"یہ مولوی پٹواری لگتا ہے "

riayat ullah farooqi

محلے کے بازار میں دو نوجوان ٹکرے جن کے ہاتھ میں کچھ پمفلٹ تھے۔ ہاتھ ملا کر ایک پمفلٹ پکڑایا جس پر نظر ڈالی تو پی ٹی آئی کا تھا۔ ان میں سے ایک نوجوان نے پوچھا

"سر ! کیا آپ جانتے ہیں آپ کے ایم این اے کون ہیں ؟"

"جی ہاں ! چوہدری نثار علی خان ہیں !"

"سر ! کیا آپ نے پچھلے چار سال کے دوران انہیں ایک بار بھی حلقے میں دیکھا ؟"

"بالکل نہیں دیکھا !"

"سر ! کیا ہمیں ایسے لوگوں کو منتخب کرنا چاہئے جو حلقے میں آتے ہی نہیں ہیں ؟"

"بیٹا ! ہم نے ان کو حلقے میں آنے کے لئے نہیں بلکہ اسمبلی میں جانے کے لئے منتخب کیا ہے اور وہاں وہ پابندی سے جا رہے ہیں"

"تو سر ! حلقے کے کام کون کرائے گا ؟"

"دیکھو بیٹا ! چوہدری نثار علی خان 2012ء کے آخر میں آئے تھے اور صاف صاف کہا تھا کہ جو کام کروانے ہیں الیکشن سے قبل کروا لو کیونکہ جیتنے کے بعد اگر ہماری حکومت بن گئی تو میری مصروفیات بہت بڑھ جائیں گی۔ ہم نے ضروریات کی لسٹ پکڑائی اور وہ سارے کام انہوں نے 6 ماہ میں کرکے دیدئے، اب اس سال کے آخر تک وہ پھر آئیں گے تو ہم نئی لسٹ پکڑا دیں گے"

"لیکن حلقے کے لوگوں کو اسمبلی کی مدت کے دوران بھی تو اپنے ایم این اے کی ضرورت پڑ سکتی ہے"

"جی بالکل پڑ سکتی ہے ! اگر پڑی تو کریم کو 300 روپے دے کر ان کے دفتر چلے جائیں گے"

"اچھا سر ! خدا حافظ"

"نہیں بیٹا ! ایک دو سوال ہمیں بھی تو پوچھنے دو !"

"جی سر پوچھیں !"

"کیا آپ جانتے ہیں یہ ہمارے ساتھ والے حلقے کا ایم این اے کون ہے ؟"

"جی سر ! عمران خان ہیں"

"کیا آپ جانتے ہیں کہ اس حلقے کے لوگوں نے انہیں ایم این اے بنا کر اسمبلی بھیجا اور وہ وہاں نہیں جاتے ؟"

"چل ناصر یہ مولوی پٹواری لگتا ہے !"

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *