آئیے عید کو پاک کرتے ہیں

dua

 صرف جانور ذبح کر کے نئے کپڑے پہن کر باہر گھومنے کو عید کیسے کہوں؟ جب اپنے ارد گرد کے لوگوں کا احساس نہ ہو، مرے سامنے کوئی پھٹے لباس میں گزرے اور میں نے مہنگا لباس پہن رکھا ہو، مرے سامنے ایسا گھر ہو جہاں بھوک کا راج ہو اور میں کیسے پکوان بناؤں؟ مرے سامنے روٹھے ہوئے رشتے دار ہوں اور میں قربانی کا ڈھونگ رچاؤں؟ یہ ممکن نہیں، اگر ایسا کروں تو یہ عیدِ قرباں نہ ہوئی ، عیدِ مطلب ہوئی،
ہم کب اپنے اندر کے وحشی جانور کی قربانی کریں گے؟ اس وحشی جانور کی جو ہمیں انسانیت کے درجے سے نیچے لے آتا ہے، کب ہم اس احساس کو زندہ کریں گے جو ہمیں اپنے جیسے انسانوں کی محبت میں سرشار کر دے گا، کب ہم قدم آگے بڑھا کر روٹھے ہوئے کو منائیں گے، کب ہم قربانی مانگنے کی بجائے اپنی انا نفرت اور ضد کی قربانی دیں گے؟مرا کہا مانیں گے؟
میں تو کہتی ہوں اگلی عید کس نے دیکھی؟ کون کل کی جانتا ہے، اسی عید سے ہی اپنے اندر کے جانور کو بھی قربان کر کے اس عید کو حسد تعصب اور نفرت سے پاک کرتے ہیں اور پھر جا کے ہی ہمارے جانور کی قربانی بھی قبول ہو گی

رب بھی ملے گا اور یہ دنیا کی خیر بھی
ٹوٹے ہوئے دلوں کو کبھی جوڑ کر تو دیکھ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *