ایام حج میں جہاں سعودی عرب کی حکومت اور مملکت کی پوری ریاستی مشینری اللہ کے مہمانوں کی خدمت گذاری میں سرگرم ہوتی ہے وہیں غیر حکومتی سطح پر بھی کئی تنظیمیں، کمیٹیاں اور گروپ حجاج کی خدمت کی سعادت حاصل کرنے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔العربیہ کے مطابق فریضہ حج کی ادائی کے لیے حرم مکی میں آنے والے حجاج کرام بالخصوص خواتین کی خدمت پر مامور دیگر اداروں میں نارنجی رنگ کی جیکٹ والی با پردہ خواتین رضا کار بھی پیش پیش رہتی ہیں۔ یہ خادمائیں حجاج کرام کو ضرورت کے مطابق بنیادی طبی سہولت مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ کئی دوسری خدمات بھی انجام دیتی ہیں۔ اس بار ملک بھر سے منتخب 500 خواتین رضاکاروں کو حجاج کرام کی خدمت کا موقع دیا گیا۔ 150 یا اس سے زاید کی تعداد میں یہ خواتین رضاکار حرم مکی کے 10 مقامات پر تعینات رہی ہیں۔

مکہ مکرمہ میں ہلال احمر کی خواتین رضار کمیٹی کی ترجمان مشاعل الشمرانی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہماری رضاکار ٹیم حجاج کو طبی سہولت مہیا کرنے اور حجاج میں آگہی اور شعور کو اجاگر کرنے کے لیے کام کرتی ہے۔ نزلہ زکام، بخار، شوگر اور بلڈ پریشر اور دمہ کے مریضوں کو موقع پر طبی امداد مہیا کرنا نارنجی جیکٹ والی رضاکاروں کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

الشمرانی نے بتایا کہ ہر خاتون رضا کار حج کےایام میں 10 گھنٹے روزانہ کی بنیاد پر مفت خدمت انجام دیتی ہے۔ ان کے لیے حرم مکی میں مطاف، مسعی اور مسجد کی تمام منازل میں 10 جگہیں مختص کی گئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ رضار خواتین ٹیم میں عربی اور انگریزی زبانوں کی ماہر خواتین کے ساتھ چھ غیرملکی زبانوں کی ماہر شامل ہوتی ہیں۔ ان میں سے بیشتر 14 سال سے اس خدمت کا تجربہ رکھتی ہیں۔ ان میں 98 فی صد خواتین طب کے شعبے سے وابستہ ہوتی ہیں اور مریضوں کو ہنگامی حالت میں ڈیل کرنے میں انہیں خصوصی مہارت فراہم کی جاتی ہے۔