آنگ سان سوچی کے نام ایک پیغام

احمد حماد
ahmed hammad
اچھی آنگ سان سوچی!
ہم نے اپنے میڈیا میں آپ کو ظلم کے خلاف جدوجہد کی علامت کے طور پہ پیش کیا۔ آپ پہ مضامین شائع کیے۔ آپ کو مشرق کی آئرن لیڈی سمجھتے رہے۔
ہم نے اپنے لٹریچر میں ہمیشہ بُدھ مذہب کو مذہبِ امن کے طور پہ متعارف کرایا اور اپنے بچوں کو بُدھا کے اقوال سنائے۔ہم نے ہر اس مذہب اور مَت کو پسند کیا جس نے 'جیو' یعنی زندگی کی قدر کی۔ بھلے وہ مہاویر کا جین مت ہو یا انسان سے پیار کرنے والا اور وحدت کے پرچارک گرو نانک کا سکھ دھرم۔
Image result for aung san sochi
سُوچی!
ہم بھکشؤوں سے پیار کرنے والے اور گندھارا تہذیب پہ فخر کرنے والے لوگ ہیں۔ مگر، ہم قلم والے روہنگیا مسلمانوں پہ غیر انسانی اور بدترین مظالم پہ سراپا احتجاج ہیں۔ان مظالم کو دیکھنے کے بعد یہ تو نہیں ہوگا کہ ہم بُدھا، بابانانک، کنفیوشس یا مہاویر سے پیار کرنا چھوڑ دیں گے۔ہم بس آپ کا احترام کرنا چھوڑیں گے۔ اور لکھا کریں گے کہ جسے امن کا نوبل پرائز ملا وہ مسلمانوں کی سفّاک نسل کشی پہ خاموش رہی۔ مارٹن لوتھر نے کہا کہ (سخت وقت کے) آخر میں ہمیں دشمن کی گالی نہیں، دوستوں کی خاموشی یاد رہ جاتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *