رشی کپور کی ’’کھلم کھلا ‘‘باتیں

hussain-javed

ہندوستان کی فلمی صنعت ہر دور میں باکمال اداکاروں کا مسکن رہی ہے ۔جن کی بے مثال اداکاری نے ہر دور میں ایک عالم کو اپنی گرفت میں لئے رکھا ہے ۔ایسے میں کپور خاندان کو کیسے نظر انداز کیا جا سکتا ہے جو کہ گزشتہ 87 برس سے اپنی چوتھی نسل کے ذریعے فلم انڈسڑی کی خدمت انجام دے رہا ہے ۔پشاور کے مردم خیز خطے سے تعلق رکھنے والے عظیم پرتھوی راج ،ان کے ہونہار بیٹوں میں جن میں ہندی سنیما کے شو مین راج کپور ،شمی کپور ،ششی کپور نے اپنی منفرد اور لازوال فنکارانہ صلاحتیوں کے ذریعے فلم بینوں کو بھرپور انداز میں سیراب کیا ۔راج کپور کے بڑے بیٹے رندھیر کپور اور ان کی بیٹیوں کرشمہ اور کرینہ نے بھی خود کو بطور ایک کامیاب اداکار کے منوایا ہے ۔لیکن آج ہم راج کپور کے دوسرے بیٹے اور اپنے دور کے بے مثال رومانوی ہیرو رشی کپور کی سوانح عمری کھلم کھلا پر بات کریں گے جس میں رشی کپور نے اپنی فلمی اور ذاتی زندگی کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے ۔جیسا کہ نام سے ہی ظاہر ہے کہ رشی کپور نے اپنی اس کتاب میں سب کچھ کھلم کھلا انداز سے بیان کیا ہے اور اپنے پرستاروں کے سامنے بالکل بے تکلفی سے خود کو پیش کیا ہے ۔رشی کپور نے بطور رومانوی ہیرو پچیس سال تک نہایت ہی کامیابی سے شائقین کو لطف اندوز کیا ہے ۔فلم میرا نام جوکر سے چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر اپنا فلمی سفر شروع کرنے والے رشی کپور نے فلم بوبی سے ہی ثابت کردیا کہ وہ کپور خاندان کی عظیم فلمی وراثت کو آگے لے کر چل سکتے ہیں۔رشی کپور کے مطابق شروع سے ہی میں نے اپنے گھر میں فلمی ماحول دیکھا ۔میرے دادا پرتھوی راج کپور پشاور سے کلکتہ منتقل ہوگئے اور تھیڑ کو بنیاد بنا کر ہندوستان کے چوٹی کے فلمی اداکار بنے ۔میرے والد راج کپور میرے باپ ہی نہیں بلکہ میرے گرو بھی تھے ۔ ایک بار انہوں نے مجھے ترغیب دی کہ تم خود اپنی امیج بناؤ ۔امیج خود بنائی جاتی ہے کسی سے سیکھی نہیں جاتی ۔ بعد ازاں والد کی ڈرایکٹ کردہ فلم پریم روگ نے بھی مجھے بطور اداکار مزید پالش کیا۔مجھے شروع سے ہی اداکاری سے رغبت رہی اور یہی وجہ ہے کہ میں پندرہ برس کی عمر میں ہی آٹو گراف دینے کی مشق شروع کر دی تھی ۔راج کپور کے نرگس اور وجنتی مالا سے افےئرز کے حوالے سے رشی کپور کہتے ہیں کہ میرے والد اور نرگس کے درمیان ایک تعلق تھا جو کہ ساتھ کام کرتے کرتے پیدا ہونا فطری امر تھا ۔انہوں نے ایک دوسرے کو چاہا ۔اور سچی بات تو یہ ہے کہ نرگس ہمارے ادارے آر کے بینرز کا نہایت اہم حصہ رہیں ۔البتہ وجنتی مالا کے ساتھ میرے والد کے تعلقات سے نالاں ہوکر میری والدہ کرشنا ہمیں لے کر دو ماہ تک بمبئی کے چتراکوٹ کے فلیٹ میں مقیم رہیں۔یہ بہت نازک وقت تھا ۔آخر کار دونوں دوبارہ یکجا ہوگئے جب میرے والد نے وجنتی مالا سے تعلق کو خیر آباد کہا۔مجھے وجنتی مالا کی اس بات پر بہت غصہ آیا جب انہوں نے بیان دیا کہ راج کپور نے سستی شہرت کی خاطر مجھ سے تعلق جوڑا ۔کاش یہ فضول بیان وجنتی مالا میرے والد کی زندگی میں دینے کی جرات کرتی ۔رشی کپور اپنی کتاب میں دلیری سے اعتراف کرتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ میری نیتو سنگھ سے شادی محبت کی تھی لیکن یہ بھی سچ ہے کہ نیتو سے پہلے میری پہلی محبت ایک پارسی لڑکی یاسمین مہتا تھی ۔میں اسے دیوانوں کی طرح چاہتا تھا مگر بابی فلم کی رہلیز کے بعد فلمی رسالوں میں میرے اور ڈمپل کپاڈیہ کے درمیان من گھڑت معاشقوں کی خبروں سے تنگ آ کر وہ مجھے چھوڑ گئی ۔

Image result for rishi kapoor book

نیتو سنگھ میری کو اسٹار ہونے ساتھ میرے گہری دوست بھی تھی ۔اسے میرے سارے راز پتہ ہوتے تھے ۔لیکن ہم دھیرے دھیرے ایک دوسرے کی محبت میں مبتلا ہوگئے اور جھٹ منگنی اور پٹ بیاہ کرلیا ۔ہم نے چودہ فلموں میں ایک ساتھ کام کیا ہے ۔میں نے نیتو کو فلموں میں کام سے کبھی نہیں روکا مگر شائد اس بات کے لئے تیار بھی نہیں تھا کہ شادی کے بعد بھی وہ ایکٹنگ جاری رکھے ۔مزے کی بات یہ ہے کہ فلم کبھی کبھی میں میں نے یش چوپڑہ کو کہہ دیا تھا کہ فلم میں نیتو کا کردار میرے کردار سے مستحکم ہے لہذا میں یہ فلم نہیں کر رہا ۔یش جی بہت حیران ہوئے مگر بعد ازاں اپنے چچا ششی کپور کے کہنے پر میں فلم کا حصہ بن گیا ۔بقول نیتو سنگھ رشی کپور بہت ہی قابض فطرت انسان ہیں حتی ٰ کہ مجھے اپنے بچوں کے ساتھ بھی دیکھ کر جلتے ہیں کہ تم مجھے وقت نہیں دے پاتی ۔شادی کے اتنے سال گزرنے کے بعد کئی بار مجھے خیال آتا ہے کہ میں اتنے ضدی ،اور بات بات میں کیڑے نکالنے والے شخص کے ساتھ کیسے چل پاؤں گی ؟لیکن یہ پھر رشی کی اپنی فیملی کے ساتھ گہری محبت ہی ہے کہ ہم ساتھ ساتھ اتنا سفر طے کرچکے ہیں۔رشی کپور نے اپنی کتاب میں امتیابھ بچن پر بھی تنقید کی ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امتیابھ نے اپنے اینگری ینگ مین امیج کے ذریعے ستر اور اسی کی دہائی میں دھرمیندر ،جتندر ،ونود کھنہ ،شترو گھن سنہا اور ششی کپور کو بہت ٹف ٹائم دیا ۔اور امتیابھ بچن کی طوفانی کامیابیوں اور بھرپور پبلک کریز نے بطور رومانوی ہیرو مجھے بھی اپنا وجود برقرار رکھنے کے لئے ہلا کر رکھ دیا تھا ۔لیکن مجھے کہنے دیں کہ امتیابھ نے اپنے معاون اداکاروں ،رائٹرز اور ہدایت کاروں کو اس طرح سے نہیں سراہا کہ جتنا ان کا حق بنتا تھا ۔اسی لئے میں فلم کبھی کبھی میں امتیابھ کے ساتھ کام کرنے کے حوالے سے بہت ہچکچاہٹ کا شکار تھا کہ فلم میں سارا کریڈٹ تو بچن صاحب لے جائیں گے ۔
ٹھیک ہے ہم امتیابھ کے سامنے جدوجہد کر رہے تھے لیکن ہم سب بھی کچھ کم بہتر اداکار نہیں تھے ۔رشی کپور اپنی ایک حرکت پر نادم بھی دکھائی دیتے ہیں جب وہ اعتراف کرتے ہیں کہ کیسے انہوں نے 1973 میں فلم بوبی کے کیلئے بہترین اداکار کا ایوارڈ چالیس ہزار کی رقم دے کر خریدا اور یوں امتیابھ کی فلم زنجیر سے بہترین اداکار کا ایوارڈ ملنے کی امیدوں کو چکنا چور کردیا ۔ تاہم امر اکبر انتھونی ،نصیب اور قلی جیسی فلموں میں ساتھ کام کر کے میرے اور امتیابھ کے درمیان دوستی کا گہرا رشتہ بن گیا۔راجیش کھنہ کے ساتھ بھی رشی کے تعلقات خراب رہے جب راج کپور کی فلم کیلئے ستم شیوم سندرم کیلئے انہوں نے لابنگ کر کے ہیرو کا کردار اپنے چچا ششی کپور کو دلادیا اور کھنہ کو فلم سے آؤٹ کردیا ۔اور کئی سالوں بعد رشی نے راجیش کھنہ سے اس واقعہ کے حوالے سے معافی بھی مانگی ۔۔فلم قرض کے بعد رشی کی کئی فلمیں ناکام رہیں ۔یہ وہ دور تھا جب رشی شدید ڈپریشن کا شکار ہوگئے اور اپنی بیوی نیتو سنگھ کو کوسنا شروع ہوگئے کہ تم سے شادی کرنے کی پاداش میری رومانوی امیج کو دھچکا پہنچا ہے ۔آج رشی اعتراف کرتے ہیں کہ مجھے اپنی ناکامی کا ملبہ اپنی بیوی پر نہیں ڈالنا چاہیے تھا ۔یہاں رشی یہ دلچسپ بات بھی بتاتے ہیں ہیں کہ جب فلم ساگر میں ڈمپل کے ساتھ بارہ برس بعد کام کرنے کے حوالے سے نیتو شدید پریشان ہوگئی اور رشی کو کہنے لگی کہ مجھے ڈر ہے تم ڈمپل کے لئے مجھے چھوڑ نہ دو ۔اور مجھے اسے دلاسہ دینا پڑا میں اور ڈمپل دونوں اب صاحب اولاد ہوچکے ہیں تم کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔اپنے بیٹے رنبیر کپور کے حوالے سے رشی کپور کہتے ہیں کہ میں اپنے بیٹے کو وہ وقت نہیں دے سکا جو اسے مجھ سے ملنا چاہیے تھا ۔رنبیر اور میرے درمیان ہمیشہ سے ایک دیوار رہی ہے ۔میں ایسا باپ نہیں بن سکا جو کہ اپنی اولاد سے بے تکلفی روا رکھتا ہو۔لیکن آج میرا بیٹا ایک کامیاب اداکار بن چکا ہے اور میں نے تمام ڈاریکٹرز کو کہہ دیا ہے کہ میں رنبیر کا سیکر ٹری نہیں ہوں وہ فلمیں سائن کرنے میں آزاد ہے ۔لہذا میں اپنے بیٹے کو کسی کی فلم میں کام کرنے پر مجبور ہرگز نہیں کروں گا ۔رشی کپور کے مطابق ان کے لئے سب سے زیادہ فخریہ لمحہ وہ تھا جب ان کو میرا نام جوکر کیلئے نیشنل ایوارڈ ملا اور پرتھوی راج نے مجھے گلے لگا کر کہا کہ آج راج کپور نے میرا قرض اتار دیا ہے ۔رشی کپور آج کے اداکاروں کو مشورہ دیتے ہیں کہ صرف مسلز بنانے سے کوئی سٹار نہیں بن جاتا اداکاری کے جراثیم بھی موجود ہونے چاہیے ۔امتیابھ بچن کے مسلز نہیں تھے لیکن اس جیسابڑا ایکشن ہیرا بھی آج تک نہیں آ سکا ۔ زمانے کو دکھانا ہے ، لیلیٰ مجنوں، چاندنی ،قرض،دنیا،ایک چادر میلی سی ،یہ وعدہ رہا اور دامنی جیسی رومانوی فلمیں دینے والے رشی کپور کے مطابق آج کل وہ کیریکٹر رول کر کے بہت ہی لطف اندوز ہور ہے ہیں ۔فلم اگنی پتھ اور ڈی ڈے کے منفی کردار ،دو دنی چار، پٹیالہ ہاؤس اور کپور اینڈ سنز میں 90 سالہ بوڑھے کا کردار میں انہوں نے بھرپور داد سمیٹی ہے ۔

Image result for rishi kapoor book

ان کے بقول میں پچیس سال مسلسل رومانوی ہیرو کا رول کر کر کے تھک چکا تھا اور 23 مختلف ہیروئنوں کے ساتھ وادیوں میں گانا گانے کی بجائے اداکاری میں مختلف تجربات چاہتا تھا جس کا اب مجھے بھرپورموقع اور لطف مل رہا ہے ۔ہاں مجھے یہ کریڈٹ ضرور دیں کہ فلم بوبی کے ذریعے پہلی بار ایک نوجوان لڑکے اور لڑکی رومانس سکرین پر دکھایا گیا جس میں بیس سالہ لڑکا سولہ کی لڑکی کو بھگا کر لے جاتا ہے ۔اس فلم نے ہندی سنیما میں رومانس کی سمت ہی بدل دی۔ اب میرا بس چلے تو میں گرمیت سنگھ بابا رام رحیم کا کردار نبھاؤں ۔۔اپنے بے باک ٹویٹس کے حوالے سے رشی کپور کا کہنا ہے کہ مجھے ٹوئٹر کی جانب انوشکا شرما اور ابھیشک بچن نے راغب کیا ۔لیکن میں اس فورم سے اپنے دل کی بات کہہ دیتا ہوں چاہے کسی کو اچھی لگے یا بری ۔میں منہ پھٹ انسان ہوں مجھ سے ڈپلومیسی نہیں ہوتی ۔مجھے سیاست میں جانے کا کوئی شوق نہیں میں اپنے دائرے میں خوش ہوں۔مجھے امید ہے کہ مودی جی بھارت کو بدل سکتے ہیں لیکن ان کو یہ کر دکھانا ہوگا ۔مجھے نہیں لگتا کہ راہول گاندھی نے اب تک کوئی ایسا کام کیا ہے کہ میں ان کے بارے میں ٹوئٹ کروں۔میرے خیال میں بھارت میں ہر جگہ ،ہسپتال ،روڈ کا نام اب نہرو خاندان یا گاندھی جی پر نہیں رکھنا چاہیے کیا ہندوستان میں اور کوئی بڑا آدمی پیدا نہیں ہوا ؟صرف دلی میں 64 مقامات نہرو خاندان اور گاندھی جی سے منسوب ہیں ۔ رشی کپور پاکستان کے ساتھ گرم جوش تعلقات کے پرزور حامی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے ہمیشہ پاکستانیوں سے بہت احترام اور پیار ملا ۔میں نے حنا فلم کے سلسلے میں لاہور اور اسلا م آباد کے دورے کئے اور پہلی بار مرغ چھولے نامی ڈش کا نام سنا ۔دونوں ممالک کو اب تقسیم ہند کی تلخیوں کو فراموش کر کے دوستی کے سفر پر گامزن ہونا چاہیے ۔میں سیاسی مسائل نہیں جانتا لیکن جب دیوار برلن گر سکتی ہے ۔جب سویت یونین بکھر سکتا ہے اور جب جنوبی افریقہ سے نسلی امتیاز مٹ سکتا ہے تو پاکستان اور بھارت کیوں نہیں مل کردوستی کانیا باب تحریر کر سکتے ؟رشی کپور نے اپنی سوانح عمری کھلم کھلا میں نہایت ہی سچائی سے اپنی زندگی کا احاطہ کیا اور بولی وڈ خصوصاٰ کپور خاندان کے مداحوں کیلئے یہ کتاب کسی طور بھی سوغات سے کم ہرگز نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *