امریکہ کے ساتھ ہمارے آئندہ تعلقات کی کلید

photo-nusrat-javed-sb-6-2

خود کو آئینی اعتبار سے ”سب پر بالادست“ سمجھنے کے گماں میں مبتلا ہماری قومی اسمبلی کے اراکین بھی خوب سادہ ہیں انہیں یقین ہے کہ امریکی صدر کی پاکستان کے خلاف افغانستان کے حوالے سے ہوئی تقریر کے بعد ہماری دائمی اشرافیہ کو ان کے مشورے کی ضرورت محسوس ہونا شروع ہوگئی ہے۔ بدھ کا پورا دن لہذا انہوں نے دھواں دھار تقاریر کے ذریعے اس اشرافیہ کو ”پالیسی گائیڈلائن“ دینے میں ضائع کردیا۔عمران خان کی ذہانت و فراست کو سلام ۔ وکھری ٹائپ کا یہ صادق و امین اور بنیادی طور پر نیک طینت کپتان خوب جانتا ہے کہ موجودہ اسمبلیوں میں ”چور اور لٹیرے“ بیٹھے ہوئے ہیں۔ مالی اور اخلاقی حوالوں سے مختلف النوع ”برے کاموں“ میں مبینہ طورپر ملوث ان اراکین کے سارے ”کرتوت“ ہماری اشرافیہ کی فائلوں میں Audio Visual ثبوتوں سمیت موجود ہیں۔ ہمارے دائمی حکمران ان کے بارے میں سب جانتے ہیں۔ ان کی تقاریر سن لینے میں لیکن کوئی حرج نہیں کیونکہ رسمِ دُنیا بھی ہے اور موقعہ بھی۔ٹرمپ کو یہ پیغام دینے کا بہانہ بھی کہ پاکستان میں ایک منتخب پارلیمان ہوتی ہے۔ حکومتِ پاکستان اس کے سامنے جوابدہ ہے اور عوامی جذبات کی نمائندگی کرتی یہ پارلیمان ٹرمپ کی تقریر کے بعد سے بہت ناراض ہے۔
اس منتخب پارلیمان کے غصے کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہمارے حکمرانوں کے لئے امریکہ کی خاطر افغانستان کے حوالے سے Do Moreکرنا ممکن نہیں رہا۔ وقت بلکہ اب No More کا آچکا ہے۔ بالآخر کچھ نہ کچھ Moreکرنا اگرچہ ہماری ریاست کی مجبوری بھی ہے۔
عمران خان بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں موجود ہوتے تو بالآخر پیغام یہ جاتا کہ ممکنہ Moreکروانے کے عمل میں ذاتی طورپر کچھ سہولت کاری کا کردار انہوں نے بھی ادا کیا تھا وہ کمال مہارت سے اس پورے عمل سے دور رہے۔ خود کو تاریخ کے روبرو معصوم اور لاتعلق ثابت کرنے کا بندوبست کر لیا ان کی ذہانت و فراست کو ایک بار پھر سلام بلکہ فرشی سلام! عمران خان کے ایچی سن کالج کے زمانے سے جگری دوست اور چکری سے آئے صادق وامین راجپوت، چودھری نثار علی خان صاحب 1985 ءسے عملی سیا ست میںبہت ہی متحرک ہونے کے باوجود مگر مذکورہ گہری بات سمجھ ہی نہ پائے۔ شاہد خاقان عباسی کی وزارتِ عظمیٰ میں اپنے لئے کوئی عہدہ لینے سے ا نہوں نے انکار کردیا۔ حکمران جماعت کے نام نہاد Hawksسے ان دنوں وہ کھچے کھچے رہتے ہیں۔بدھ کے روز قومی سلامتی کے حوالے سے اُٹھے سوالات نے مگر انہیں پریشان کر دیا۔ بہت تیاری کے ساتھ ایوان میں تشریف لائے۔ اپنی عادت کے عین برعکس ایک مختصر اور To The Pointتقریر فرماکر مجھ ایسے قنوطیوں کو بھی حیران کردیا۔
بہت کم لوگوں کو شاید یہ بات یاد رہی ہو کہ افغانستان میں سوویت یونین کی اینٹ سے اینٹ بجادینے والے غازی ضیاءالحق شہید نے جب مئی1988ءمیں جونیجو حکومت کو برطرف کیا تو اس کے بعد بنی کابینہ میں چودھری صاحب وزیر تیل وگیس بنائے گئے تھے۔ اپنی اس حیثیت میں انہوں نے ایک امریکی سرمایہ دار ڈاکٹر Hammerکے وزیر مہمان داری کے فرائض بھی سرانجام دئیے تھے۔ ڈاکٹر Hammerتیل کی صنعت سے وابستہ ایک بہت بڑی کمپنی کے مالک تھے ایک بڑے سرمایہ دار ہوتے ہوئے بھی روس کے ساتھ ان کا رویہ ہمیشہ دوستانہ رہا۔ موصو ف نے انقلابِ روس کے بانی لینن سے ملاقاتیں بھی کی تھیں۔ ان ملاقاتوں کی وجہ سے ڈاکٹر Hammerکو ان کے مخالفین ”سرخا“ بھی پکارتے تھے۔بہرحال غازی ضیاءالحق شہید نے جونیجو حکومت کو برطرف کیا تو اس کی اہم ترین وجہ اس حکومت کا اقوام متحدہ کی نگرانی میں افغانستان پر ہوئے جنیوا معاہدے پر دستخط کرنا بھی تھی۔جونیجو کو فارغ کرنے کے بعد ”فاتح افغانستان“ روس سے براہِ راست مذاکرات کے ذریعے اس ملک میں کوئی انتظامی بندوبست قائم کرنا چاہ رہے تھے۔ تیل کی ایک بہت بڑی کمپنیOccidentalکے مالک ڈاکٹر Hammerاس ضمن میں کوئی کردار ادا کرنے کو تیار تھے۔ ان دنوں کے روسی صدر گورباچوف کو ان پر اعتماد تھا۔ ڈاکٹر Hammerان کی ایماءپر جنرل ضیاءسے ملاقاتوں کے ذریعے صلح جو کا کردار ادا کرنے کو آمادہ ہوگئے۔ یہ کردار ادا کرنے کے لئے وہ خاموشی سے اسلام آباد اور ماسکوکے درمیان Shuttle Diplomacyمیں مصروف رہتے۔ چودھری نثار علی خان ڈاکٹر ہیمرکے قیامِ اسلام آباد کے دوران ان کے وزیر مہمان داری ہوا کرتے تھے۔ مذکورہ پسِ منظر کو جانے اور تھوڑا سمجھے بغیر آپ چودھری نثار علی خان کی بدھ کے روز قومی اسمبلی کے ایوان میں ہوئی تقریر میں چھپے پیغامات کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ فی الوقت محض یہ بیان کرنا ہی کافی ہے کہ چودھری نثار علی خان مسئلہ افغانستان سے جڑی پیچیدگیوں سے 1988ءسے خوب واقف ہیں۔ چودھری نثار علی خان کی تقریر بنیادی طورپر دونکات پر منحصر تھی۔ پہلا نقطہ یہ مطالبہ تھا کہ امریکہ والے جوہر دوسرے دن پاکستان کو ایک نہیں کئی بلین ڈالر لے کر بھی Double Gameکرنے والی کہانی سناتے ہیں،اس کہانی کو جھٹلانے کا بندوبست کیا جائے۔ ہماری ریاست کے Stakeholders،منشیوں کے ساتھ بیٹھیں۔ حساب لگایا جائے کہ جنرل مشرف کو نائن الیون کے بعد سے ایک فون آنے کے بعد پاکستان کو کب اور کس انداز میں کتنی رقوم ادا ہوئیں۔ ان رقوم کی مجموعی تعداد آخر میں کیا بنتی ہے اور وہ کہاں اور کیسے خرچ ہوئیں۔ مطالبہ بہت معقول ہے۔ یہ دو ٹکے کا رپورٹر مگر بضد ہے کہ چودھری نثار علی خان کا امریکہ سے مبینہ طورپر جو Billions of Dollarsآئے ہیں، ان کے Auditکا مطالبہ ہرگز مانا نہیں جائے گا۔ چودھری نثار علی خان کو مجھ سے زیادہ اس حقیقت کی خبر ہے۔ سمجھنے کی بات البتہ یہ ہے کہ انہوں نے یہ مطالبہ کیوں کیا۔
اس سوال کا جواب ڈھونڈنا ہو تو ان کی تقریر کے دوسرے نقطے پر غور کیجئے جس میں بارہا چودھری صاحب یہ درد مندانہ التجا کرتے رہے کہ پاکستان کی پارلیمان وزارتِ خارجہ اور عسکری ادارے بہت سوچ بچار کے بعد ایک مشترکہ بیانیہ تیار کریں۔ وہ تیار ہوجائے تو یہ تینوں یک زبان ہوکر اسی بیانیے کی گردان امریکی حکام سے ملاقاتوں کے دوران دہراتے رہیں۔ ایسا نہ ہوکہ امریکی حکام سے ملاقاتوں کے دوران ”وزارتِ خارجہ کا کوئی افسر“ ایک بات کرے تو ”وزارتِ خزانہ کا کوئی افسر“ اس کے برعکس کوئی دوسری بات۔ عسکری حکام کا چودھری صاحب نے نام نہیں لیا۔
ان کی شہرت ”راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان بنے پُل“ کی صورت مسلّم ہے۔اس بھرم کے تحفظ کے لئے یہ خاموشی ضروری تھی۔ میں دو ٹکے کا رپورٹر بھی اس کے علاوہ کچھ نہیں لکھوں گا۔ خدارا چودھری صاحب کی بدھ کے روز قومی اسمبلی میں ہوئی تقریر کا پورا متن کسی نہ کسی طورحاصل کریں اور عید کی چھٹیوں میں اسے کئی بار غور سے پڑھیں۔ امریکہ کے ساتھ ہمارے آئندہ تعلقات کی کلید اس تقریر میں موجود ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *