بے نظیر قتل کیس کے فیصلے پر پرویز مشرف کے شدید ردعمل نے ہلچل مچادی!

Image result for ‫پرویز مشرف‬‎

اسلام آباد -آل پاکستان مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر محمد امجد نے کہا ہے کہ انسداد دہشت کردی کی عدالت کا بے نظیر قتل کیس پر فیصلہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا، فیصلہ مقدمے کے چالان، شواہد اور بیانات کے برعکس ہے۔ فیصلے پر رعب، خوف یا مصلحت کا اثر نظر آتا ہے، اقبال جرم کے باوجود سہولت کاروں کو بری کر کے اصل منصوبہ سازوں کو عدالت سے دور کردیاگیا۔ قتل کے ذمہ داران قتل سے مستفید ہونے والے ہیں۔ پرویز مشرف صدر مملکت تھے، ضلعی سطح کے افسر کو احکامات نہیں دے سکتے تھے۔  پرویز مشرف پر بی بی کو سیکورٹی نہ دینے کا الزام بے بنیاد ہے۔ پرویز مشرف کا نام ابتدائی چالان میں نہیں تھا، پی پی کے دور حکومت میں اپنی خفت مٹانے کے لئے ڈالا گیا تھا۔ پہلے کہا گیا کہ پرویز مشرف کا معاملہ الگ کردیا گیا ہے مگر آج انہیں سزا سنائے جانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ فیصلہ عجلت میں کیاگیا۔

فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔ اعلی عدالتوں نے اپنے فیصلوں میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے شروع کر دیے ہیں۔ امید ہے ہمیں بھی انصاف ملے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں بے نظیر قتل کیس کے فیصلے کے رد عمل میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اے ٹی سی کا فیصلہ ہماری توقعات، مقدمے کے چالان، شواہد اور بیانات کے برعکس ہے۔ جن پانچ لوگوں کو بری کردیا گیا ان میں سے تین نے سہولت کاری کا اقرار کرلیا تھا۔ ان لوگوں نے بتایا تھا کہ ان کے سات ساتھی مر گئے ہیں جبکہ پانچ گرفتار تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کے تانے بانے اصل ذمہ داران سے ملتے تھے۔ ان لوگوں کو بری کر دینے سے قتل کے اصل منصوبہ سازوں کو عدالت سے دور کردیا گیا ہے۔ سمجھ سے بالا ہے کہ انہیں کیسے بری کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ بی بی کے قتل کا فائدہ کسے ہوا۔ جعلی وصیت بنا کر پارٹی کی صدارت کس نے حاصل کی اور بی بی کی انشورنس کس نے کلیم کی اور بلاول ہاؤس اور بے نظیر کے سکیورٹی آفیسر خالد شہنشاہ کو کس نے قتل کروایا۔ یہ ایسے سوالات ہیں جو بے نظیر قتل مقدمے سے جڑے ہیں مگر ان کی تحقیقات نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر محمد امجد نے کہا کہ جن پولیس افسران کو 10 اور 7سال کی سزائیں سنائی گئی ہیں وہ بھی انصاف کے منافی ہیں۔ لاش کے پوسٹ مارٹم میں تاخیر بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کی فون کال کی بنا پر ہوئی اس کی ذمہ دار پولیس افسران نہیں ہیں۔ جائے وقوعہ اگر نہ بھی دھوئی جاتی تو ہم سمجھتے ہیں کہ اس قدر شدید دھماکے کے بعد خون اور انسانی گوشت کے لوتھڑوں سے کوئی اہم ثبوت ملنے کی توقع نہیں تھی۔اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ پولیس افسران اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے یہ کہا گیا کہ سید پرویز مشرف کو اس مقدمے سے الگ کردیا گیا ہے اور ان کا فیصلہ بعد میں سنایا جائے گا مگر عجلت میں آج ہی ان کا فیصلہ بھی سنا کر انہیں اشتہاری قراردیتے ہوئے جائیداد کی قرقی کے احکامات اور وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے گئے۔ سید پرویز مشرف صدر پاکستان تھے، بی بی کی حفاظت کے ذمہ دار تھے نہ ہی انہوں نے کسی کو پوسٹ مارٹم یا جائے وقوعہ دھونے کے احکامات دیے۔ پرویز مشرف پر یہ الزام بے بنیاد ہے کہ انہوں نے بی بی کو خاطر خواہ سیکیورٹی نہ دی۔ حقیقت یہ ہے کی پرویز مشرف نے بے نظیر کو آگاہ کردیا تھا اور انہیں پیش کش کی تھی کہ اپنی مرضی کے افسران بتائیں جنہیں آپ کی سیکیوریٹی پر مامور کیاجائے مگر بے نظیر بھٹو اور پی پی کی قیادت نے سرکاری سیکیورٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے رحمان ملک کو چیف سیکیوریٹی افسر بناتے ہوئی بلاول ہاوس اور ان کے ذاتی محافظ خالد شہنشاہ کو ان کی حفاظت کا ذمہ دار بنا دیا گیا۔ پرویز مشرف صدر پاکستان تھے۔ان کے بعد وفاقی حکومت کا وزیراعظم، پنجاب کا وزیراعلی، پنڈی کا کمشنر اور ڈی سی او تھے۔ ایسے میں پرویز مشرف پر الزام لگانا حقیقت کے برعکس ہے۔ کیس کے ابتدائی چالانوں میں سید پرویز مشرف کا نام نہیں تھا۔ کافی عرصہ بعد پیپلز پارٹی کے دور میں اپنی خفت مٹانے اور سید پرویز مشرف پر ڈالنے کے لئے ان کا نام ایف آئی اے سے مل کر رحمان ملک نے شامل کروایا۔ پرویز مشرف جب وطن واپس آئے تو اس مقدمے میں ضمانت پر تھے۔ وہ طلب کئے جانے پر عدالت میں حاضر بھی ہوتے رہے۔ اس کے باوجود انہیں بار بار بلانا سمجھ سے بالا تر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں فیصلے سے اتفاق نہیں ہے۔ ہم فوری طور پر اے ٹی سی کیسز کی نظر ثانی کے لئے ہائی کورٹ کے ججوں کے پینل سے نظر ثانی کی اپیل کریں گے۔ اعلی عدالتوں نے انصاف پر مبنی فیصلوں کی شروعات کر دی ہیں۔ پورا یقین ہے کہ ہمیں انصاف ملے گا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *