قومی سلامتی پرسودا کرنے والا مجرم ہوگا

افتخار احمد
iftikhar ahmed

پچھلے دنوں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک تقریر کیا کر دی، ہمارے ہاں تو جیسے ایک بھونچال آگیا۔ ٹی وی کی اسکرینوں سے لے کر پارلیمنٹ کے ایوانوں تک، امریکی صدر کے جارحانہ رویہ کی نہ صرف پرزور مذمت کی گئی بلکہ ہمارے کئی ضرورت سے زیادہ محب وطن ساتھیوں نے تو امریکہ کو تنبیہ بھی کر ڈالی کہ وہ پاکستان کی طرف میلی نگاہ ڈالنے سے پہلے یہ سوچ لے کہ یہ وہ پاکستان ہے جس نے سوویت یونین کے ٹکڑے کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اب اسے آپ قسمت کی ستم ظریفی ہی سمجھ لیں، سوویت یونین کے ٹکڑے کرنے کا دعویدار ملک اب روس سے امریکہ کے خلاف سفارتی اور اخلاقی مدد کا طلب گار ہے۔
اپنی جوانی میں سامراجی نظام کی سب سے بڑی مثال کے طور پر امریکہ میرے لئے باعث نفرت رہا،وہ دور ویت نام کی جنگ کا زمانہ تھا۔ اس جنگ میں امریکہ کو جو شکست ہوئی اس کا بدلہ لینے کے لئے امریکہ نے افغانستان میں مجاہدین کو استعمال کیا،اس سب میں پاکستان نے ایک اچھے ہمسایہ ملک ہونے کے ناطے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ یہ کردار پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کے کیمپوں سے نوجوانوں کولے کر انہیں افغان جہاد کے قابل بنانا تھا۔ امریکہ افغان جہاد کے لئے اسلحہ اورپیسے د یتا رہا،پاکستان مجاہدین کو ٹریننگ دینے کے ساتھ ساتھ انہیں آپریشنل سپورٹ بھی فراہم کرتا تھا۔ یہ جنگ کوئی ایک دو سال کی تو تھی نہیں ، اسی لئے اس میں لڑنے کے لئے تیار کئے جانے والے مجاہدین کی تعداد بھی کچھ کم نہیں تھی ۔افغان کیمپوں میں جب نوجوان کم پڑ گئے تو پھر ایک اچھے ہمسائے ہونے کا فرض ادا کرتے ہوئے پاکستان نے اپنے نوجوان بھی اس مقصد کے لئے پیش کر دیئے۔ ان دنوں ویسے بھی ملک کے چیف آف آرمی اسٹاف اور صدر جناب ضیا الحق صاحب نے ہمیں اپنی حکمرانی سے فیضیاب ہونے کا موقع فراہم کیا ہوا تھا۔ جب کوئی سویلین تھاہی نہیں تو پھر افغان پالیسی پر کسی قسم کے سول ملٹری تعلقات کاکوئی مسئلہ بھی لاحق نہیں تھا،اسی لئے ہم کئی سال تک اپنے نوجوانوں کو مدارس سے نکال کر افغانستان کی جنگ میں جھونکتے رہے۔
پاکستان کے عوام کو اس جنگ کے بارے میں معلوم تھا تو بس اتنا کہ سوویت یونین کی سرخ فوج گرم پانیوں تک رسائی کے خواب لئے افغانستان میں داخل ہو گئی ہے،اگر اس موقع پر اپنے افغان بھائیوں کی مدد نہ کی تو وہ دن دور نہیں جب یہی لادین فوجی پاکستان پر حملہ آور ہو جائیں گے۔ ان دنوں مولانا حضرات سوویت یونین کے شرانگیز مقاصد کے بارے میں کس قسم کی گفتگو کرتے تھے اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیں کہ ان دنوں یہ بات بہت مشہور تھی کہ سوویت یونین کے افغانستان پر قبضہ کے بعد وہاں ایسا لادین نظام نافذ کر دیا جائے گا جس میں بیویاں اشتراکی ملکیت تصور کی جائیں گی۔
ہم جیسے لوگ ان دنوں شوروغل کرتے رہے کہ اپنے ہمسایہ ملک کی مدد کے چکر میں جو کھیل ہماری ریاست کھیل رہی ہے اس کے نقصانات بہت ہی بھیانک ہوں گے ۔لیکن ہماری کسی نے ایک نہیں سنی، کبھی ہمیں اس جنگ کی مخالفت کرنے پر دہریہ ہونے کے طعنے دیئے گئے تو کبھی غداری کے لیبل لگائے گئے۔ ہم نے اس وقت اہل اقتدار کو سمجھانے کی بہت کوشش کی تھی کہ امریکہ جیسی سامراجی قوت کے ساتھ مل کر افغانستان میں جو شورش ہم برپا کر رہے ہیں مستقبل میں اس سے پاکستان کو بھی نقصان ہو سکتا ہے ۔ہماری سوویت یونین سے کوئی خاص مخاصمت بھی نہیں ہے، ہم کیوں کسی پرائی جنگ کو لڑنے کے چکر میں اپنے ملک کی سا لمیت کو خطرے میں ڈالیں لیکن ان دنوں ہماری ریاست امریکہ کی خوشنودی حاصل کر نے کے چکر میں تھی۔
پھر سوویت یونین افغانستان سے شکست کھا کر چلا گیا،امریکہ نے ویت نام کی جنگ کا بدلہ لے لیا اور پھر امریکہ کو پاکستان کی ضرورت نہ رہی۔ امریکہ اور پاکستان کی دوستی خوابوں کے محل سے زیادہ کچھ نہ نکلی، اپنی ضرورت پوری ہونے کے فوراََ بعد امریکہ نے پریسلر ترمیم کے ذریعے پاکستان پر اقتصادی پابندیاں لگا دیں۔ امریکی صدر جو کئی سالوں سے ایک جھوٹا سرٹیفکیٹ سائن کرتا رہا تھا، جس میں وہ اس بات کی ضمانت دیتا تھا کہ اس کی معلومات کے مطابق پاکستان جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا، اس نے وہ سرٹیفکیٹ دینے سے انکارکر دیا۔اس سب نے ہماری ریاست اور اس کے طاقتور اداروں کو ایک بہت بڑا جھٹکا دیا، وہ امریکہ جسے وہ اپنا دوست سمجھ بیٹھے تھے وہ اپنا کام نکلوا کر چلتا بنا۔ وہاں افغانستان میں مجاہدین کے مختلف گروہ آپس میں لڑنا شروع ہو گئے، ایسے میں امریکہ کی غیر موجودگی میں بقیہ افغان جہاد کو چلانے کی ذمہ داری ہمارے ریاستی اداروں نے اپنے سر لے لی۔ پھر طالبان کی تخلیق سے لے کر کابل پر ان کے قبضے تک پاکستان کی ریاست کے طاقتور ادارے افغانستان کے معاملات میں مسلسل استعمال ہوتے رہے۔ نائین الیون کے بعد امریکہ ایک بار پھر سے اس خطے میں وارد ہو گیا لیکن اس بار وہ ان مجاہدین کو مدد دینے کی بجائے انہیں اقتدار سے علیحدہ کرنے آیا تھا۔ پھر امریکہ نے پاکستان کو ہمارے ساتھ یا ہمارے خلاف والا آپشن دے کر اپنے ساتھ ملا لیا۔ افغانستان پر ایک نئی جنگ مسلط ہو گئی، ایک طرف ریاست امریکہ کی حمایت میں طالبان کے خلاف کارروائی کر رہی تھی تو دوسری طرف ہمارے لوگ افغانستان میں جہاد کے لئے جوق در جوق جا رہے تھے۔
افغانستان میں سولہ برس تک جنگ لڑنے کے بعد بھی امریکہ ابھی فتح کے قریب نہیں ہے۔ اس دوران امریکہ نے پاکستان کو افغانستان میںاپنی سرزمین سے ہونے والی دخل اندازی روکنے کے لئے ہر ممکن طریقے سے راضی کرنے کی کوشش کی۔ پہلے فوجی اور سویلین امداد کے ذریعے اور پھر بعد میں دھونس دکھا کر۔ اب ایک بار پھر سے امریکی صدردھمکی آمیز گفتگو کر رہے ہیں، پاکستان کو یہ سب کچھ اس لئے برداشت کرنا پڑرہا ہے کیونکہ ہم افغانستان کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کرنے سے باز نہیں آرہے۔ یقیناََہمسایہ ہونے کی وجہ سے ہمیں اس بات میں دلچسپی ہے کہ افغانستان کے معاملات ٹھیک ہو جائیں لیکن اگر ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ ہمارے واویلا کرنے سے امریکہ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ ہماری مشاورت سے کرے گا تو یہ ہماری ایک بہت بڑی بھول ہے ہمارے لئے افغانستان میں اپنی مرضی کی حکومت بنوانا اب ممکن نہیں رہا۔ اگر ہم چین اور روس کی مدد سے امریکہ پراس حد تک دبائو ڈالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ وہ ہمارے دشمن ملک بھارت کو افغانستان کے امور میں زیادہ اہمیت نہ دے،تو ہمارے لئے موجودہ حالات میں اس سے بڑی کوئی کامیابی نہیں ہو سکتی۔
قومی سلامتی اور خود مختاری کا تحفظ نہ کرنے والی قومیں تباہ ہو جاتی ہیں۔ پارلیمنٹ نے اکیس نکات کے ذریعے جو پیغام امریکہ کو دیا ہے اس پر پاکستان کو عمل کرنا ہو گا ورنہ تمام مذمتی بیانات چھاتی پیٹنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوں گے۔ " ایک سفارتی ملاقات کے بعد ہتھیار پھینکے والا قومی مجرم ہو گا" بہت عرصے کے بعد اس خطے میں ایک نئی مثلث بن رہی ہے ، سی پیک اور روس کے ساتھ اسلحہ کی خریداری سے اس کو محسوس کیا جا سکتا ہے ، یہ وقت ہے کہ امریکہ اس بات کا احساس کر لے کہ افغانستان میں رہنے والے اپنی خودمختاری کے لئے لڑتے رہیں گے ۔ امریکہ ایک ٹریلین ڈالر خرچ کرنے اور تین ہزار فوجی مروانے کے بعد بھی اگر نہیں سمجھ سکا تو یہ اس کی پالیسی کی بنیادی خرابی ہے۔میں پاکستان کے حکمرانوں کو بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ افغانستان کے عوام کا حق ہے کہ وہ جس کو چاہیں اقتدار دیں، ہمیں وہاں کسی طور پر مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ البتہ اگر امریکہ کے کہنے پر بھارت کے ساتھ مل کر ہماری قومی سلامتی پر حملہ کیا گیا تو ہم پھر پور جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *