اسامہ بن لادن کو اپنا امیر ماننے والے

mansha

اس وقت بحیثیت قوم ہماری تمام تر توجہ اس مسئلے پر ہے کسی طرح وطن عزیز سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو۔ریاست سے قتل وغارت اور شورش کا مکمل قلع قمع ہو ۔تعلیمی ادارے ،عبادت گاہیں اور پبلک مقامات محفوظ ہوں ۔فتووں کی تلوار واپس نیام میں چلی جائے تاکہ ترقی یافتہ،پر امن اور تعمیری اقدار کا حامل شعور پنپ سکے اور مردا سماج کی سوچ نکھرکر جینے کے قابل ہوسکے لیکن یہ سب کچھ نا ممکن ہے کیونکہ اس ضرر رساں ’’بیانیے‘‘کو عوامی سطح پر مضبوط کیا جارہا ہے ۔جس نے ہمارے فوجی جوانوں کے گلے کاٹے ۔قتل ِ عام پر ایک عام آد می کو اکسایا ۔تعلیمی اداروں میں ہمارے معصوم بچوں کو خون میں نہلادیا ۔(جوطلب علم کا مقدس فریضہ سر انجام دے رہے تھے ۔)اور تو اور ذہن سازی کا جو فارمولا طے پایا گیا ہے اس کے تحت ہماری انتظامیہ بھی ایک طرح سے دہشت گردی کی معاون ہے ۔
ایک طرف تو یہ شور ہے کہ ملک سے شدت و انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی مگر دوسری طرف جب ایک عام آدمی کو ااس بحث میں الجھا ہو اپاتے ہیں کہ شہید اسامہ بن لادن ہمارا امیر ہے ۔تو شک یقین میں بدل جاتا ہے کہ ممکن ہی نہیں پاکستان سے دہشت گردی کا رائج فارمولاختم ہو ۔راقم نے باربار اپنی تحریروں میں اس بات پر زور دیا کہ نصاب تبدیل کیا جائے تاکہ بچپن سے ہوئی ہمار ی ذہن سازی کا رخ تبدیل ہو سکے ۔ہم اپنی آئندہ نسل میں مثبت فکر انجیکٹ کر سکیں ۔کہیں بھی چائے کے ڈھابے پر بیٹھے عام آدمی سے جب آپ فرقہ وارانہ بنیادوں پر چلنے والے مدارس کے حوالے سے محض اس کا مائنڈ سیٹ چیک کرنے کے لیے بات کر کے دیکھیں جو صر ف اور صرف کاروباری مقاصد کے لیے قائم کیے گئے ہیں کہ ان مخصوص مدارس کو دہشت گردوں کی نرسری قرار دے کر پابندی لگادی جائے تو رد عمل کے طور پر مخاطب توہین مذہب کا مرتکب کہہ کر اسلام کی خودساختہ تشریح کی روشنی میںآپ کو جہنم واصل کر دے گا ۔ کچھ اسی طرح کی ایمانی و ذہنی کیفیت ہمارے تفتیشی افسران کی بھی ہے ۔پولیس اسٹیشنز میں تفتیشی افسران زیر حراست افراد کی جب جسمانی چھترول کرتے ہیں ۔ توسب سے پہلے ان سے نماز سنی جاتی ہے جب کہ ملزم کی تفتیش میں قانونی حوالے سے یہ عمل کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔علاوہ ازیں تعلیمی اداروں میں تعینات کر نے سے قبل اساتذہ کی نفسیاتی حالت کا ضرور جائزہ لیا جائے کہ کہیں یہ حضرات عمارت کی بنیاد میں شدت پسندی اور دہشت گردی کے اجزاء تو شامل نہ کردیں گے ۔۔۔؟بصورت دیگر ایک عام آدمی،تعلیم یافتہ نوجوان اور انتظامی افسر (بیورکریٹ)کیوں نہ یہ کہے کہ ’’شہید اسامہ بن لادن ہمارا امیر ہے ۔۔۔!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *