اسلام کے قانون طلاق کی وضاحت

aizaz ahmed kiani

ابھی کچھ ہی دن ہوئے ہیں کہ انڈیا کی ایک عدالت نے ا پنے ایک اکثریتی فیصلے میں بیگ وقت تین طلاقوں کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ انڈیا کی عدالت کے اس فیصلے کے بعد اسلام کے قانون طلاق کے متعلق پاکستان میں بھی ایک نئی بحث شروع ہو گئی ۔ اس بحث میں اٹھائیجانے والے سوالات بھی جزوی نوعیت کے تھے اور جوابات کی نوعیت بھی بعینہ ویسی ہی تھی لہذا میرے نزدیک لازم ہے کہ اسلام کے قانون طلاق کی مکمل وضاحت کر دی جائے جس میں کہ اس سے متعلقہ تمام سوالات کے جوابات اسلامی اصولوں کے مطابق واضح کر دیے جائیں تا کہ اسلام کا قانونِ طلاق لوگوں پر واضح ہو جائے۔
طلاق کے لغوی معنی آزادی اور گشادگی کے ہیں مگر شریعت اسلامی میں طلاق سے مراد ایسا عمل ہے کہ جس سے میاں بیوی کے مابین نکاح کی صورت میں ہونے والے معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے ہے یا منسوخ ہو جاتا ہے۔

طلاق اور ایام عدت:

اللہ تعالیٰ نے قران مجید کی متعد آیات میں قانون طلاق کی وضاحت کی ہے چنانچہ سورہ بقرہ کی آئیت نمبر 228 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
طلاق والی عورتیں اپنے تئیں تین حیض تک رکی رہیں، انہیں حلال نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انکے رحم میں جو پیدا کیا ہے وہ چھپائیں، اگر انہیں اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان ہو، ان کے خاوند اس مدت میں انہیں لوٹا لینے کے پورے حقدار ہیں اگر انکا ارادہ اصلاح کا ہو، عورتوں کے بھی اس مثل حقوق ہیں جیسے ان پر ہیں اچھائی کے ساتھ،مردوں کے ان پر بڑے درجے ہیں اور اللہ غالب حکمت والا ہے (پارہ 2 سورۃ بقرہ آیت نمبر 228)
اس آیت قرانی میں اول تو عورتوں کے لیے طلاق کی صورت میں ایام عدت کا تعین کیا گیا ہے جسکی مدت تین حیض قرار دی گئی ہے یعنی عورت طلاق کے بعد جب تک تین مکمل حیض نہ گزار لے وہ عدت ہی میں رہے گی۔
دوم عورتوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے حیض کے بارے میں صداقت سے کام لے یعنی عدت کی مدت کم کرنے کی خاطر یہ نہ کہہ دیں کہ انہیں حیض آ گیا ہے اور نہ عدت کی مدت بڑھانے کے لیے یہ کہہ دیں کہ مجھے حیض نہیں آیا بلکہ جیسا بھی معمالہ ہو وہ راست گوئی سے کام لیں۔
سوم اس آیت قرانی میں شوہروں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ اگر انکا ارادہ واقعی گھر بسانے اور صلح کرنے کا ہو تو وہ ان مُعین ایام میں عورت سے رجوع کر سکتے ہیں یعنی انکو اپنی زوجیت میں واپس لا سکتے ہیں۔

عدت:
اس آیت قرانی میں ایسی عورتیں جنکو طلاق ہو جائے انکی عدت کا بیان ہے جو تین حیض بیان کی گئی ہے۔ اپنی مقررہ عدت گزارنے کے بعد عورتیں آزاد ہیں اور اگر وہ چاہئیں تو نیا نکاح بھی کر سکتی ہیں مگر اس عدت سے کچھ عورتیں مستشنیٰ ہیں جن کی عدت کو اللہ تعالیٰ نے سورہ طلاق میں بیان کیا ہے:
تمہاری عوتوں میں سے جو عورتیں حیض سے نا امید ہو گئی ہوں، اگر تمہیں شبہ ہو تو انکی عدت تین مہینے ہے اور انکی بھی جن کو ابھی حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہو اور حاملہ عورتوں (کے لیے یہ) مدت انکے بچے کا پیدا ہو جانا ہے، اور جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے گا اللہ تعالیٰ اسکے کام میں آسانی کردے گا (پارہ 28، سورہ طلاق، آیت5)

دو طلاقیں اور قانون خلع:
اسلام میں شروع شروع میں اس بات کی قید موجود نہ تھی کہ طلاق کی وہ کونسی تعداد ہے جس تک مقررہ عدت میں رجوع کیا جا سکتا ہے بلکہ شروع کے ایام میں تمام طلاقیں رجعی(یعنی جس میں عدت کے دوران رجوع کیا ہو جا سکتا ہو) ہی شمار ہوتی تھیں لیکن بعد میں انکی تعداد بھی مقرر ک دی گئی چنانچہ سورہ بقرہ کی آئت نمبر 229 میں ارشاد ہوتا ہے کہ:
یہ طلاقیں (رجعی)دو مرتبہ ہیں پھر یا تو اچھائی سے روکنا ہے یا عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینا ہے، تمہیں حلال نہیں کہ تم نے انہیں جو دیا ہے اس میں سے کچھ بھی لو ہاں یہ اور بات ہے کہ دونوں کو اللہ کی حدیں قائم نہ کھ سکنے کا خوف ہو، پس اگر تمہیں یہ ڈر ہو کہ یہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت جو کچھ بدلہ دیکر چھوٹے، اس میں دونوں پر کچھ گناہ نہیں یہ ہیں اللہ کی حدیں خبردار ان سے آگے نہ بڑھنا اور جو لوگ اللہ کی حدوں سے آگے بڑھیں وہ ظالم ہیں۔ (پارہ 2، سورہ بقرہ آئت 229)
اسلام سے قبل طلاق کے دستور میں طلاق کی کوئی تعداد مقرر نہ تھی بلکہ مرد جتنی چاہے طلاقیں دے سکتا تھا اور دوران عدت رجوع کر سکتا تھا چنانچہ کچھ مردوں کی جانب سے عورت کو تنگ کرنے کے لیے بار بار طلاق دی جاتی اور دوران عدت رجوع کر دیا جاتا تھا اور یوں عورت ذات مسلسل ایک عذاب میں مبتلاء رہتی تھی۔ اسلام نے عورتوں پر یہ احسان عظیم کیا اور قیامت تک کے لیے ان کو اس عذاب مسلسل سے نجات دلائی کہ اس دستور طلاق کو باطل قرار دیا اور مردکا یہ اختیار دو طلاقوں تک محدود کر دیا یعنی مرد صرف دو طلاقوں کی صورت میں ہی دوران عدت رجوع کرنے کا حق رکھاتا ہے اور تیسری طلاق کو طلائق بائن (ایسی طلاق جس کے بعد رجوع نہ ہو سکے) قرار دیا یعنی تیسری طلاق کے بعد شوہر کے پاس عورت سے رجوع کا کوئی حق باقی نہیں رہتا۔
دو طلاقوں کے بعد شوہر کو دو اختیار حاصل ہیں اول یہ کہ وہ دوران عدت رجوع کر لے مگر یہ رجوع کسی غلط نیت، ارادے سے نہ ہو اور نہ کسی انتقامی جذبے کے تحت ہو بلکہ اس میں اصلاح اور گھر بسانے کی نیت ہو اور طلاق کی صورت میں سر زد ہونے والی غلطی کے ازالے کا پہلو غالب ہو جیسا کہ آیت نمبر 228 میں فرما دیا گیا ہے کہ انکا ارادہ اصلاح کا ہواور اس آیت یعنی آیت نمبر 229 میں فرمادیا گیا ہے کہ اچھائی سے روکنا ہے۔
دوسرا اختیار مرد کے پاس یہ ہے کہ وہ عدت کو گزر جانے دے تا کہ عورت الگ ہو جائے یا تیسری طلاق دے کر عورت کو مستقلا علحیدہ کر دے مگر یہاں بھی عمدگی کے ساتھ چھوڑ دینے کا حکم ہے۔ یہ اسلام ہی کا وصف خاص ہے کہ وہ میاں بیوں میں علحیدگی کی صورت میں بھی حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے۔ اس آیت کریمہ میں مرد کو حکم دیا گیا ہے کہ اگر وہ عورت کو علحیدہ کرنے کا پختہ ارادہ کر چکا ہے تو نہائیت عمدگی کے ساتھ عورت کو علحیدہ کردے ، اس پر کسی بھی طرح کا نہ کوئی ظلم کرے اور نہ مال کی لالچ میں عورت تنگ کرے کے وہ کچھ مال و دولت کے عوض طلاق پر راضی ہو جائے اور نہ طلاق کے عوض عورت سے کسی طرح کے مال کا مطالبہ کرے۔

خلع:
خلع سے مراد یہ ہے کہ جب عورت اس بات کا پختہ فیصلہ کر لے کہ اسکا اب اپنے شوہر کے ساتھ گزارا ممکن نہیں تو وہ شوہر سے طلاق لینے کا اختیار رکھتی ہے۔خلع میں عورت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ شوہر کو فدیہ (مہر) دے کر اس سے طلاق طلب کرے جس کا اشارہ مذکورہ بالا آئت میں دیا گیا ہے۔
اس آیت کی شان نزول کے بارے میں ایک روایت میں آتا ہے کہ حبیبہ بنت سہل حضرت ثابت بن قیس شماس صحابی کی بیوی تھیں۔ ایک دن حضور بنی اکرم ﷺ فجر کی نماز کے لیے اندھیرے اندھیرے نکلے تو دیکھا کہ دروازے پر حضرت حبیبہ کھڑی ہیں، پوچھا کون ہو؟ کہا حبیبہ بنت سہل انصاریہ،فرمایا آقاﷺ نے کیا بات ہے؟ کہا میں ثابت بن قیس کے گھر نہیں رہ سکتی، آپﷺ سن کر خاموش رہے، جب حضرت ثابت آئے تو آپﷺ نے فرمایا تمہاری بیوی صاحبہ کچھ کہہ رہی ہیں،حضرت حبیبہ نے کہا حضورﷺ میرے خاوند نے جو مجھے دیا وہ سب میرے پاس موجود ہے اور میں اسے واپس کرنے پر آمادہ ہوں ، آپﷺ نے حضرت ثابت کو فرمایا سب لے لو، چنانچہ انہوں نے لے لیا اور حضرت حبیبہ آزاد ہو گئیں۔
جس طرح طلاق کی تعداد کا تعین کر کے اسلام نے عورتوں پر احسان کیا ہے ٹھیک اسی طرح خلع کی صورت میں اسلام نے عورتوں پر ایک دوسرا احسان کیا ہے۔ یعنی اگر کسی عورت کا شوہر اس پر ظلم کرتا، اس پر تشدد کرتا ہے، اسکے حقوق ادا نہیں کرتا یا اُن قبیح عادات و اطوار کا مالک ہے کہ جن کی موجودگی میں گزارا ممکن نہیں تو اسلام عورتوں کو بندی اور قیدی بن کر زندگی گزارنے کا پابند نہیں کرتا بلکہ عورتوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی طرف سے طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہیں۔

تیسری طلاق:
پھر اگر اسکو (تیسری) طلاق دے دے تو اب اس کے لیے حلال نہیں جب تک کہ وہ عورت اسکے سوا دوسرے سے نکاح نہ کرلے، پھر اگر وہ بھی طلاق دے د ے تو ان دونوں کے میل جول (نیا نکاح) کر لینے میں کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ یہ جان لیں اللہ تعالیٰ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے، یہ ہیں اللہ تعالیٰ کی حدیں جنکو وہ لوگوں کے سامنے بیان فرما رہا ہے (پارہ 2، سورہ بقرہ، آیت 230)
اس آئت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے طلاق کی آخری حد بیان کر دی ہے، یعنی جب کوئی شوہر اپنی بیوی کو تیسری اور آخری طلاق دے دے تو اب اسکی بیوی مطلق اس کے نکاح سے نکل جائے گی اور شوہر کے لیے رجوع کی کوئی صورت نہیں ہوگی سوائے اسکے کہ حلالہ کیا جائے جسکی تفصیل آگے آئے گی۔
مزید ایک ہدایت
جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عد ختم کرنے پہ آئیں تو اب انہیں اچھی طرح بساؤ یا بھلائی کے ساتھ الگ کر دو اور انہیں تکلیف پہنچانے کی غرض سے ظلم و زیادتی کے لیے نہ روکو، جو شخص ایسا کرے اس نے اپنی جان پر ظلم کیا، تم اللہ تعالیٰ کے احکام کو ہنسی کھیل نہ بناؤ اور اللہ کا احسان جو تم پر ہے یاد کرو او جو کچھ کتاب و حکمت اس نے نازل فرمائی ہے جس سے تمہیں نصحیت کر رہا ہے اسے بھی اور اللہ سے ڈرتے رہا کرو، جان رکھو اللہ ہر چیزکوجانتا ہے (پارہ 2، سورہ بقرہ آیت 231)
اوپر کی آیات میں اگرچہ آئین طلاق کی وضاحت ہو چکی ہے لیکن اس آیت میں مسلمانوں کو مزید ہدایت کی جارہی ہیں جیسا کہ اس سے پہلی والی آیات میں بھی فرمایا تھا کہ جب تم عورت کو طلاق دے چکو اور وہ عدت پوری کرنے کے قریب پہنچے تو یا تو تم اچھائی کے ساتھ اس سے رجوع کر لو یعنی محض اس سے انتقام لینے یا اس پر کسی قسم کا ظلم و تشدد کرنے کی خاطر نہ روکو لیکن اگر تمہارا رجوع کا ارادہ نہیں ہے تو عمدگی، اچھائی اور احسن طریقے سے اسے چھوڑ دو، اس پر کسی بھی کسی کا کوئی ظلم و زیادتی نہ کرو۔ اس آیت میں مسلمانوں کو یہ حکم بھی دیا جا رہا ہے کہ آئین طلاق کے پر اسکی اصل روح کے مطابق عمل کرو اور اللہ تعالیٰ کے احکام اور آیات کا مذاق نہ اڑاؤ۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کا مذاق اڑانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی اصل روح کو مسخ کر دیا جائے،اللہ کے احکام کی من چاہی تاویلات کی جائیں اور خوہش نفس کو اللہ کے احکام پر مقدم کیا جائے۔
ایک لطیف نکتہ:
اسلام کے آئین طلاق پر اگر غور کیا جائے تو ایک نہائیت دلچسپ اور لطیف بات سامنے آتی ہے ہے یعنی یہ کہ اسلام نے جہاں بھی مرد کو یہ اختیار دیا کہ وہ مقرہ مدت(عدت) میں عورت سے رجوع کر لے یا اسکو مطلقا اپنی زندگی سے نکال دے تو ایک حکم میں تواتر نظر آتا ہے یعنی رجوع کی صورت میں بھی اور عورت سے مستقل علحیدگی کی صورت میں بھی مرد کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اگر رجوع کرتا ہے تو بھی اصلاح کی نیت سے اور اچھے طریقے سے انہیں روک لو اور اگر ان کو چھوڑنا چاہتے ہو تو بھی اچھے طریقے سے انہیں علحیدہ کر دو اور ان پر کسی بھی طرح کا کوئی ظلم نہ کرو۔ تین بار یہ حکم سورہ بقرہ کی آیات نمبر 229،228،اور 230 میں جبکہ چوتی بار یہی حکم سورہ طلاق میں کیا گیا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ:
پس جب یہ عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو یا تو انہیں قاعدے کے مطابق اپنے نکاح میں رہنے دو یا دستور کے مطابق انہیں علحیدہ کردو۔ (پارہ 28، سورہ طلاق، آیت 2)
طلاق کے بعد نکاح:
اور جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت پوری کر لیں تو انہیں انکے خاوندوں (نئے یا پرانے) سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب وہ آپس میں دستور کے مطابق رضامند ہوں، یہ نصحیت انہیں کی جاتی ہے جو تم میں سے اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں، اس میں تمہاری بہترین ستھرائی اور پاکیزگی ہے، اللہ تعالیٰ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے(پارہ 2سورہ بقرہ،آیت 232)
اسلام کا منشا ہر گز یہ نہیں کہ وہ عورتیں جن کو طلاق ہو چکی ہو وہ اپنی باقی زندگی گھرکے کسی کونے کدرے میں یا کسی بند کمرے میں گزار دیں ،اسلام کا منشاء یہ بھی نہیں ہے کہ طلاق یافتہ عورتیں اپنی بقیہ زندگی حالت سوگ میں گزار دیں یا مستقلا اپنے اوپر غموں کو ہی حاوی کر رکھیں اور نہ اسلام طلاق یافتہ عورتوں کو معاشرہ کا عضو معطل بناتا ہے کہ ان کامعاشرے میں کوئی کردار ہی باقی نہ رہے بلکہ اسلام ایسی عورتوں کو عدت کے بعد ایک نئی زندگی عطا رتا ہے۔
طلاق یافتہ عورتوں کو یہ حق حاصل ہے کہ عدت کے بعد اگر کوئی رشتہ انکے سامنے ہو اور وہ خود بھی نکاح کرنا چاہئیں تو وہ بلکل نکاح کر سکتی ہیں اور ایک نئی زندگی کی شروعات کر سکتی ہیں۔
عورتوں کے والی وارثوں کو بھی ہدایت کی جاری کہ اگر وہ شریعت کے مطابق نکاح کرنا چاہئیں تو وہ انہیں نکاح کرنے سے نہ روکیں بلکہ شریعت کے مطابق متعلقہ جگہ انکا نکاح کر دیں۔
طلاق کا صحیح طریقہ اور تین طلاق:
اے بنیﷺ اپنی جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو انکی عدت (طہر) میں انہیں طلاق دو اور عدت کا حساب رکھو اور اللہ سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرتے رہو اور تم انہیں انکے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کھلی بے حیائی کر بیٹھیں، یہ اللہ کی مقررہ کردہ حدود ہیں، جو شخص اللہ کی حدود سے آگے بڑھ جائے اس نے یقیناًاپنا ہی برا کیا، کوئی نہیں جانتا شاید اللہ تعالیٰ اسکے بعد نئی بات پیدا کر دے (پارہ 28، سورہ طلاق، آیت 1)
اس آیت کریمہ میں عورتوں کو ایام مخصوص میں طلاق دینے سے روکا جا رہا ہے اور مسلمانوں کو یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ کہ اگر عورتوں کو طلاق دینی ہو تو انکے پاکی کے ایام میں طلاق دو ، چنانچہ رسول اکرم ﷺ کے زمانے مین جب عبداللہ ابن عمر نے اپنی اہلیہ کو حالت حیض میں (رجعی) طلاق دی اور اسکا علم نبی اکرمﷺ کو ہواتو آپﷺ نے فرمایا اسے چاہئیے کہ رجوع کر لے پھر حیض سے پاک ہونے تک روکے رکھے پھر دوسرا حیض آئے اور اس سے نہا لیں پھر اگر جی چاہے تو طلاق دیں(بخاری)
طلاق کا سب سے بہتر طریقہ یو یہ ہے کہ عورت کو پاکی کے ان ایام جن میں اس کے ساتھ ملاپ نہ ہوا ہو ایک طلاق دی جائے اور عدت کو گزر لینے دیا جائے۔
فقہ حنفی میان اس طریقہ طلاق کو احسن طلاق کہا گیا ہے ، فقہ مالکی میں اس طلاق کو سنی طلاق کہا گیا ہے جبکہ فقہ ھنبلی کا بھی معتبر طریقہ یہی ہے جس پر جمہور جنابلہ کا اتفاق ہے ( تفہیم القران ، تفسیر سورہ طلاق ، سید ابواعلی المودودی)
تین کا طلاق کا طریقہ جسے فقہ حنفی میں حسن طلاق کہا گیا ہے یہ ہے کہ عورت کو تین طہروں میں تین طلاقیں دی جائیں لیکن اگر کسی نے ایک ہی طہر میں یا ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دی ہیں تو چاروں فقہاء (ابو حنیفہ، مالک، شافعی اورحنبل ؒ )اس پر متفق ہیں کہ وہ تین ہی شمار ہوں گی اور طلاق واقع ہو جائے گی اور شوہر کے پاس رجوع کا کوئی حق باقی نہ رہیگا۔البتہ ہمارے ہاں اہل حدیث مکتبہ فکر میں بیگ وقت تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا ہے اور انکی دلیل علامہ ابن تمیہ اور علامہ ابن قیم ہیں۔
رجوع اور حلالہ:
رجوع کے لغوی معنی توجہ، واپس ہونا، لوٹنا اور راغب ہونا وغیرہ کہ ہیں مگر شریعت میں رجوع سے مراد ہے شوہر کا مدت عدت کے دوران اپنی بیوی کی جانب توجہ کرنا اور اسیاپنے نکاح میں بحال رکھنے کے ہیں۔ شریعت اسلامی میں شوہر کو یہ اختیار دو طلاقوں تک حاصل ہے لیکن اگر شوہر عدت میں رجوع نہیں کرتا تو عدت کے خاتمے پر عورت نہ صرف اپنے سابقہ شوہر کے نکاح سے آزاد ہو جائے گی بلکہ وہ نیا نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔بالفرض ایسی کوئی صورت پیدا ہوتی ہے کہ عورت عدت گزار چکی ہے اور مرد اب عورت کو واپس نکاح میں لانا چاہتا ہے تو اس صورت میں عورت اور مرد کے درمیان حسب قوائد نکاح نیا نکاح ہوگا۔طلاق رجعی میں عورت کو واپس اپنے نکاح میں لانے کے لیے حلالہ کی ضروت نہیں ہوتی بلکہ حلالہ تین طلاق کے ساتھ خاض ہے۔ اہل علم او ر علماء کی جانب سے عموما طلاق کی صور ت میں اسی (رجعی) طلاق کی تلقین کی جاتی ہے۔
حلالہ:
جب مرد اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے تو عورت فورا اسکے نکاح سے نکل جائے گی اور مرد کو عورت پر اب کوئی اختیار حاصل رہے گا لیکن اگر طلا ق کے بعد مرد کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے اور وہ اسی عورت کو اپنی زندگی میں دوبارہ لانا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے وہ عورت اپنی عدر گزار چکی ہو او اسکا کہیں اور اسکی مرضی کے مطابق نکاح ہو چکا ہو اور اگر باالفرض اسکو وہاں سے بھی طلا ق ہو جائے اور وہ اپنی دوسری عدت بھی گزار چکی ہے تو اب اس شوہر کے پاس یہ اختیار ہے کہ اس عورت سے دوبارہ نکاح کر سکتا ہے اسکو شریعت میں حلالہ کہا جاتا ہے جسکی وضاحت سورہ بقرہ کی آیت 230 میں کی گئی ہے جو متذکرہ بالا عنوان تین طلاق میں نقل کر ردی گئی ہے۔
حلالہ کی صورت میں دوسرا مرد جو عورت سے نکاح کرتا ہے تو وہ نکاح بھی حسب قوائد نکاح منعقد ہوتا ہیاور اس میں بھی مرد و عورت کی رضامندی شامل ہوتی ہے۔
حلالہ کی شرط پر نکاح کرنا، پیسے لے کر حلالہ کرنا، حلالہ کو ایک کاربار یا پیشہ بنا دیانا یہ سب عمل مذموم ہیں اور ایسے لوگوں پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی ہے چنانچہ مسند احمد میں ہے حلالہ کرنے والا اور جس کے لیے حلالہ کیا جاتا ہے ان پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہے۔
حلالہ اور رجوع سے متعلق ایک وضاحت:
اسلام صلح اور امن کا دین ہے۔ اسلام اپنے تمام ماننے والوں کو امن، سلامتی، اتفاق، اتحاد، انس اور اخوت کا درس دیتا ہے۔ اسلام کے یہی اصول میاں بیوی کے رشتے کی بھی بنیاد ہیں۔ اسلام نے میاں بیوی کے حقوق و فرائض پوری تفصیل کے ساتھ بیان کر دیے ہیں اور دونوں کو اپنی ذمے داریاں پوری کرنے کا حکم دیا ہے۔اگر میاں بیوی اپنے حقوق و فرائض پوری ذمے داری سے ادا کرتے رہیں تو ان کے رشتہ ازدواج میں کبھی طلاق کی نوبت ہی نہ آئے لیکن بسا اوقات کسی ایک کی طرف سے یا دونوں طرف سے ذمے دریوں کی عدم ادائیگی یا عدم برداشت کی وجہ سے طلاق کی نوبت آہ جاتی ہے اور مرد اپنے غصیاور جذبات پر قابو نہ رکھ سکنے کی وجہ سے طلاق جیسا سنگین قدم اٹھا دیتا ہے یا
اپنوں اور غیروں کی پس پردہ چالوں سے جو ذاتی اور خاندانی عداوتوں کی بنیاد پر پہلے دن ہی سے اس رشتے کو توڑنا چاہ رہے ہوتے ہیں، یا غلط اور بے بنیاد افواہوں کی بنیاد شوہر کو عورت اور بیوی کو مرد سے بد ظن کرنے کی خفہ چالوں کی بنیاد پر یا دیگر معاشرے میں موجود دوسری وجوہات کی بنیاد پر طلاق واقع ہو جاتی ہے لیکن عورت یا مرد یا دونوں کو حقیقی صورت حال کا علم بعد میں ہوتا ہے اور وہ اپنے سابقہ فیصلے پر نہ صرف نادم ہوتے ہیں بلکہ اپنے گھر کو پھر سے آباد کرنا چاہتے ہیں ان سب صورتوں کے لیے ہی اسلام نے رجوع کی کنجائش رکھی ہے جو دراصل اسلام میں خاندان کی اہمیت اورمعاشرے میں بگاڑ کے خاتمے کی عملی نظیر ہے۔
طلاق اور خلع کیسا ہے؟
اسلام نے طلاق اور خلع کا جو اختیار مرد و عورت کو عطا کیا ہے اسکا قطعا یہ مطلب نہیں کہ اسکی حدود کو پامال کیا جائے اور بات بات پر طلاق دے دی جائے یا عورت کی طرف بلا جواز اور بلا ضرورت طلاق کا مطالبہ کیا جائے یعنی ایسی خواہشات اور مطالبات کی عدم ادائیگی جو شوہر کی حد استطاعت سے باہر ہوں پر طلاق کا مطالبہ کیا جائے۔
اگرچہ طلاق اللہ تعالیٰ نے نزدیک حلال کاموں میں سب سے نا پسندیدہ عمل ہے، مگر اللہ تعالیٰ ہر گز یہ نہیں چاہتا کہ کوئی عورت مسلسل ظلم، تشدداور جبر کا شکار ہوتی رہے بلکہ اسلام تو ظلم کے خاتمے کے لیے آیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قران پاک میں متعد مقامات پر اپنی دیگر صفات کے ساتھ یہ صفت بھی بیان فرمائی کہ اللہ ہر گز ظلم نہیں کرتا اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے باوجود اپنی ناپسند کہ ظلم و تشد اور جبر کے خاتمے کے لیے طلاق کو بحال رکھا ہے۔
بلا ضرورت خلع کی طالب عورتوں کے بارے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ہے کہ:
جو عورت اپنے شوہر سے بغیر کسی وجہ کہ طلاق کا مطالبہ کرے وہ جنت کی خوشبو نہیں سونگھ سکے گی۔
اختتامیہ:
پاکستان میں عوام کی جانب سے باالعموم او رلبرل اور سکیولر حضرات کی جانب سے باالخصوص اسلام کے قانون طلاق کو اکثر وبیشتر موضوع بنایا جاتا ہے اور بحث کی جاتی ہے اوردونوں ہی اطراف سے سوالات و جوابات کیے جاتے ہیں یہ تحریر بھی در اصل اسی سلسلے کی ایک کڑی اور راقم فقیر کی ایک ادنیٰ سی سعی ہے۔
میں نے اس تحریر میں اپنی بساط بھر کوشش کی ہے کہ اسلام میں طلاق کے متعلق تمام اصولی اور قانونی پہلو کو خالص اسلامی اصولوں سے واضح کر دوں تا کہ ایک طرف ان لوگوں پر جو قانون طلاق سے عدم شناسائی کی بنیاد پر سوالات اٹھا تے ہیں پر حجت قائم ہو جائے اور دوسری طرف عام عوام پر اسلام کے ایک حکم کے قانونی پہلو بھی واضح ہو جائیں اور اسلام کے اس حکم سے کم از کم شناسائی بھی پیدا ہو جائے۔چنانچہ یہ تحریر جہاں ایک طرف ان مقاصد کا احاطہ کرتی ہے تو دوسری طرف یہ تحریر اسلام کے تصور دین اور ضابطہ حیات کی ایک مثال اور دلیل بھی ہے جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر ہر گوشے، ہر ہر شعبے اور ہر ہر پہلوپر کس درجہ اہتمام کے ساتھ تعلیمات پہنچائی ہیں ۔
باری تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حق سننے، سمجھنے اور کہنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *