آبادی کا ٹائم بم

khalid mehmood rasool

ہمارے سیاسی اور غیر سیاسی معاملات میں اعداد و شمار کی حرمت کیا ہے؟ اس کا اندازہ ہر ہما شما کو خوب ہے۔ دس ہزار کا جلسہ ایک لاکھ کا بھی ہو سکتا ہے اور لاکھ کا جلسہ دس ہزار کا بھی۔ اس کا انحصار کہنے اور ماننے والے پر ہے۔ ہمدرد جماعت ہو تو ایک لاکھ، مخالف جماعت ہو تو دس ہزار بھی زیادہ ہیں۔ کچھ یہی حال شہروں کی آبادی اور دیہی شہری آبادی کے تناسب کے اندازوں کا بھی ہے۔ ہمارے ہاں مرکز میں ایک ادارہ ہے جو ملکی شماریات جمع کرتا ہے۔ افراطِ زر، امپورٹ ایکسپورٹ سمیت روزمرہ کے بہت سے شعبوں کے اعداد و شمار یہی شعبہ اکٹھے کرتا ہے جس کی بنیاد پر ملکی معیشت کی بہت سے اشاریے ترتیب پاتے ہیں اور پالیسی فیصلے ہوتے ہیں۔
دنیا بھر میں ملکی آبادی کی گنتی سمیت ہر معاملے میں شماریات کی کلیدی اہمیت ہے لیکن ہمارے ہاں شماریات عوامی سطح پر ترجیحات میں ہے نہ اجتماعی سطح پر۔ ہمارے بزرگوں نے اس اہمیت کا احساس کرتے ہوئے آئین میں ہر دس سال بعد مردم شماری کروانا ایک آئینی ذمہ داری قرار دی لیکن اس ذمہ داری سے بالعموم پہلو تہی کی گئی۔ 1981 کے بعد مردم شماری 1998 میں ہو پائی۔ اصولی طور پر اگلی مردم شماری کو دس سال بعد ہونا چاہئے تھا لیکن یہ ممکن نہ ہو سکا۔ ا س دوران غیر سیاسی حکومت بھی رہی اور پی پی کی حکومت بھی رہی۔ موجودہ حکومت نے بھی ہر ممکن کوشش کی کہ یہ گھنٹی اسے اپنے گلے نہ باندھنی پڑے لیکن اعلیٰ عدالت نے اس آئینی ذمۃ داری سے مزید مفر نا ممکن بنا دیا۔ یوں عدالتی حکم کی تعمیل کی مجبوری میں مردم شماری کا ڈول ڈالا گیا۔
وہی ہوا جس ڈر سے ہر حکومت نے یہ گھنٹی اپنے گلے باندھنے سے گریز کیا۔ اِدھر مردم شماری کے ابتدائی نتائج آئے اْدھر ان نتائج کے بخیے ادھڑنا شروع ہو گئے۔ فاروق ستار کا گِلہ ہے کہ کراچی کی آبادی کسی بھی صورت تین کروڑ سے کم نہیں لیکن مردم شماری نے اسے ایک کروڑ انچاس لاکھ دکھایا ہے۔ خورشید شاہ کی شکایت ہے کہ سندھ کی مجموعی آبادی ایک کروڑ کم دکھائی گئی جبکہ اتنی ہی آبادی پنجاب کی بڑھا دی گئی۔ شہروں کی آبادی کی تعداد سامنے آنے پر یہ نکتہ چینی مزید تیز ہو گئی کہ اگر لاہور شہر کی آبادی میں انیس سالوں میں 116% فی صد اضافہ ہوا تو کراچی میں فقط 60% کیسے ممکن ہے؟ مردم شماری پروجیکٹ کے سربراہ آصف باجوہ نے اس کی وضاحت یوں کی کہ کراچی میں دو اضلاع ملیر اور کورنگی کو صوبائی حکومت ہی نے رورل یعنی دیہی قرار دے رکھا ہے لہٰذا اس تعریف کے مطابق ان دو اضلاع کی آبادی کراچی شہر میں شامل نہیں۔ گِلہ کرنے والے صوبائی حکومت کی اس شہری دیہی تعریف کی طرف رجوع کریں۔ دوسری طرف پنجاب حکومت نے خیر سے لاہور ضلع کے تمام علاقے شہری قرار دے رکھے ہیں۔ اس لئے جو بھی کیا دھرا ہے ان ٹیکنیکل تعریفات یعنی Definitions کا ہے لیکن سیاست دانوں کو ان پھیکی ٹیکنیکل اصطلاحات سے غرض نہیں بلکہ اپنے سیاسی بیانئے کی زیادہ فکر ہے۔
مردم شماری میں سیاست دانوں کی دلچسپی قابل فہم ہے کہ NFC ایوارڈ کے ذریعے وفاقی رقوم کی تقسیم میں آبادی کا حصہ سب سے اہم ہے۔ آبادی کے تناسب اور وقوع کی بنیاد پر ہی الیکشن کی حلقہ بندیاں ہوتی ہیں۔ حکومتوں کے بننے اور مالیاتی وسائل کی حصہ داری میں مردم شماری ایک اہم ترین فارمولا ہے۔ ایک دفعہ طے ہو گیا تو اگلی مردم شماری تک اسی پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ وطن عزیز میں کسی بھی اختلاف کو آخری حد تک لے جانے کا تیر بہدف نسخہ معاملے کی بنیاد کو بد نیتی اور مفادات سے نتھی کرنے کا ہے، سو وہی ہو رہا ہے۔

Image result for mardam shumariسیاسی کھینچا تانی، صوبوں کے مابین مردمی تناسب اور شہروں کی آبادی سے قطع نظر مردم شماری کے اعداو شمار تباہ کن رجحانات کے غماز ہیں۔ کئی سالوں سے ہر آنے والی حکومت کریڈٹ لیتی رہی کہ انہوں نے آبادی کی شرح کنٹرول کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ سال در سال پاکستان اکنامک سروے میں افزائش آبادی دو فی صد سے نیچے بتلائی گئی۔ فی کس آمدنی اسی بنیاد پر بتا ئی جاتی رہی ، فی کس قومی قرض کا حساب بھی اسی طرح کیا جاتا رہا۔ تمام ہیومن ڈیویلپمنٹ انڈکس انہی اعدا و شمار کی بنیاد پر شمار ہوتے رہے۔ دور کیا جانا، اس سال کے اکنامک سروے میں بھی آبادی بیس کروڑ سے کچھ کم بتائی گئی لیکن مردم شماری کے ابتدائی نتائج نے سب اندازے غلط ثابت کر دئیے۔ کہنے کی حد تک نہیں، واقعتاٌ پاکستان آبادی کا ٹائم بم ٹِک ٹِک کر رہا ہے۔ اس کے تباہ کن اثرات پر غور نہ کیا گیا اور اسے کنٹرول نہ کیا گیا تو ملک کے معاشی، سیاسی اور معاشرتی ڈھانچے کو اَن چاہے اور اَن دیکھے جھٹکوں سے کوئی بھی روک نہ سکے گا۔
انیس سالوں میں آبادی بڑ ھ کر 207.77 ملین ہو چکی ہے یعنی تقریباٌ اکیس کروڑ کے لگ بھگ۔ آبادی کی شرح افزائش سالانہ 2.4% ہے جو دنیا کی بلند ترین شرح میں سے ہے ۔ انیس سالوں میں آبادی میں 57% اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی آبادی میں اسی رفتار میں اضافہ ہوتا رہا تو اگلے تیس سالوں میں یہ آبادی بھی دوگنی ہو جائے گی۔ شہری دیہی کا تناسب بظاہر زیادہ تبدیل نہیں ہوا یعنی 36% سے کچھ زائد لیکن اس بظاہر جامد تناسب کی تہہ میں شہری اور دیہی علاقوں کی غیر حقیقی سرکاری تعریف ہے جو صوبائی حکومتوں نے کر رکھی ہے جو سراسر انتظامی مقاصد کے لئے ہے ۔ جبکہ معیشت دانوں کے ہاں مستعمل اور قابل قبول تعریف یہ ہے کہ ہر وہ آبادی جس کے خدو خال شہری رہن سہن اور بنیادی ڈھانچے سے مماثل ہوں شہری آبادی قرار پائے گی۔ اس تعریف پر جائیں تو پاکستان کی نصف کے لگ بھگ آبادی شہری کہلانے کی مستحق ہے۔
آبادی ایک اثاثہ بھی ہے اور اگر مناسب انداز میں اسکی پرورش اورصلاحیتوں کو صیقل نہ کیا جائے تو ایک اہم معاشرتی ، سیاسی اور معاشی مسئلہ بھی۔ اسی لئے معاشی ماہرین حدِ تناسب سے زائد آبادی کو ٹائم بم سے تشبیہہ دیتے ہیں۔ بد قسمتی اور غلط ترجیحات کے سوا اِسے کیا کہئے کہ مردم شماری کے نتیجے میں سامنے آنے والے ہوش ربا رجحانات پر تشویش اور فکر مندی کے آثار تو خال ہی کسی ذمہ دار حلقے میں سے سامنے آئے۔ میڈیا اور عوام میں بھی صرف اس کے سیاسی بیانیئے والے پہلو ہی زیرِ بحث آئے، اس کے دیگر معاشرتی اور معاشی پہلو دیکھنے کی حسرت ہی رہی۔ پاکستان اس مردم شماری کی رْو سے اب دنیا کا چوتھا بڑا ملک بن چکا ہے ، چین، بھارت ، امریکہ اور انڈونیشیا کے بعد۔ اس دوران 1980 سے لیکر 2015 کی عالمی آبادی کی صورتحال کچھ یوں رہی۔ دنیا کی کل آبادی 4.421 ارب سے بڑھ کر 7.326 ارب ہو گئی، یعنی دنیا کی کل آبادی میں اس دوران میں 65% اضافہ ہوا۔ اس دوران بھارت کی آبادی میں 88% ، بنگلہ دیش کی آبادی میں 99% ، چین کی آبادی میں 41% ، جرمنی کی آبادی میں صرف چار فی صد، انڈونیشیا کی آبادی میں 75% جبکہ اس دوران پاکستان کی آبادی میں2015 کے اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق142% اضافہ ہوا۔ اب اگر حالیہ مردم شماری کے اعداد وشمار کو بنیاد بنائیں تو یہ اضافہ 150% سے بھی زائد بنتا ہے۔
اس تقابل سے جو نکتہ سامنے آتا ہے کہ دنیا کے متمول اور آبادی کے دباؤ والے ممالک میں آبادی کی افزائش کی شرح کیا رہی اور ہمارے ہاں کیا رہی ۔ مردم شماری کے سیاسی اور مالیاتی مضمرات سے ہر گز انکار نہیں لیکن اس سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں یہ حقیقت بہت بے دردی سے نظر انداز ہوئی کہ ہم آبادی کے جس ٹائم بم پر بیٹھے ہیں اس کی ٹِک ٹِک ہماری توقع سے کہیں تیز ہے۔ ملک کی آبادی کا ساٹھ فی صد تیس سال سے کم عمروں پر مشتمل ہے جن کے لئے تعلیم، صحت، روزگار اور رہائش جیسی سہولتوں میں ہر آن ہماری استطاعت سے زائد کی ضرورت ہے۔ ہیومن انڈکس پر پاکستان کی رینکنگ دنیا میں 147 ویں نمبر پر ہے۔ تیس فی صد سے زائد آبادی خطِ غربت سے نیچے رہنے پر مجبور ہے۔ بری بھلی جو بھی خواندگی ہے اس کی شرح بھی 58% ہی ہے۔ اس قدر آبادی کے ساتھ ماحولیات کے سنگین چیلنجز الگ ہیں مثلاٌ ماحولیاتی تبدیلی، جنگلات کی شدید کمی، ماحولیاتی آلودگی، ویسٹ مینیجمنٹ، پانی کی قلت وغیرہ۔ ان پھن پھیلائے مسائل کی موجودگی میں اگر ہم پریشان ہیں تو اس پر کہ ایک صوبے اور شہر کی آبادی میں حسبِ توقع اضافہ کیوں نہ ہوا۔ یاسمین حمید کے بقول:
کھو گیا کثرتِ گویائی کے ہنگامے میں
ایک جو حرف تھا گفتار میں دانائی کا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *