شہر خموشاں

ظریف بلوچ 

zareef baloch
شہر خموشاں کی خاموش سڑکوں پر چلتے ہوئے کچے اور ناہموار گلیوں سے گذرتے ہوئے ہر وقت اپنی بے بسی اور لاچاری یاد آتی ہے.تنگ گلیوں میں بائیک دوڑاتے ہوئے نوجوانوں کو دیکھ کر.شہر خموشاں کی ابلتے ہوئے گٹر لائن .بجلی کے تاروں اور کھمبوں کو دیکھ کر جو کسی بھی وقت گر سکتے ہیں مجھ پر یا میرے ہم عصروں پر.خاموشی کو توڑنے کی کوشش کرتے کرتے خود بھی خاموش فضاؤں میں جینے کو ترجیح دینے کی ناکام کوشش کرتا ہوں . بولنے کی بجائے رات مچھروں کے رحم و کرم پر سونے کو ترجیح اس لئے دیتا ہوں کہ ساری شہر کے مکینے خاموش ہیں میں کیوں بولو! پینے کے لئے پانی نہیں خوشی خوشی ایک ٹینکر پانی منگوا کر اپنے غم ہلکا کرتا ہے......
پھر بھی میں خوش ہوں........
بے تابی سے پانچ سال اسی امید سے گزارتا ہوں کہ آنے والے دن میرے خوشحالی کے دور ہوگا....یہ سوچتے ہوئے کہ کوئی سکول یا کالج کا دوست شہر خموشاں کی اقتدار پر براجمان ہوگا پھر عیش ہی عیش.......
کاش !
Image result for alone man on bike at night
ایسا ممکن ہوتا دیکھائی نہیں دیتا ہے اور میں جانتے ہوئے خوابوں اور خیالوں کی دنیا میں اپنی باری کا انتظار کرتا رہتا ہوں...
صبح اٹھ کر دن گننا شروع کرتا ہوں.رات سوتے ہوئے خوابوں کی دنیا میں ایک ہی خیال آتا ہے کہ یہ پانچ سال کب پورا ہوں گے.......
بس اسی امید کے ساتھ بائیک چلاتے کبھی ایسے خیالوں میں گم ہوجاتا ہوں کہ اپنی منزل بھی بھول جاتا ہوں راستے تو روز بھول جانے کی عادت ہے.....
کبھی رات کو عجیب خواب نظر آتے ہیں .اور دوبارہ بچپن کی زندگی گزارنے کی خواہش آتی ہے.....
رات کی دوسری پہر کو یاد کرکے اپنے آپ پر اتنی ہنسی آتا ہے کہ جیسا میں اس شہر کی سب سے بڑی پاگل ہوں ایک دوست کا میسج ہر وقت میری ذہن کو کریدتا ہے......
سر!
ہمارے آنے والی نسل بھی ہماری طرح ہوگا?وہ بھی بجلی آنے کا جشن مناتے ہیں?????
میں کیا جواب دیتا ہے نوجوانوں کو محسوس کرنے کی بجائے حوصلہ دینا مجھے سکھایا گیا تھا..........
نہیں بھائی وہ ایک خوشحال زندگی کے مالک ہوں گے. خود بھی خوش اور دوست بھی کہ ہم نہ سہی ہمارے آنے والی نسل بجلی اور پانی آنے کی جشن نہیں مناتے ہیں.....
ایک نئی صبح طلوع ہوتے ہی میں تیزی کے ساتھ اپنی بائیک دوڑاتے ہوئے شہر خموشاں کی سڑکوں پر دوڑاتا رہا .سال بھر سنسان رہنے والے سڑکوں میں آج ٹریفک کی ریل پیل میں تیزی آچکی تھی اور میری طرح ہر ایک جلدی میں تھا اور منزل کی طرف گامزن.
شہر کی بازار میں کافی رونق تھی اور بے ہنگم ٹریفک چل رہی تھی...
 شہر میں کافی شور کی آواز سنکر میں انجانی کیفت کے شکار ہوتے ہوتے رہ گیا. ٹریفک کا روٹ بدل چکا تھا .
ارے بھیا کیا ہوا.... شہر خموشاں تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا اور رہی سہی کسر بجلی کے متبادل ذرائع جرنیٹروں کی گڑگڑاہٹ کی آواز نے پورا کیا.....لوگ جلدی میں تھے اور شہر خموشاں میں رش کا سماں دیکھ کر مجھ پر عجیب کیفیت سی طاری تھا ......
میں شاید خیالات کی دنیا میں سو رہا تھا اور کب آنکھ لگی تھی....
میرا پیارا بھتیجا مجھے ٹٹول رہا تھا......کا کا اٹھو اب سورج نکل چکی ہے.....کیا ہوا سورج تو روز طلوع ہوکر غروب ہوجاتی ہے.....مجھے سونے دو!!"""""
کاکا آج عید ہے....
مجھے یاد آنے لگا کہ کل شہر خموشاں کیوں رش تھا..      چلو ایک اور عید گزر گئی......مگر میں تو پانچ سال کا انتظار کررہا تھا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *