زمینی حقائق اور این اے 120 میں متوقع جیت

شاھد نسیم چوہدری

shahid nasim

حلقہ این اے۔120میں گزشتہ جنرل الیکشن2013 میں میاں محمد نواز شریف مسلم لیگ ن نے 91666 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی تھی،جبکہ انکے مد مقابل پی ٹی آئی کی ڈاکٹریاسمین راشد نے52321 ووٹ حاصل کئے تھے،میاں نواز شریف کو یاسمین راشد پر 39345 ووٹ کی واضح برتری حاصل ہوئی،اور وہ واضح اکثریت سے جیت گئے تھے،اور اسی سیٹ سے وہ وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے،اسی حلقے سے پیپلز پارٹی کے زبیر کاردار نے صرف 2604 ووٹ حاصل کئے،جمیعت علمائے اسلام کے مولانا حافظ ثناء اللہ نے1152 اور جماعت اسلامی کے حافظ سلمان بٹ کو صرف 952 ووٹ مل سکے تھے،آزاد امیدوار رابنسن ایڈووکیٹ نے813،آذاد امیدوار مرغوب حسین نقوی نے774 ،علامہ مجاہد عبدالرشید نے631 ووٹ حاصل کئے،لیکن اصل مقابلہ صرف مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی میں ہی ہوا،گزشتہ الیکشن میں اس حلقے سے کل رجسٹرڈ ووٹر کی تعداد297000 تھی، اور151351 ووٹرز نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا تھا،جس کے نتیجے میں میاں نواز شریف نے یہ سیٹ با آسانی جیت لی تھی، اب چونکہ پانامہ کیس فیصلے میں میاں نواز شریف کی سیٹ ختم ہو گئی ہے، اور سترہ ستمبر اسی حلقے میں جو ضمنی الیکشن ہونے جارہا ہے،اس میں بھی نتائج مختلف نہیں ہونگے، اورمسلم لیگ ن کی امید وار کلثوم نواز یہ سیٹ با آسانی جیت جائیں گی،بلکہ مسلم لیگ ن کی کلثوم نواز کی جیت کا مارجن پچھلے الیکشن کے مقابلے میں زیادہ ہو گا ، جسکی کئی ایک وجوہات ہیں، یہ حلقہ نواز شریف کا آبائی حلقہ ہے ، جس میں مسلم لیگ ن کو شکست دینا تقریبا ناممکن ہو گاکیونکہ اس حلقے میں ہی نہیں بلکہ پورے لاہور میں میاں نواز شریف اور شہباز شریف نے بے پناہ کام کروائے ہیں،اور حلقے کے لوگوں کا خیال ہے کہ میاں نواز شریف کو چونکہ ایک کمزور الزام کی بنیاد پر نکالا گیاہے،لہذا اب مسلم لیگ ن کو ہمدردی کا تین سے پانچ فیصد ووٹ ذیادہ پڑنے کا امکان ہے،مریم نواز شریف جس طریقے سے ، جن تیکنیکی امور پر اس حلقے میں کنوینسنگ کر رہی ہے، اورجس طرح تقاریر کر رہی ہے وہ بہت جاندار ہے،اور وہ لوگوں کے دلوں پر اثر کر رہی ہے،اسکے علاوہ یہ حلقہ بھی میاں نواز شریف،میاں شہباز شریف اورن لیگ کے دیوانوں کا ہے،اور اب یہ بھی ممکن نظر نہیں آرہا کہ یاسمین راشد پچھلے الیکشن جتنے ووٹ لے جائیں،کیونکہ پچھلی بار تو پی ٹی آئی کے نام پر ووٹ پڑے تھے، اوراسکی کارکردگی کچھ سامنے نہیں تھی، لیکن اب پی ٹی آئی کی جو کارکردگی کے پی کے میں سامنے آئی ہے اس سے پی ٹی آئی کا چار پانچ فیصد پڑھا لکھا ووٹر متنفر ہوا ہے، اور انکا یہی خیال ہے کہ عمران خان نے آجتک الزامات کی ہی سیاست کی ہے، اور خاص کر پچھلے چار سالوں میں لاہور کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ اتنا پیسہ لاہور پر نواز شریف اور شہباز شریف کیوں لگا رہے ہیں؟،اور اب عمران خان لاہور والوں سے ووٹ کس منہ سے مانگ رہے ہیں، اور اسکے علاوہ اس حلقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اب عمران خان سے کے پی کے میں حکومت کی کارکردگی کا بھی پوچھیں گے، اور وھاں پراحتساب کمشن کو کیوں غیر فعال کیا گیا ہے؟،اتنا بڑا خیبر بنک سکینڈل ہوا لیکن اسکے ذمہ داران کو آجتک کیوں نہ ہٹایا گیا؟،اس بات پر جماعت اسلامی انکی اپنی حلیف جماعت بھی تحفظات رکھتی ہے،عائشہ گلا لئی کے عمران خان پر اخلاق سے گرے ہوئے میسج بھیجنے کے الزامات کا جواب ابھی تک کیوں نہیں دیا گیا؟، موجودہ حالات کے تناظر میں تحریک انصاف کو اندرون خانہ اس الیکشن میں بھی مسلم لیگ ن کی فتح کا واضح یقین ہے جس کی بنا پرعمران خان کی کوشش ہے کہ پانامہ کیس کا سہارا لیکرنواز شریف پر جتنا گند اچھالا جا سکتا ہے اچھالا جائے ،تاکہ کسی صورت بھی NA-120 سے الیکشن جیتا جائے تاکہ آئندہ الیکشن ۲۰۱۸ کیلئے کچھ تو اخلاقی جواز ہو کہ لوگ اب نواز شریف سے متنفر ہو گئے ہیں،پانامہ لیکس کے ایشو کے علاوہ تحریک انصاف کے پاس کوئی ایشوہی نہیں ہے،اگر مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو اس وقت مسلم لیگ ن کے پاس قومی اسمبلی کی ۳۴۲ کے ایوان میں سے اس کی اپنی ۱۸۸ سیٹیں ہیں اور تحریک انصاف کے پاس صرف ۳۳ سیٹیں ہیں اسی طرح اگر پنجاب اسمبلی میں دیکھا جائے تو مسلم لیگ ن کے پاس اپنی ۳۱۱ سیٹیں ہیں جبکہ تحریک انصاف کے پاس صرف ۳۰ سیٹیں ہیں، کشمیر کے الیکشن میں بھی مسلم لیگ ن نے تحریک انصاف کو چاروں شانے چت کیا ہے اور تحریک انصاف باوجود بڑے بڑے جلسے کرنے کے کامیابی حاصل نہیں کر سکی، کشمیر سے صرف دو سیٹیں حاصل کر سکی ،دوسری طرف نواز شریف تو چلا گیا لیکن سی پیک پر کام جاری و ساری ہے اور گوادر پورٹ اور گوادر ائر پورٹ کی تعمیر کا کام تیزی سے جاری ہے،لاہور،راولپنڈی اور ملتان میں جدید سفری سہولیات کی حامل میٹرو بس کا آغاز ہو چکا ہے،کراچی تاپشاور موٹر وے کی تعمیر کا آغاز ہو چکا ہے،توانائی کے بحران کے خاتمے کیلئے کوششیں،عوامی جمہوریہ چین کی جانب سے ۴۶ ارب ڈالر کی تاریخی سرمایہ کاری،ایشیا کے سب سے بڑے قائد اعظم سولر پارک اور نندی پور ہائیڈرو پراجیکٹ میں بجلی کی پیداوار کا آغاز، جبکہ لوڈ شیڈنگ اٹھارہ گھنٹے سے کم ہو کر چھ گھنٹے تک محدود، اسلام آباد میں ایشیا کے سب سے بڑے سگنل فری انٹر چینج کی تعمیر، کراچی میں اغوا برائے تاوان،ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور سٹریٹ کرائم میں نمایاں کمی،۳۴۱ ارب روپے کے کسان پیکج پر فوری عمل درآمد،اور سب سے بڑھ کرجمہوری طرز سیاست،آئین کی پاسداری اورتمام سیاسی جماعتوں کے مینڈیٹ کا احترام نواز شریف کے جمہوری ویژن کی ہی بدولت ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ تحریک انصاف کی تمام تر رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ کی حکومت نواز شریف کی ہدایات کے مطابق حکومت اپنے کام میں دن رات مگن ہے او رآجتک سوائے ایک آدھ سیٹ کے تمام ضمنی ،صوبائی یا قومی اسمبلی کے الیکشن ہوں اس میں پاکستان مسلم لیگ ن کوہی کامیابی ملی ھے جو کہ ایک نہایت کڑوا سچ ہے..او ر اگر کوئی کہے کہ پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن انتخاب ہار جائیگی تو شاید یہ زمینی حقائق سے آنکھ چرانے والی بات ہوگی، کیونکہ حلقے کے لوگ پانامہ کیس کے فیصلے کو سنجیدہ نہیں لے رہے ،انکا کہنا ہے کہ یہ تو صرف اقامہ پر نواز شریف کی نا اہلی ہوئی ہے،سنجیدہ حلقے بھی اس بات کے اشارے دے رہے ہیں کہ ان زمینی حقائق سے کسی صورت بھی انکار نہیں کیا جا سکتا، سترہ ستمبر کو این اے 120-کے ہونے والے ضمنی انتخاب میں چوالیس امیدوار حصہ لے رہے ہیں، اس حلقے میں سابقہ الیکشن سے ابتک تقریبا 24000 نئے ووٹوں کا اندراج الیکشن کمشن نے کیا ہے،اب تقریبا321000 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے،جس میں کسی اپ سیٹ کی امید نہیں ہے،اس ضمنی انتخاب میں لیکن اصل مقابلہ پاکستان مسلم لیگ ن کی امیدوار کلثوم نواز اور پی ٹی آئی کی ڈاکٹر یاسمین راشد میں ہو گا، زمینی حقائق کی روشنی میں سنجیدہ حلقے اس بات کے اشارے دے رہے ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ ن ہی کی امیدوار کلثوم نواز کی واضح جیت متوقع ہے-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *