میں آنے سے بھی روک دیا ہے، ملک کے دیگر شہروں سے آنے والی بسیں ٹول پلازہ پر کھڑی کردی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *