بے نظیر قتل کیس اور گھنٹا گھر !

naeem-baloch1
تقریباً دس برسوں کے بعد بے نظیر بھٹو کے قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا گیا ۔ ایک مرتبہ پھر خاصا ’’ تاریخی ‘‘ فیصلہ کیا گیا ہے ۔یعنی قاتل کون ہے ؟ کچھ نہیں بتایا گیا ۔ یہ قتل کیوں اور کن محرکات کے تحت ہوا ،کچھ سامنے نہ آیا۔ لیکن ہمارے خیال میں عدالت کے سامنے یہ کیس اس طرح سے پیش کیا گیا کہ اس کا شاید یہی فیصلہ دیا جاسکتا تھا۔ اگر اس مقدمہ کی تفتیش چودھری ذوالفقار ہی کرتے تو نتائج یقیناًً مختلف ہوتے اور انھیں اسی لیے راستے سے ہٹانے کے لیے قتل کرا دیا گیا ۔ ان کے قتل کی وجہ سے یہ مقدمہ عملاً ایک سوچی سمجھی سمت اختیار کر گیا ۔ ورنہ یہ کیس کس قدر دو اور دو چار کی طرح واضح تھا ، اس کا اندازہ ان حقائق سے لگایا جا سکتا جو، اب سب کے سامنے آ چکے ہیں :
* فوری طور پر جائے واردات کو دھونے کے جو ’ نادر ‘ احکام جاری کیے گئے تھے ، اس کے پیچھے کون لوگ تھے ، اس کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے کسی ’’ شرلک ہومز ‘‘ ضرورت نہیں تھی ۔ صاف ظاہر ہے کہ شواہد کو مٹانے کے لیے یہ کیا گیا تھا اور ایسا حکم وہی دے سکتا تھا جسے خوف ہو کہ معاملہ کہیں کھل نہ جائے۔ اور شواہد ختم کرنے کی اس کارروائی کو عمل میں لانے کے لیے کسی نہایت ہائی اتھارٹی کے حکم کی ضرورت تھی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ یہ حکم شہر کے پولیس چیف خرم شہزاد نے دیا تھا اور اسی لیے خرم شہزاد کو سزا دی گئی ۔ مگر یہ سبھی کو معلوم ہے کہ ا س کی بے نظیر سے کوئی دشمنی نہیں تھی ۔ وہ تو محض حکم کا غلام تھا ۔ اب وہ کس کے حکم کا غلام تھا ؟یہ ایک اوپن سیکرٹ ہے ۔بس ایک چیز یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ’’ اس کا اس وقت کی فوجی حکومت سے کوئی تعلق نہ تھا‘‘ ۔
* اسی طرح اسلام آباد پولیس کے انچارج سعود عزیز کو اس لیے سزا سنائی گئی کہ اس نے ڈاکٹر مصدق کو پوسٹ مارٹم کرنے سے روکا تھا ۔ یہاں بھی وہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس نے کس کے کہنے پر یہ حکم دیا تھا ؟ یہ معلوم کرنے کے لیے بھی کسی جیمز بانڈ کی ضرورت نہ تھی ۔ معاملہ بہت واضح ہے کہ وہی دیکھی، ان دیکھی طاقتوں نے یہ حکم دیا تھا کہ جو حقائق چھپانا چاہتی تھیں ۔
*قتل کی ازسر نو تفتیش کے لیے سرکاری وکیل چودھری ذوالفقار کو کس نے اور کیوں قتل کیا؟ شاید اس لیے کہ اس نے پرویز مشرف کو شامل تفتیش کرنے کی استدعا کی تھی اور شاید اس لیے بھی کہ اقوام متحدہ کی تحقیقی رپورٹ میں یہ نتیجہ نکالا گیا تھا کہ اگر پرویز مشرف کی حکومت بے نظیر کومناسب سیکورٹی مہیا کرتی تو یہ حادثہ نہ ہو تا ۔ اور اس نے ان نتائج کو بھی مدنظر رکھنے کی استدعا کی تھی۔یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی ٹیم نے حکومت پاکستان کی استدعا پر یہ تحقیق کی تھی ۔
*وہ مشہور ویڈ یو جس میں ایک دہشت گرد بے نظیر بھٹو پر گن تان کر فائر کر رہا ہے، اور ابتدائی رپورٹ کے مطابق اسی کی گولی بی بی کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی تھی، اس دہشت گرد کا نام کیا تھا؟ اس پر کوئی تحقیق کیوں نہ کی گئی ؟وہ کلین شیو انتہائی ماہر نشانے باز کون تھا ؟ کیا دہشت گرد تھا یا کوئی اور ؟ اس کی گولی سے جب محترمہ شہید ہو گئیں تو پھر دھماکوں کا مقصد کیا تھا ؟
bay* اس کے بالکل برعکس یہ کہانی کیوں گھڑی گئی کہ محترمہ کی موت کا باعث گاڑی کا آہنی لیور تھا ، جس سے ان کا سر لگا ؟ اس بات کو کہانی اس لیے کہا گیا ہے کہ سی این این ، بی بی سی اور تمام عالمی اور ملکی ذرائع نے یہ بتا یا کہ یہ ایک یقینی بات ہے کہ محترمہ بم دھماکے سے قبل گاڑی میں گری تھیں ، اور اس کا باعث وہی فائر تھا جو اُن پر کیا گیا۔ کیا اس میں کوئی شک باقی رہتا ہے کہ بم دھماکا کا واقعہ اور لیور لگنے کی کہانی اس واقعے کو محض پیچیدہ بنانے کی خاطر کھڑی گئی؟ اب یہ واضح ہے کہ یہ طالبان کواس طرح کی پیچیدگی پیدا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، وہ اپنی وارداتیں علی لاعلان کر رہے تھے اور کرتے ہیں ۔ اور اسی لیے انھوں نے اس واقعے کی کوئی ذمہ داری قبول نہیں کی اور الٹا اس کی تردید کی کہ وہ اس ’’ کار خیر‘‘ میں شریک نہیں تھے ۔ملالہ یوسف زئی سے لے کر پشاور آرمی سکول تک کے تمام بہیمانہ جرائم کی ذمہ داری قبول کرنے والے طالبان نے اس قتل کی ذمہ داری کیوں قبول نہیں کی ؟ کہیں اس دفعہ وہ واقعی سچ تو نہیں بول رہے تھے ؟
* دلچسپ بات یہ ہے کہ جن پانچ سکہ بند دہشت گردوں کو رہائی کا پروانہ عطا کیا گیا ، اس کی وجہ یہ بیان کی گئی کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا ۔ اس لیے کہ وہ پانچوں اگرچہ دہشت گرد تھے لیکن وہ اس واقعے سے کم از کم چھ ماہ پہلے زیرحراست تھے۔ سوال یہ ہے کہ پھر ان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کیوں کی گئی ؟
* یہ معاملہ ابھی تک طے نہیں ہوا کہ اس موقع پر کوئی خود کش دھما کا ہوا تھا یا بم پھٹا تھا ، کیونکہ جس خود کش دہشت گرد کا نام لیا جاتا ہے وہ شخص یعنی اکرام اللہ ابھی زندہ ہے ۔ پھر یہ جھوٹ یا شک و شبہ کیوں پیدا کیا گیا ؟
*پی پی پی کی حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور میں اس کیس کے ساتھ جو بے اعتناعی برتی اور جس بے حسی کا ثبوت دیا ، اس کے باوجود کیا یہ حقیقت نہیں کہ پی پی کے اہم لیڈر اب بھی پرویز مشرف کو ا صل مجرم قرار دیتے ہیں ، انھوں نے کہیں اُسی مجبوری کے تحت اسے باہر جانے تونہیں دیا جس مجبوری کے تحت نواز شریف نے اسے جانے دیا ؟
*کیلا کھا کر سیب بتانے کی شہرت رکھنے والے پی پی دور کے سابق وزیر داخلہ رحمان ملک نے اس حوالے سے جو مشکوک کردار ادا کیا ، اس کی کیا وجہ تھی ؟ کیا یہ وہی ذات شریف نہیں جن کے الطاف حسین سے بھی تعلقات ہیں اور وہ پی پی کے ان چند رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں جن کے پرویز مشرف سے بہت گہرے مراسم ہیں ، اور یہی وہ ’گھر کے بھیدی‘ ہیں ، جنھوں نے این اوآر کرانے میں اہم کردار ادا کیا اور یہی ’ لنکا ڈھانے و الے مرد میدان ‘ ہیں جنھوں نے بے نظیر کو مشرف کا آخری پیغام پہنچایا تھا کہ انھوں نے پاکستان آکر مشرف سے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے ؟ اور یہی وہ واحد پی پی لیڈر ہیں جنھوں نے باقاعدہ یہ بیان دیا ہے کہ بی بی کو طالبان نے قتل کرایا تھا اور وہ سب اپنے اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں ۔
حقائق تو اور بھی بہت سے ہیں لیکن یہی بہت ہیں اور ہمیں ا س حقیقت تک پہچا دیتے ہیں کہ لیاقت علی خان کا قتل ہو یا محترمہ فاطمہ جناح کی پر اسرار موت، ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل ہو یا افغانستان میں امریکا بہادر کی پیدا کردہ دہشت گردی کی دلدل، اکبر بگٹی کی ہلاکت ہو یا محترمہ بے نظیر بھٹو کا قتل ،اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد سے برآمدگی ہو یا سیاسی عدم استحکام کا دیو ، یہ سب لائلپور کے ان بازاروں کی مانند ہے جو ایک ہی گھنٹاگھر پر ختم ہو تے ہیں ۔ اور اس حقیقت میں بھی کوئی شک نہیں کہ اگر ہم اس گھنٹاگھر سے مختلف منظر چاہتے ہیں تو سیاسی لیڈروں کو منافقت ختم کرنا پڑے گی ۔ سوئس اکاوئنٹس اور لندن فلیٹس کی ہوس کو خیر باد کہنا پڑے گا ، نالائق، خوشامدی اور اقربا پروری کے کلچر کو بدلنا ہو گا ، ایمپائر کی انگلی ہو یا عدالتی ’کو ‘کا سہارا، ہر قسم کی بیساکھیوں کو چھوڑنا ہو گا ۔ صرف اور صرف عوامی خدمت پر تکیہ کرنا پڑے گا ۔ ورنہ روتے رہیں گے ، کوئی اپنی بے نظیر کو، کوئی اپنے نواز شریف کو ! لالچی ، ابن الوقت اور بوٹ پالشیے ’ شیدے‘ وقت بے وقت قربانیاں کرتے رہیں گے ۔
اور جان رکھیے کہ عوام میں ٹینکوں کے آگے لیٹنے کا حوصلہ پیدا کر نا آسان نہیں اور اس کے سوا کوئی چارا بھی نہیں !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *