برما ایشو کی اصل حقیقت

افضال احمد آزاد
Image may contain: 2 people
برما کا نیا نام میانمر ہے-برما کی ٹوٹل آبادی 52ملین ہے- جس میں سے 87 ٪ بدھسٹ، تقریبا 6٪ عیسائی ،4٪ مسلمان اور آدھی فیصد ہندو آبادی ہے- اس ملک کا سرکاری طور پر کوئی مذہب نہیں ہے-مطلب یہ سیکولر سٹیٹ ہے- برما کی ایک ریاست رکھائن ہے(جس کو اردو میں ارکان بھی کہا جاتا ہے)- اس ریاست میں مسلمانوں کی آبادی زیادہ ہے- اور ہندو بھی رہتے ہیں لیکن انکی آبادی کم ہے- برما کی سرحد کے ساتھ پانچ ممالک کی سرحد ملتی ہے- جس میں بنگلہ دیش، انڈیا، چین، تھائی لینڈ اور لؤس- لیکن سب سے زیادہ اس ملک پر ہولڈ چین کا ہے- آپ برما کو چین کی کالونی بھی کہہ سکتے ہیں-
بات ہورہی تھی برما کی ریاست رکھائن کی-1982ء میں برما نے سٹیزن شپ کا ایک قانون پاس کیا جس کے مطابق رکھائن کی ریاست میں رہنے والے لوگ برما کے شہری نہیں بلکہ یہ لوگ بنگلہ دیش سے ہجرت کرکے آئے ہیں- برما کی حکومت کے مطابق انکا رہن سہن، شکلیں، رسم و رواج سب بنگالیوں سے ملتا جلتا ہے لہذا یہ لوگ بنگالی ہیں اور برما کے شہری نہیں-( برما کے مطابق)- جن لوگوں کو برما کے شہری ماننے سے انکار کردیا گیا ان لوگوں کو روہنگیا کہتے ہیں- اس میں مسلمانوں کے ساتھ ہندو بھی شامل تھے- لیکن مسلمانوں کی تعداد ہندوؤں کے مقابلے میں زیادہ تھی اور ہے- بنگلہ دیش کی حکومت نے ان لوگوں کو اپنا ماننے سے انکار کردیا- اور یہ موقف دیا کہ یہ لوگ برما کے ہیں انکا بنگلہ دیش سے کوئی تعلق نہیں-لہذا روہنگیا کے لوگ بنگلہ دیش اور برما کی حکومتوں کی ہٹ دھرمی کی بھینٹ چڑھنے لگے-
حیرت کی بات ہے برما کی باقی ریاستوں اور شہروں میں بسنے والے مسلمان اقلیت کو برما کی شہریت کی سہولت میسر ہے لہذا ان مسلمانوں نے ان بیچارے روہنگیا لوگوں کی کسمپرسی پر آواز اٹھانے کی کبھی کوشش نہیں کی-رکھائن کی سرحد بنگلہ دیش کے ساتھ ملتی ہے جس میں درمیان میں خلیج بنگال آتی ہے- جس میں یہ لوگ اگر کشتیوں پر بیٹھ کر خلیج بنگال کو کراس کرکے بنگلہ دیش جانے کی کوشش کرتے ہیں تو بنگلہ دیش انکو بنگلہ دیش میں جانے نہیں دیتا-اور یہ لوگ اگر برما واپس آتے ہیں تو واپس برما میں "اسلامی نام نہاد جہادیوں" کی وجہ سے یہ لوگ برما کی فوج کا شکا ر بن جاتے ہیں-
کہا جاتا ہے کہ روہنگیا کے لوگ برما میں سکون سے رہ رہے تھے(لیکن انکو شہری کے حقوق حاصل نہیں تھے)- کہ برما کے شہر میں بدھ مت کے ایک ٹیمپل میں بم دھماکہ ہوا جس کی ذمہ داری "اسلامی جہادیوں" نے قبول کی- اس میں 50 بدھسٹ مارے گئے- اس بم دھماکے کو روہنگیا کے لوگوں بالخصوص مسلمانوں کے لیئے 9/11 بنا دیا گیا- اس واقعہ کو بنیاد بناتے ہوئے روہنگیا کے مسلمانوں کے لیئے برما کی زمین کی تنگ کردی- جس کی وجہ سے روہنگیا کے مسلمانوں نے بنگلہ دیش کی طرف ہجرت شروع کردی- لیکن بنگلہ دیش نے وہی ازلی بے حسی جاری رکھی انکو بنگلہ دیش کی سرحد پر خیلج بنگال میں چھوڑ دیا گیا- اس میں بہت سے لوگ ڈوب کر شہید ہوئے-لیکن برما اور بنگلہ دیش دونوں حکومتوں کو کوئی شرم اور حیا نہیں آئی-
Image may contain: 15 people, people sitting, crowd and outdoor
نئی تاذہ لہر جو پچھلے ہفتے سے شروع ہوئی ہے اس میں برما کی فوج کی چیک پوسٹ پر ایک حملہ ہوا جس کی ذمہ داری پھر انہی اسلامی نام نہاد جہادیوں" نے قبول کی جس میں دس فوجی مارے گئے- اس کے بعد پھر روہنگیا کے لوگوں پر زمین تنگ کردی گئی جس کے بعد پھر روہنگیا کے لوگوں نے بنگلہ دیش کی طرف ہجرت شروع کردی لیکن بنگلہ دیش نے انکو سرحد پر روک لیا- اور تاذہ اطلاعات کے مطابق تقریبا 20 ہزار روہنگیا اس وقت بھی بنگلہ دیش کی سرحد پر خلیج بنگال میں بے یارو مددگار ہیں لیکن ان دونوں ملکوں کو کوئی شرم نہیں آرہی- شرم تو ان درندوں "اسلامی نام نہاد جہادیوں" کو بھی نہیں آرہی کہ ان لوگوں کے کرتوتوں کی سزا ان بیچارے معصوم روہنگیا کے لوگوں کو مل رہی ہے-اب آتے ہیں پاکستان میں بیٹھے فیس بکی مجاہدوں کی طرف جو ان اسلامی نام نہاد جہادیوں کو ہلا شیری دیتے ہیں اور وہ برما میں جا کر اس طرح کاروایئاں کرکے روہنگیا کی مشکلات میں اضافہ کررہے ہیں- جب بھی اقوام متحدہ میں یہ واقعہ اٹھایا جاتا ہے تو اقوام متحدہ کا منہ ان "اسلامی جہادیوں کیکارستانیوں" کی وجہ سے بند ہوجاتا ہے- کیونکہ برما کا موقف یہ ہوتا ہے کہ وہ دہشت گردی سے تحفظ کے لیئے اپنے ملک کی حفاظت کررہے ہیں-اس سارے مسئلے سے فائدہ کون اٹھا رہا ہے؟ تو انڈیا وہ ملک ہے جو اس وقت اس سارے معاملے سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہا ہے- وہ تصویریں اور ویڈیوز پاکستان میں وائرل کررہا ہے تاکہ انکو دیکھ کر پاکستان کی عوام میں اشتعال پھیلے-اور اس اشتعال کی وجہ سے چین کے خلاف پاکستانیوں کی نفرت میں اضافہ ہو-کیونکہ برما چین کی کالونی ہے-
یہ مسئلہ ایک سیاسی نوعیت کا مسئلہ ہے جس کو یہ مذہبی جنونی اسلام اور کفر کی جنگ بنانے کی پوری کوشش کرہے ہیں- اس مسئلے کو بڑھکوں اور نام نہاد مولویوں کے جہاد کی بجائے سیاسی طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے- برما پر پریشر ڈالنے کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا- ایک وفد بنایا جائے جو چین سے بات کرے اور چین کو راضی کرے کہ برما سے اس معاملے پر ایکشن لینے پر زور دے-اور عالمی برادری کو بنگلہ دیش پر زور دینا چاہیئے اسکو پریشر میں لائے کہ وہ روہنگیا کے لوگوں کو بنگلہ دیش میں پناہ کی اجازت دیں-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *