یوم دفاع پرجنرل باجوہ کے نام کھلا خط

QamarBajwa1

محترم المقام جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب
سالار اعلیٰ
عساکر پاکستان و متعلقہ دفاعی ادارہ جات ،

اسلام علیکم ،

محترم سالار اعلیٰ :

آج یوم دفاع وطن ہے اور آج کے دن سے بہتر کوئی اور موقع نہیں ہوسکتا کہ آپ سے اس ملک کی سالمیت اور دفاع کے حقیقی تقاضوں کے حوالے سے بات کی جائے کیونکہ اس ملک کی مسلح افواج کے فرائض میں جہاں سرحدوں‌کی حفاظت ایک بنیادی فرض ہے وہیں لاریب اس ملک کے وجود کو ایک ضابطے کے مطابق چلاکے اسکی بقاء و استحکام کو یقینی بنانے میں بھی وہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کے ساتھ برابر کی ذمہ دار ہے اور اسی نسبت سے ملکی اتفاق رائے کی آئینہ دار قومی دستاویز یعنی آئین کا تحفظ اور اس کے تقاضوں پہ عملدرآمد کو یقینی بنانے کا معاملہ بھی اسکے فرائض کا حصہ ہے اور 1973 کے آئین کے ان دیرینہ تقاضوں میں سے ایک یہ ہے کہ ہرسطح پہ اردو زبان رائج اور نافذ کی جائے اور گزشتہ 44 برسوں میں آنے والی ہر حکومت اس آئینی تقاضے کو مسلسل پامال کرتی چلی آرہی ہے اور اس ضمن میں کافی حد تک پاک فوج کی بھی ذمہ داری بنتی تھی اور بنتی ہے کہ وہ اس اہم آئینی پہلو کو نظر انداز نہ ہونے دے جبکہ اس 44 برس کے عرصے میں تقریباً آدھی مدت اور دو بار فوج پورے اختیارات کے ساتھ براہ راست اقتدار میں بھی رہی ہے

محترم سالار اعلی، اردو کو بطورسرکاری و دفتری و تعلیمی زبان کے نافز کرنے کے معاملے کی اہمیت کوجاننے کے لیئے یہ سمجھنا بیحد ضروری ہے کہ قوموں کی تعمیر و تشکیل ایک مشترکہ نصب العین کیلیئے ہوا کرتی ہے کہ جسے حاصل کرنے کیلیئے اتحاد اور یگانگت کی راہوں کو تلاش کرنا ازبس ضروری ہوتا ہے - وطن عزیز میں کہ جہاں ہر صوبے میں کئی کئی زبانیں اور بولیاں بولی جاتی ہیں ، صرف اردو ہی کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ سارے ملک میں بولی اور سمجھی جاتی ہے اور اسی لیئے اسی میں تعلیم دیکر اور دفتری امور کی انجام دہی کرکے ہم اپنی قوم میں نہ صرف طبقاتی نظام کے فرق کو ممکنہ حد تک کم کرسکتے ہیں بلکہ اپنی قوم کی ان آدھی توانائیوں کو بھی بچاکر قومی تعمیر کے بڑے اہداف پانے کیلیئے استعمال میں لا سکتے ہیں کہ جو محض زبان غیر میں شرح آرزو کی مد میں ضائع ہورہی ہیں - اور یہی نہیں اردو کے عملی و مکمل نفاذ سے ہم قومی وقار اور خودمختاری کے اس حقیقی مقام کو بھی پاسکیں گے کہ جو قوموں کی عالمی برادری میں سر اٹھا کر چلنے کے لیئے ناگزیر ہے- درحقیقت ایک قومی وحدت کی تشکیل کے لیئے اردو کی اہمیت کو قائد اعظم نے بخوبی سمجھ لیا تھا اور 21 مارچ 1948 کو کھل کر واضح و دو ٹوک اعلان کردیا تھا کہ پاکستان کی قومی و سرکاری زبان اردو ہوگی- گو خواب غفلت میں پڑی ہماری کئی حکومتیں اس اہم قومی ضرورت کو مختلف پست مقاصد کی خاطر ٹالتی رہیں لیکن بالآخر اسے قوموں کے منتخب نمائندوں نے 1973 کے ائین کا حصہ بناکر اس کی اہمیت کو تسلیم کر ہی لیا

1973 کے آئین میں اردو کو اسکا جائز مقام دے دیئے جانے کے باوجود 'دیسی کالے انگریزوں ' اور اشرافیہ کے مفادات کی حفاظت کیلیئے حکومتی سطح پہ اسکے نفاذ سے اجتناب کی راہ ہی اپنائی گئی تا آنکہ سپریم کورٹ نے اس ضمن میں 8 ستمبر 2015 کو اپنے تاریخی فیصلے میں غیرمشروط طورپہ اردو کو 3 ماہ میں ملک میں سرکاری طور پہ ہرسطح پہ نافذ کرنے کا بالکل دو ٹوک اور واضح فیصلہ سنادیا لیکن ان 3 ماہ میں کچھ بھی نہ ہوا اور اب تو 2 روز بعد 8 ستمبر کو اس حکمناممے کے اجراء کو بھی دو سال مکمل ہوجائینگے ور تا حال مرکزی حکومت یا اسکے اداروں نے اور نہ ہی صوبائی حکومتوں اور اسکے اداروں نے (بجز بلوچستان حکومت نے جزوی طور پہ ) اسکے نفاز کیلیئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جس پہ کئی محب وطن افراد نے حکومت پہ توہین عدالت کے مقدمات دائر کیئے جو ابھی زیرسماعت ہیں تاہم اس دوران وفاقی وزارت قانون کی جانب سے ایک واضح حکمنامہ سارے ملک کی تمام وزارتوں ، محکموں اور اداروں کے لیئے جاری کردیا گیا ہے کہ جس میں انہیں اپنے دائرہء عمل میں تمام امور کی انجام دہی اردو میں کرنے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے- یوں گویا پہلے سپریم کورٹ کے دوٹوک فیصلے اور اب وزارت قانون کے واضح حکمنامے کے بعد اس ملک کے ہر محکمے و ادارے پہ لازم ہے کہ وہ فی الفور اپنے امور کو انگریزی سے اردو میں لے آئے ورنہ یہ تمام محکمےو ادارے آئین کے اس اہم تقاضے سے روگردانی کے مرتکب ہوں گے اور بلاشبہ یہ توہین عدالت کے عین مترادف ہوگا

یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کی جانب سے اس آئینی تکمیل کے تقاضے کو پورا کرنے کی بابت ایک واضح اور دو ٹوک فیصلہ آنے اور اردو کے نفاذ کا حکمنامہ جاری کردینے کے باوجود وفاقی و صوبائی سطح پہ قائم حکومتوں یا انکے محکموں اور اداروں نے عملاً اس فیصلے کو اٹھا کے پھیننک دیا ہے اور اس پہ عملدرآمد سے یکسر گریز کیا ہے جو کہ آئین کی صریح تکذیب کے متراف ہے ،،، مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی تک خود سلح افواج میں بھی اس فیصلے پہ عملدرآمد کی مد میں کوئی پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی جبکہ ایک آئینی ادارہ ہونے کے ناطے فوج بھی اپنے اندر اس پہ عملدرآمد اور تعمیل کی پابند ہے- اور ویسے بھی فوج میں اردو کا نفاز اسکی اپنی بہتری کی مد میں بھی بہت فائدہ مند ثابت ہوگا کیونکہ پاک فوج میں نان کمیشنڈ طبقہ انگریزی سے زیادہ آشناء نہیں اور یہ طبقہ ہی پاک فوج کی 80 فیصد کے لگ بھگ عددی اکثریت پہ مشتمل ہے چنانچہ وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ اردو کا مکمل نفاذ ، پاک فوج کے دفتری و دیگر امور میں بہتر تفہیم اور موثر بہتری لانے میں بیحد مددگار ہوگا- آپ چونکہ ملک کے سب سے بڑے و منظم ترین ادارے کے سربراہ ہیں اور قومی امنگوں کی آبیاری کے جذبے سے سرشار بھی ، لہٰذا آپ سے اس کھلے خط کے ذریعے مودبانہ طور پہ دست بستہ گزارش کی جاتی ہے کہ خدارا اس اہم قومی تقاضے کی بجاآوری میں اپنا وہ کردار ادا کریں کہ جسکا تقاضا آپ سے یہ ملکی آئین کرتا ہے اور جسکی بابت سپریم کورٹ کا واضح فیصلہ سامنے آچکا ہے اور وزارت قانون نے محض دکھاوے کی حد تک اپنے نوٹیفیکیشن میں جسکی تعمیل کی ہدایت بھی جاری کردی ہے -

مجھے امید واثق ہے اورپورا یقین ہے کہ چونکہ آپ ارفع قومی مقاصد کو ہر معاملے میں پیش نظر رکھنے اور ترجیح دینے کے عزم کا اظہار کرتے رہتے ہیں لہٰذا آپ پاک فوج کے تمام ذیلی محکموں و اداروں میں آئین کے اس اہم تقاضے کی تکمیل کے لیئے واضح ہدایات جاری کردینگے اور اس امر کو یقینی بنائینگے کہ عملی طور پہ اس کی بجاآوری ہرسطح پہ ہو - آپکےاس اقدام سے ملک میں اردو کے سرکاری سطح پہ نفاذ کے کام میں خود بخود تیزی آجائے گی اور قومی زبان کو اس کا جائز و حقیقی مقام دلانے بہت ٹھوس مدد ملے گی- اگر آپ یہ کام کرسکے ( جو کہ آپکو کرنا چاہیئے کہ یہ آپ پہ فرض بھی ہے ) تو بلاشبہ آپکا نام ملکی تاریخ کے صفحات میں عظیم محسنین قوم میں درج کیا جائےگا اور تا ابد جگمگائے گا

والسلام

syed arif mustafa

سید عارف مصطفیٰ
صدر۔
نفاز قومی زبان تحریک پاکستان

arifm30@gmail.com

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *