⁠⁠⁠عارفانہ قربانیات

syed arif mustafa

-1
بقرعید میں نہایت مہنگا اور بہت بڑا جانور خریدنے والے بالعموم جانور نہیں خریدتے بلکہ اپنے اندر چھپے جانور کو باہر لاکے اسکی نمائش کرتے ہیں

-2
ہمارے ایک دوست کو گائے بیل کی زبان سمجھ آتی ہے اور اسکا کہنا ہے کہ پچھلی بار طاہر القادری کا بیل قربانی کے لیئے لیجاتے وقت ان سے کہ رہا تھا ....بتاؤ یہ کیسا انصاف ہے ذبح کرنے لائق تم ہو یا میں

3-
مجھے یقین ہے کہ کلاشنکوف کی ایجاد کا آئیڈیا اسکے موجد کے ذہن میں کسی بکرے کو مینگنی کی بوچھار کرتے دیکھ کے آیا تھا

4-
قربانی کے سیزن میں لاوارث َکٹّوں کی شامت آجاتی ہے ... یہ سننے کے بعد سے شیخ رشید آجکل گھر تک محدود ہیں

5-
اس مہنگائی کے دور میں ہمارے جیسوں کا المیہ یہ ہے کہ بکرا خریدنے جاتے ہیں اور پھر کئی دن بکری کی طرح منمناتے ہیں

6-
الطاف حسین کے کارکنوں کے لیئے کبھی بقرعید کھال جمع کرنے کا موسم ہوا کرتا تھا لیکن ابکے اپنی کھال بچانے کا موسم ہے

7-
مہنگائی کا وہ خوفناک دور آرہا ہے کہ لوگ آئندہ بکرے کی قربانی میں بھی سات حصے کرانے کے لیئے مفتیوں سے رجوع کریں گے

8-
مسئلہ یہ ہے کہ عام دنوں میں جن سے مرغی بھی ڈھنگ سے نہیں کٹ پاتی ، بقرعید کے دنوں میں‌ وہ پہاڑ سے بیل کاٹنے نکل پڑتے ہیں

9-
اپنے افسر کے جانور سے بڑا جانور خریدنا قطعی نالائقی اور گھٹیا پن بلکہ بڑا جانور پن ہے

10-
کچھ بکرے اتنے بزرگ اور جہاندیدہ بھی ہوتے ہیں کہ انہیں کاٹنے کے لیئے کچھ نہیں کرنا پڑآ بس رسی پکڑتے ہی چپ چاپ آکے لیٹ جاتے ہیں

11-
فردوس عاشق اعوان نے ایک بہت بڑی ہٹی کٹی گائے کے ساتھ تصویر کجھنچوا کے ایک اخبار کو بھیجی تو متعلقہ ڈیسک کے سب ایٹیٹر نے تصویر کے کیپشن میں بالصراحت لکھا کہ میڈم فردوس دائیں طرف ہیں‌-

Image result for eid ul adha mubarak

12-
اگر محض متاثر کرنا مقصود ہو تو ایک گائے یا بیل کے ساتھ فوٹو کھنچوانا کوئی دانشمندی نہیں ... اس سے کہیں بہتر ہے کے بندہ عید والے دن 6-7 اوجھڑیاں اور پیٹے سامنے ڈلوا کے فوٹو کھنچوا لے

13-
ایسے لوگ جو کہ زندگی میں‌ کوئی خاص کام نہ کرسکے ہوں تو وہ کسی بے حد جثیم اور تگڑے سے بیل یا اونٹ کے ساتھ فوٹو کھنچوا کے سوشل میڈیا پہ ضرور اپ لوڈ کرتے ہیں

14-
بغور جائزہ لینے سے پتا چلتا ہے کہ حرام کے پیسوں‌ سے خریدے گئے جانور کے مالک ہی نہیں اسکے جانور کے منہ پہ بھی واضح پھٹکار سی آجاتی ہے

15-
اکثر قربانی کے جانوروں کے ساتھ انکے مالکان کی فوٹو دیکھیں تو ان کی نسبت انکے مویشی زیادہ پر وقار دکھائی دیتے ہیں

16-
آج کل قصاب قربانی کا معاوضہ اتنا طلب کرنے لگے ہیں کہ اپنے جانور کی قربانی کرانے کے بعد دل خود بھی وہیں لیٹ جانے کو کرنے لگتا ہے

17-
اب جتنے پیسوں‌ میں بکرے کا چارہ آتا ہے ہمارے ابا کے زمانے میں اتنے کا سالم بکرا آجاتا تھا

18-
بعض لوگوں کا بس چلے تو اپنے گھر کے پانی کے ٹینک کو ہی ڈیپ فریزر بناکے قربانی کا جمع شدہ گوشت سال دو سال چلالیں

19-
قربانی کے سیزن میں مارکیٹ میں نجانے تقریباً بلی جتنی جسامت کے بکرے بھی نجانے کہاں سے بیچنے کے لیئے لے آئے جاتے ہیں ،،، بس آسانی صرف یہ ہے کہ وہ قصآئی کے بجائے خود ہی، اور چھری کے بجائے شیونگ کے سیفٹی ریزر سے بھی کاٹے جاسکتے ہیں

20-
بعض یتیم امراء اپنے جانور کی قربانی کے گوشت کی تقسیم کے وقت خود کو بھی مستحقین میں شمار کرلیتے ہیں

21-
اچھی بقرعید منا سکنا آپ کے لیئے جبھی ممکن ہے کہ جب اگر آپ اپنے 'صاحب ' کے بیل یا گائے کے ساتھ تصویر کھنچوائیں تو اسی ادب و احتیاط کے ساتھ ، جیسے کہ صاحب کے ساتھ فوٹو اتروا رہے ہوں‌۔۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *