آئیے انصاف کا تماشہ دیکھیں 

حماد احمد

hammad ahmed
بے نظیر محترمہ کے قتل کا آخرکار فیصلہ آگیا جو انتہائی خوشی کی بات ہے وہ یہ کہ عدالت نے یہ نہیں کہا کہ محترمہ بی بی نے خود کو ہی گولی ماری اور پھر خود ہی کرائم سین دھویا۔عدالت نے اس بار انتہائی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دو وردی( پولیس ) والوں کو قید کی سزا سنائی کہ انہوں نے کرائم سین سے خون ( ایجنسی والوں کے کہنے پر ) کیوں دھویا۔اور ایک دوسرے وردی والے ( کمانڈو ) کو اشتہاری قرار دیا اور جائداد ضبط کرنے کا الگ سے حکم
یعنی جراتمندانہ ہی فیصلہ ہے نا ۔۔۔۔مجرم کمانڈوز کی سزا تو ہمارے یہاں ہمیشہ "انتہائی پسندیدگی" ہوتی ہے اور پھر جن حضرات کی جوانی و بڑھاپے کی ساری عمر ہی بلڈی سویلینز کی جائیدادیں فتح کرنے میں گزری ہو ان سے جائداد ضبط کرنا ؟؟؟؟یقینا کسی بلاتکار ، توہین ، گستاخی وغیرہ سے کم نہیں۔
Image result for benazir murderبے نظیر دس سال سے پہلے سوالات کا جو انبار چھوڑ کر گئی تھی وہ ویسے ہی موجود ہیں ، انصاف بک چکا ہے عدالتیں غلام ہوچکی ہیں ایسے میں پانچ افراد کو باعزت بری کرنا ( جن کی زندگی کے کئی سال اندھیروں میں بغیر کسی جرم کے گزرے ) اور دو کو سزائیں سنانا کہ ان کا جرم بے نظیر کے قتل کے جرم سے بھی بڑا ہےیعنی خون کیوں دھویا ؟
بہرحال اس عجیب و غریب انصاف کو دیکھ کر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے اداروں کیلئے بے نظیر کا قتل اتنا بڑا جرم نہیں جتنا کرائم سین دھونا بڑا جرم ہے۔
اور خبردار اگر کسی نے پوچھا کہ کس کے کہنے پر خون دھویا ۔۔۔۔۔ایسے سوالات ملکی سلامتی کیلئے خطرناک اور انڈیا و ہالینڈ کی سازش بھی ہو سکتی ہے۔
چلتے چلتے ایک سوال ضرور پوچھیں گے...بی بی کو کس نے قتل کیا ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *