اوبر اور کریم ٹیکسی سروس کے ڈرائیورزسے ہوشیار

محمد بلال خان

Image result for ober and cream taxi

کریم اور اوبر ٹریولنگ سروس نئی نئی متعارف ہوئی ہے، عوام، ڈرائیورز اور کمپنی سب خوش ہیں کہ یہ بہترین سروس ہے، بلا شبہ یہ ایک بہترین سروس ہے، لیکن ڈرائیور دھوکے بازی اور فراڈ کے بھی نئے طریقے نکل آئے ہیں، پہلے ٹیکسی مقام سے دور اتار کر کلٹی ہونے کی کوشش کرتی تھی، اب کریم اور اوبر سروس کا ہر لمحہ میٹر چلتا ہے، پیسے اسی حساب سے بنتے ہیں تو ڈرائیور بھی چکمہ دے کر راستہ لمبا کردیتے ہیں تاکہ چند روپے زیادہ کما سکیں، یہ کرپشن کا نیا طریقہ ہے، رات اسلام آباد جانا ہوا، جہاں جانا تھا، راولپنڈی سے وہاں بیس منٹ کے اندر اندر پہنچے لیکن سیکٹر میں پہنچ کر گلی نمبر تک پہنچنے کیلئے ڈرائیور نے نصف درجن گلیاں زیادہ گھما پھرا کر بالآخر وہاں پہنچا ہی دیا، لیکن پھر بھی 270 روپے بنے، جو کہ سکیم تھری راولپنڈی سے اسلام آباد تک ٹیکسی کی مناسبت سے بہت ہی کم کرایہ بنتا ہے، ابھی واپسی پر پھر کریم منگوائی۔۔۔۔جہاں ہم سڑک خالی ہو تو اسلام آباد سے راولپنڈی اپنے مقام تک بیس منٹ میں آتے ہیں وہاں ڈرائیور لگ بھگ چالیس منٹ لگا گیا، لیاقت باغ سے چار پانچ کلو میٹر فاصلے والی جگہ کو ڈرائیور نے سترہ کلو میٹر کا رستہ بنادیا، چند لمحات کیلئے معمولی سی آنکھ کیا لگی کہ کچہری سے رخ بدل مورگاہ بھی کراس کر کے کہیں آگے لے گیا، اور میں جاگا تو پوچھنے لگا بھائی کب تک پہنچیں گے؟ میں نے کہا کہ بندۂ خدا کچھ رحم کرو، میپ تمہارے سامنے ہے، لوکیشن دی ہوئی ہے، کہاں لے آئے ہو، خیر عیاری سے کہنے لگے مجھے راستوں کا ٹھیک سے پتہ نہيں، بہرکیف وہاں سے دوبارہ کچہری پہنچا اور پھر سکیم تھری اتار کر ٹوٹل 320 روپے بنے، حالانکہ یہ رقم بہت ہی معمولی ہے، رات کے وقت ٹیکسی اسلام آباد سے راولپنڈی ہزار روپے سے کم نہیں لیتی، اس لئے یہ بہت بڑی سہولت ہے۔۔۔۔

میں یہ نہیں کہتا کہ سب ایسے ہونگے، کیونکہ پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتیں، مگر میرا تجربہ رہا ہے، جب سے یہ سروس آئی ہے، یہی استعمال کررہا ہوں، اندازہ ہوجاتا ہے کہ بیشتر ڈرائیور ایسے چکمہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، باوجود اس کے کہ آپ کو پورا روٹ بھی پتہ ہو، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ من حیث القوم دھوکے بازی اور فراڈ ہماری جینز میں شامل ہے، جہاں ہم حکمرانوں اور دیگر کرپٹ طبقے کو تنقید بناتے ہیں ویاں یہ نہیں سوچتے کہ دس بیس روپے کیلئے ہم کیسے چکر دے رہے ہیں، وہ بھی ماہِ "کریم" اور اوپر سے پچیسویں رات میں۔۔۔۔خیر یہ چکر سواری کو نہیں، اپنے نصیب کو دئیے جارہے ہیں۔۔۔ گاڑی بدل گئی، طریقہ بدلا، اصول بدل گئے، لیکن ہماری فطرت نہ بدل سکی۔۔۔۔یہ قوم ایسے کیسے بدل سکتی ہے، جب تک سماج انفرادی طور پر باشعور نہ ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *