ایگزیکٹ اسکینڈل

syed arif mustafa

پس ثابت ہوا کہ ' بڑے بول کا سر نیچا' والا محاورہ محض کتابی نہیں اور وہ سیانے گرو جو میڈیا مہاراج بننے چلے تھے تو اب ان بڑے بڑے بول بولنے والوں کے لیئے اس محاورے سے بچ نکلنا ممکن نہیں رہا یعنی " سب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوگیا - محاورہ تو پرانا ہے لیکن ایسے ہر موقع پہ ذہنوں پہ فوری دستک دیتا ہے کہ جب کسی کے جھوٹ کی ہنڈیا بیچ چوراہے پہ آکے پھوٹ جائے - ایگزیکٹ والوں کے ساتھ 'ایگزیکٹلی' ایسا ہی ہوا ہے- نیویارک کی عدالت نے ایگزیکٹ کے چہرے سے نقاب ہی نوچ پھینکا اور اسکے نائب صدرعمیر حامد کو سزا سنا ڈالی-

Image result for aamir liaquat on bol

اب تو یقینناً سب  کی سمجھ میں آگیا ہوگا کہ لال پیلا بابا عامر لیاقت کیوں بار بار کبھی بدک کے تو کبھی پھدک کے اپنے شو میں یہ کہتا تھا کہ ہم کیوں بتائیں کہ بول کی آمدنی کے ذرائع کیا ہیں  لیکن وہ بتاتا بھی تو کیسے ؟ یہ نہیں کہ معلوم نہ تھا  بلکہ اس لیے کہ پوری طرح سے معلوم تھا -وہ کوئی پاگل تھوڑی تھا کہ اپنے راتب کو خود سے اوندھا دیتا ورنہ حقائق کا سورج تو ہر باخبر پہ روشن تھا کیونکہ یہ بات تو سادہ سی عقل رکھنے والا ہر فرد بہت آسانی سے سمجھتا ہے کہ فی زمانہ کوئی ٹی وی چینل چلانا کس قدر مہنگا عمل ہے اور یہ طلائی کشتی صرف ہیروں کے چپوؤں سے ہی چلا کرتی ہے - اور پھر بول میں تو ساری صورتحال ہی نہایت بناوٹی سی تھی کبھی رمضان ٹرانسمیشن میں تین تین ہوائی جہازوں کو انعام میں دینے کی نوید دی گئی تو کبھی اس کے انعامی ماہ شو میں ہر مہینے 3 کروڑ کا مکان دیئے جانے کی بڑھک ماری گئی۔۔۔۔ظاہر ہے کہ یہ سب ' مال حرام بود بجائے حرام رفت' کے مصداق تھا-

لاریب میڈیا کی کشتی کے چپو اسکے اشتہارات ہی ہوا کرتے ہیں‌ اور اس چپو کا انکاری درحقیقت کوئی چمپو یا چور ہی ہوسکتا ہے - لیکن بول میں تو صورتحال یہ ہے کہ بغیر اشتہارات کے ہی ہوشربا معاوضوں‌ سے نوازا جارہا ہے، اب ایسے میں اگر کچھ چند لوگ آنکھوں دیکھے مکھی اور لقمہء مشکوک نگلنے پہ آمادہ ہوں تو انکے لیئے ہدایت کی دعا کے سوا اور کیا کیا جاسکتا ہے- ہاں تو بات ہورہی تھی بول کے مالک ادارے ایگزیکٹ کی۔۔۔۔ فراڈ کے ایک مشہور مقدمے میں دیئے گئے اپنے ایک فیصلے سے جسکی بولتی امریکا کی ایک عدالت نے بند کردی ہے اور جہاں‌اسکے نائب صدر عمیر حامد نے کافی مدت سے چل رہے مقدمے میں بالآخر عتراف جرم بھی کیا اور ندامت کا اظہار بھی ،،، اور شاید اسی بناء پہ اسکی سزا میں کچھ نرمی بھی دیکھنے میں آئی جو کہ 21 ماہ کی قید پہ مشتمل ہے لیکن جعلی ڈگریاں بیچ کر کمایا گیا کالا پیسہ البتہ ضبط کرلیا گیا جو کہ 53 لاکھ ڈالرز یا پاکستانی 60 کروڑ روپوں‌ کے مساوی ہے - امریکی عدالت میں چلنے والے اس مقدمے کی بنیاد امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں تقریباً دو برس قبل شائع ہونے والا ایک مضمون بنا کہ جس میں ممتاز تحقیقی صحافی ڈیکلین والش نے امریکہ میں ایگزیکٹ کے ہاتھوں جاری کردہ جعلی ڈگریوں کے کاروبار کو بے نقاب کیا تھا کہ جس میں دنیا کے 197 ممالک سےتعلق رکھنے والے 2 لاکھ 15 ہزار افرد کو لوٹا اور بیوقوف بنایا گیا تھا اور امریکیوں‌ کے لیئے یہ حقیقت بہت شرمندگی کا باعث تھی کہ اس فراڈ کا نشانہ بننے والے لوگوں میں سے ایک تہائی سے زائد افراد امریکی شہری تھے ۔۔۔۔ بعد میں ایک انکشاف اور ہوا جو کہ اس سے بھی زیادہ شرمناک تھا اور وہ انٹرنیٹ پہ ننگی فلموں کو جاری کرنے والی سینکڑوں فحش ویب سائٹس چلانے کا تھا -

Image result for bol channel

جعلی ڈگریوں کے اس اسکینڈل کے سامنے آنے پہ دنیا بھر میں بڑی لے دے ہوئی اور پاکستان میں بھی زبردست شوروغوغا ہوا جس پہ یہ کیس ایف آئی کے حوالے کردیا گیا جس نے بظاہر تو بڑی پھرتیاں دکھائیں‌ لیکن جہاں معاملہ اربوں‌ کھربوں‌ کے اسکینڈل کا ہو وہاں‌ بقول دلاور فگار ' رشوت لے پھنس گیا ہے رشوت دے کے چھوٹ جا' جیسی حکمت ہی سب بند رستے کھولا کرتی ہے لہٰذا اگر ایگزیکٹ کے مالک نے اپنی گلو خلاصی کے لیئے کئی ارب خرچ کرکے گردن بچالی ہو تو یہ چنداں بعید از قیاس نہیں‌- ویسے بھی اس سارے مقدمے کے دوران پیسہ اور دباؤ ہر جگہ پہ کارفرما نظر آئے ورنہ ایسے خواہ مخواہ ہی تو نامعلوم وجوہ کی بناء پہ چار بار مخلتلف جج اور پراسیکیوٹر اس کیس سے الگ نہیں ہوتے رہے اور ایک کیس پراسیکیوٹر زاہد جمیل کے گھر پہ دستی بموں سے حملہ یونہی تو نہیں کیا گیا- پیمرا نے سیکیوریٹ گارنٹی کے معاملے پہ بول کی نشریات معطل کیں‌ تو ایک "طاقتور فرد" نے فون کرکے پیمرا کے ایک سینیئر افسر کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں اور بول کی نشریات کو کھلوانے کے لیئے گھناؤنا الٹی میٹم دیا جس کال کی ریکارڈنگ پیمرا نے میڈیا کو دی جو کئی چینلز پہ چلائی گئی-

پھر ایف آئی اے بھی تو اسی ملک کا ادارہ ہے اور ایسے متنازع معاملات کی بہتی گنگا میں تو ہاتھ دھونے کے مواقع تو اسے سامنے ہی پڑے مل گئے تھے چنانچہ پھر وہی ہوا جو کہ ہوتا آیا ہے یعنی شروع شروع کی پھرتیوں کے بعد ( جو کہ 'ریٹ' بڑھانے کے لیئے ناگزیر سمجھی جاتی ہیں‌) بعد ازاں ایف آئی نے تقریباً سوا سال تک تحقیقات کے نام پہ خصوصی و ماہرانہ' جھک' ماری اور حسب توقع سوائے ٹال مٹول کرنے اور وقت برباد کرنے کے، کچھ بھی نہ کیا ۔۔۔۔ اور جب بعد خرابیء بسیار اسکی تفتیشی رپورٹ‌ عدلیہ میں جمع کرادی گئی تومزید تعاون کا کام اسلام آباد کی متعلقہ عدالت کےڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پرویز میمن نے کرڈالاکیونکہ موصوف نے 10 ماہ قبل 31 اکتوبر 2016 کو ایگزیکٹ کے زیرحراست مالک شعیب شیخ اور اسکے ساتھیوں کو یکدم بری ہی کردیا- لیکن وہ جو کہا جاتا ہےنہ کہ 'جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے' تو جلد ہی فراڈ در فراڈ کی یہ چوری بھی پکڑی گئی اور یہ بھیناک حقیقت منظرعام پہ آگئی کہ ان جج موصوف نے رہائی کا یہ بیڑہ 50 لاکھ روپے لے کر اٹھایا تھا کیونکہ اس کرم پہ سے پردہ اٹھانے والے اسلام آباد ہائیکورٹ کے دو معزز جج یعنی جسٹس شوکت عزیز صدیقی اور جسٹس گلزار کیانی تھے کہ جنہوں نے ڈپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی میں یہ معاملہ اٹھایا تھا اور پھر مکمل پھنس جانے پہ ناچار اس سیشن جج کو کمیٹی کے روبرو اپنے جرم کا اعتراف کرنا ہی پڑا تھا -

لیکن اس سارے اسکینڈل کے معاملات سامنے آنے کے بعد کے ردعمل کے حوالے سے ملک کی سیاسی، مالیاتی اور اشرافیہ بھی بری طرح بے نقاب ہوگئی ہے کیونکہ شرمناک اور دلخراش بات یہ ہے کہ بات بات پہ سخت احتساب کی باتیں کرنے والے اور ہر آن بائیکاٹ کا اعلان کرنے کی عادی ملک کی کسی غیرت مند سیاسی و دینی جماعت نے اس صوررتحال کا کوئی نوٹس نہ لیا اور ایگزیکٹ کے اس فراڈ کے سامنے آجانے پہ اس سے کے کالے پیسے سے چلنے والے چینل کے بائیکاٹ کرنے کا کوئی اعلان نہیں کیا اور نہ ہی اسکے خلاف کسی کارروائی کا مطالبہ کیا بلکہ نہایت بے غیرتی اور ڈھٹائی سے اسکی اسکرین پہ 'جلوہ افروز' ہوتے رہے اور تو اور کرپشن کے خاتمے کے لیئے آئے دن ریلیاں نکالنے والے بزرگ صورت تقدس مآبوں اوربڑی تبدیلی لانے اور نیا پاکستان بنانے کے دعویداروں کو بھی مطلق شرم نہ آئی کہ کالے پیسے سے چلتے ادارے اور اسکے تحت قائم کیئے گئے چینل سے متعلق مقدمے میں جج کی جانب سے رشوت لینے کے اعتراف کے بعد وہ اس چینل کو از خود دھتکار دیتے ۔۔۔ لیکن ثابت ہوا کہ انہیں تو اپنی ذاتی نمود و نمائش سے سروکار ہے نہ کے اصولوں اور اخلاقیات سے ۔۔۔

Related image

لیکن ان سب باتوں کے باوجود میں یہاں ایگزیکٹکے مالک شعیب شیخ کا ہی ایک پسبندیدہ سلوگن اسکے منہ پہ ہی پلٹتا ہوا دیکھ رہا ہوں کیونکہ وہ اس روحانی و عارفانہ فقرے کو بھی اپنے مذموم کاموں کی تائیدی قوت کے طور پہ استعمال کرتا پھرتا تھا کہ 'ایک اللہ کافی ہے' تو واقعی رب العزت نے دن کے اجالے میں اور برسرعام یہ کردکھایا ہے کہ کسی بری قوت کے ساتھ کتنے ہی لوگ کیوں نہ مل جائیں وہ ایک دن حقیقت کو آشکار کرہی ڈالتا ہے کیونکہ جیسا کہ پاکستان میں ہوا تھا کہ دولت کی طاقت کے بل پہ ایگزیکٹ والوں نے کئی صحافتی تنظیموں ، جمہوریت کے سیاسی چیمیئنوں، مال دولت سے لبریز قارونوں اور فکرو نظر اور علم و ادب کے گماشتوں کو اپنی طرف کرلیا تھا تو یہ بہت مشکل تھا کہ اس خوفناک مافیائی ادارے کو میڈیا کا مہاراج بننے سے روکا جاسکے لیکن  ' پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے ' تو اس باب میں رب زوالجلال کی مشیت نے یہی کردیا ہے اور امریکی 'کافروں' سے وہ کام لے لیا جواسلامی جمہوریہ پاکستان کے اہل ایمان نہ کرپائےاور ہمارے ہی ملک کی بدنامی کا سبب بننے والوں کی سرکوبی کا کام ہماری عدلیہ کے بجائے امریکی عدالت کے ہاتھوں ہوگیا-  اب بھی اس ضمن میں یہاں بدنامی کے اس نشان کو مٹانے اور ذلت کے اس داغ کو دھونے کا بڑا کام پڑا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ یہاں کے غافل طاقتور اداروں کی آنکھیں کب کھلتی ہیں!!!


arifm30@gmail.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *