پاکستان برانڈ جمہوریت

Photo-Ayaz-Amir-sb-2

ہمارے نام نہاد لیڈران ٹھاٹ باٹ سے اپنے وسیع و عریض محلات میں رہتے ہیں جو عموماً بڑے شہروں کے پوش سیکٹرز میں ہوتے ہیں‘ لیکن ووٹ مانگنے تھوڑے نچلے درجے کے علاقوں میں جاتے ہیں۔ طاقت کے مراکز ان کے محلات ہوتے ہیں لیکن دیوانہ وار نعرے لگاتے ہوئے عوام کے ووٹ لیاقت باغ کے اردگرد، داتا دربار کے آگے پیچھے یا لیاری، ناظم آباد وغیرہ میں ہوتے ہیں۔
عوام کی بھی لاچاری، بے بسی اور کسی حد تک بیوقوفی ملاحظہ ہو کہ وہ اس تفریق کو نظر اندازکر دیتے ہیں اور محلات سے نکلے ہوئے لیڈران کی گاڑیوں کے پیچھے دوڑے جاتے ہیں، پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے ہیں اور بسا اوقات گاڑی کے بونٹوں کو چومتے ہیں۔ ہمارے لیڈران اور عوام میں کوئی قدر مشترک نہیں۔ وہ ایک جہان میں نہیں بستے۔ عمر گزر گئی ہے جلسوں اور ریلیوں میں حاضری دیتے ہوئے۔ پہلے ایام میں تو امید ہوتی تھی کہ اب کی بار حالات بدلیں گے اور ظلم و ناانصافی کے سائے پیچھے رہ جائیں گے‘ لیکن ہر بار یہ تخیل نخلستان کا فریب ثابت ہوا۔ اور اس عمر میں جب بیشتر سیاسی تقاریر سنتا ہوں‘ تو دل کرتا ہے کہ جوتا اٹھا کے ٹی وی سیٹ پہ دے ماروں۔
پرانے زمانے میں کم از کم مقرر تو پائے کے ہوتے تھے۔ جلسہ گاہ جانے اور تقاریر سننے میں ایک لُطف تھا۔ زمانہ طالب علمی میں ایک دفعہ وائے ایم سی اے ہال لاہور میں آغا شورش کاشمیری کو سننے کا اتفاق ہوا۔ یہ فیلڈ مارشل ایوب خان کا زمانہ تھا۔ کیا تقریر تھی۔ ان کے افکار سے اتنی مانوسیت نہیں تھی‘ لیکن شعلہ بیانی اور الفاظ کا تسلسل آج بھی ذہن میں زندہ ہے۔ 1983ء کی ایم آر ڈی تحریک میں علامہ احسان الٰہی ظہیر کو لاہور ہی میں سننے کا اتفاق ہوا۔ ظاہر ہے ان کے خیالات سے قربت نہ تھی‘ لیکن وہ بھی کیا مقرر تھے۔
آج کل کے لیڈرانِ کرام ایک تو باتیں بھونڈی اور بہت سطحی قسم کی کرتے ہیں‘ اور دوسرا ان کا اسلوب ایسا کہ جی کھول اٹھتا ہے۔ نواز شریف جیسے سوداگر اور سرمایہ دار انقلاب کی بات کریں‘ اور راتوں رات نظریاتی ہو جائیں‘ اس پختہ یقین کے ساتھ کہ بیوقوف عوام ان کی بات پہ فوراً ایمان لے آئیں گے، شہباز شریف بانہیں ہلاتے ہوئے مترنم حبیب جالب کے اشعار گائیں اور آصف علی زرداری جمہوریت کی بقاء اور تسلسل کا درس دیں تو دیوار میں سر پھوڑنے کو دل نہیں چاہتا؟ عوام پر سادہ لوح ہونے کا الزام مکمل طور پہ درست نہیں۔ اُن کے پاس کوئی چوائس ہی نہیں ہوتی۔ یہاں کوئی لینن یا ہوچی من تو ہے نہیں جس کی طرف وہ رجوع کریں۔ یہ شوگر مل اونر اور انواع و اقسام کے سرمایہ دار ہی رہ جاتے ہیں۔ الیکشنوں میں ان میں سے کسی کو اپنی پرچی نہ دیں تو کیا پھر کسی نہر میں پھینک دیں؟ رہا لیڈران کرام کا مسئلہ تو اُن کی سوچ صحیح ڈگر پہ چلتی ہے۔ ان کا بنیادی مفروضہ یہ ہوتا ہے کہ یہ نعرے لگانے والے اور گاڑیوں کے پیچھے بھاگنے والے پرلے درجے کے بے وقوف ہیں۔ بس‘ انہیں وقتی مَسکہ لگانے کی ضرورت ہے۔ بلند بانگ دعوے کرو‘ اور ہاتھ لہرا لہرا کے علامہ اقبال، فیض احمد فیض یا حبیب جالب کے اشعار پڑھ دو‘ تو اگلے الیکشن تک کافی ہے۔ نہ عوام بدلتے ہیں نہ لیڈران۔ بدلتی ہے تو محض ٹرک کے پیچھے بتی۔ اس سراب کو پانے کی خاطر عوام دوڑے چلے جاتے ہیں۔
مریم نواز کو اپنی گھڑیاں اور ڈائمنڈز کی بنی چیزوں کو گھر میں رکھنا پڑا ہے‘ اور ملبوسات بھی کچھ کم چمکیلے پہننا پڑے ہیں‘ حلقہ NA-120 کے عوام کی طرف رجوع کرنے سے پہلے۔ 17 ستمبر آئے گا اور گزر جائے گا، گھڑیاں اور ڈائمنڈز‘ واپس اپنی جگہ آ جائیں گے۔ مریم کا نام تو مثال کے طور پر لیا ہے‘ یہ روش ہر ہنر مند پہ صادق آتی ہے۔
بینظیر بھٹو صاحبہ کے مقدمے کا فیصلہ دو دن پہلے آیا۔ یہ بات ایک طرف کہ فیصلہ صحیح تھا یا نہیں‘ یا تفتیش ٹھیک تھی یا اس کے برعکس، مجھے اس بات نے پھر سے کھٹکھٹایا ہے کہ باہر سے آئی تھیں‘ جنرل مشرف سے ڈیل کرکے۔ اسلام آباد آئیں تو ظاہر ہے اپنے گھر سیکٹر F-8/3 میں ٹھہریں۔ لیکن جلسہ کرنے کہاں گئیں؟ لیاقت باغ۔ دلیر خاتون تھیں۔ مبینہ طور پہ انہیں پیغام بھی پہنچایا گیا تھا کہ دہشت گردی کا خطرہ ہے‘ وہاں نہ جائیں۔ ان کی کراچی آمد پہ بہت بڑا دھماکہ ہوا تھا‘ جس میں سو سے زائد افراد لقمہء اجل بن گئے تھے‘ لیکن وہ نہ رکیں‘ اور ان کے ارد گرد جن پرلے درجے کے مداریوں کا حصار تھا‘ انہوں نے بھی نہ روکا۔ جلسہ ہو گیا، وہ گاڑی میں بھی بیٹھ گئیں‘ لیکن تقدیر میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔ انہوں نے عوام کے نعروں کا جواب دینے کے لئے گاڑی کے اوپر کی طرف سے سر باہر نکالا تھا۔ فائر ہوئے اور پھر دھماکہ۔ سچ پوچھیے تو اصل میں قصوروار وہ مداری ہیں‘ جو گاڑی میں ان کے ساتھ تھے‘ اور جن کو اتنی عقل نہ آئی کہ وہ انہیں سر باہر نکالنے سے روکیں۔ لیکن منیر نیازی نے کیا کہا ہے، کہ جو ہونی ہے وہ ہو کے رہتی ہے۔
ذرا سوچیے تو، اگر بھٹو صاحب زندہ ہوتے تو آصف علی زرداری کبھی ان کے داماد ہو سکتے تھے؟ کہاں بھٹو اور کہاں یہ دوسرے لوگ۔ لیکن انہونی نے ہونا تھا سو ہو گئی۔ انسان کچھ خود کرتا ہے اور کچھ قسمت کے فیصلے ہوتے ہیں۔ آپ لاکھ Rationalist ہوں، والٹیئر (Voltaire)کی سوچ رکھتے ہوں لیکن بہت سے واقعات کی کوئی Rational وضاحت نہیں ملتی۔ مثالیں کیا دیں۔ پہلی جنگ عظیم کی کوئی منطقی وجہ اب تک دریافت نہیں ہوئی۔ بس آنکھ پہ پٹیاں باندھے یورپ کی مملکتیں اس آگ اور خون کے ناچ میں کود پڑیں۔ ہماری 1965ء کی جنگ جس طرح سے شروع ہوئی حماقت کا کھیل تھا۔ کارگل کا معرکہ بھی اسی زمرّے میں آتا ہے۔
جب کوئی گھر تعمیر کرے تو ہر شام یہ بحث نہیں چھڑتی کہ گھر بنانے کا مقصد کیا تھا۔ تعمیر کے بعد کوشش ہوتی ہے کہ رہن سہن کے لئے گھر کو بہتر سے بہتر بنایا جائے۔ ہم ہیں کہ ستّر سال تک اس بحث میں الجھے ہوئے ہیں کہ مقصدِ پاکستان کیا تھا۔ پہلی قانون ساز اسمبلی کو دو تین سال میں آئین بنا لینا چاہیے تھا۔ آئین نہ بنا لیکن ایک قرارداد مقاصد ترتیب دی گئی۔ کیا ہماری عملی زندگی پہ اس قرارداد کا تھوڑا سا بھی اثر رہا ہے؟ لینن سے پوچھا گیا کہ کمیونزم کیا ہے؟ جواب تھا‘ ہماری طاقت اور پورے روس میں بجلی کا پھیلاؤ۔ پاکستا ن کا مقصد اس سے زیادہ یا کم کیا ہو سکتا ہے کہ پاکستان خوشحال ہو، غربت اور ننگ نہ ہو، اور اونچ نیچ اتنی نہ ہو جتنی کہ ہے۔ تعلیم کے مواقع اور صحت کی سہولیات ہر ایک کے لئے یکساں ہوں۔ یہ کون سی مملکت اور کون سی جمہوریت ہے کہ بے وسیلہ لوگ دوا اور حصولِ علاج کے لئے ایڑیاں رگڑتے رہیں اور اہلِ ثروت لندن سے کم کا پڑاؤ نہ کریں۔
آدمی کے پاس پیسے ہوں تو جو چاہے کرے۔ نیویارک میں رہنا چاہے یا کہیں اور، یہ اس کی صوابدید اور مرضی۔ لیکن اگر شوقِ حکمرانی بھی ہو اور مزنگ چونگی اور داتا دربار کے گردونواح سے ووٹ بھی لینے ہوں تو پھر معیار کچھ اور ہونا چاہیے۔ جو حکمران اپنا علاج ملک میں کرانا اپنی بے توقیری سمجھیں انہیں کوئی حق حکمرانی نہیں ہونا چاہیے۔ دعوے ان کے سنو تو لینن اور ماؤ سے بھی آگے۔ اصلیت پہ نظر ڈالیں تو ملک کی قسمت کو کوسنے کو جی چاہتا ہے۔ ہر جگہ اور ہر دیار میں سیاست میں مبالغہ کار ہوتا ہے‘ لیکن یہاں جو باتیں سننے کو ملتی ہیں شرم و حیا کی تمام پابندیوں سے آزاد ہوتی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *