سان فرانسسکو میں روسی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم!

ٹرمپ اور پوتن

امریکہ نے روس کی جانب امریکی سفارتی عملے کو ملک سے نکل جانے کے حکم کے جواب میں اسے سان فرانسسکو میں اپنا قونصل خانے اور دیگر دو رہائشی عمارتوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ قونصل خانے کو بند کرنے کے اقدامات روس کی جانب سے گذشتہ ماہ ملک سےامریکی سفارتی مشنز کے عملے کے 755 ارکان کو نکل جانے کے حکم کے جواب میں کیے ہیں۔

محکمۂ خارجہ کے اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ روس کا قونصل خانہ اور دو تجارتی مشن بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے لیکن روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ اہکار کے مطابق ان عمارتوں کی ملکیت روس کے پاس رہے گی لیکن اُنھیں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ سان فرانسسکو میں قونصل خانے کے علاوہ واشنگٹن اور نیویارک میں زیر استعمال عمارتوں کو سنیچر تک ہر حالت میں بند کر دینا ہو گا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ روس کے صدر ولادی میر پوتن نے اعلان کیا تھا کہ ماسکو پر نئی امریکی پابندیوں کے بعد ملک میں امریکی سفارتی مشنز کے عملے کے 755 ارکان کو لازمی ملک چھوڑنا ہو گا۔ روسی صدر کے اعلان کے مطابق امریکی عملے کو یکم ستمبر تک لازمی ملک سے نکلنا ہو گا یہ موجودہ تاریخ میں کسی ملک سے ایک وقت میں سفارت کاروں کی یہ سب سے بڑی بے دخلی ہے۔Russian consulate in San Francisco

امریکی محکمۂ خارجہ نے دوطرفہ تعلقات کو خراب کرنے کا الزام روس پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ برابری کی بنیاد پر کیا گیا لیکن پھر بھی امریکہ دونوں ملکوں کے مابین اس حالیہ تلخی کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ محکمۂ خارجہ کے جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 'اگرچہ سفارت خانوں اور قونصل خانوں کی تعداد میں ابھی بھی فرق ہے لیکن پھر بھی ہم نے اپنے تعلقات کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے امریکہ میں روس کے چند سفارت خانے کھلے رکھنے کی اجازت دی ہے۔'

بیان کے مطابق 'روس کی جانب مساوات کی خواہش کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکہ امید کرتا ہے کہ ہم دونوں مزید انتقامی اقدامات سے گریز کریں گے اور ہمارے صدور نے دونوں ملکوں کے مابین دوطرفہ تعلقات بہتر کرنے اور تعاون بڑھانے کے لیے جو اہداف طے کیے ہیں اُن کی جانب بڑھیں گے۔' روس کے وزیر خارجہ سرگئے لاروف نے امریکی سیکریٹری خارجہ ریکس ٹیلرسن سے ٹیلیفون پر گفتگو میں 'دوطرفہ تعلقات میں کشیدگی بڑھنے پر افسوس' کا اظہار کیا ہے۔

ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکہ اور روس کے وزیر خارجہ کی ملاقات طے ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تنقید کے باوجود روس پر نئی پابندیاں لگانے کے حق میں ووٹ دیا تھا جبکہ گذشتہ دسمبر میں اس وقت کے صدر براک اوباما نے الیکشن میں ہیکنگ کے الزام پر 35 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑ دینے کا حکم دیا تھا اور دو روسی کمپاؤنڈ بند کر دیے گئے تھے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *