غیرت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے 

سدرہ سحر عمران
sidra sahar imran
میرا اصل تعلق ضلع سرگو دھا سے ہے ۔اسی نسبت سے پنجاب کی مٹی سے بہت گہرے مراسم ہیں ۔ اس مٹی کی غیرت مند خوشبو مجھے بہت پسند ہے ۔ بانکی سجیلی، شرمیلی اور پیار کی لکن میٹی کھیلتی ۔لیکن اہل پنجاب کی زبان میں میں ’’شہری ‘‘ہوں کیوں کہ میرا کل اور آ ج کراچی میں گزر ا ۔شہر اور گا ؤں میں جو لکیر قائم تھی اب بھی ہے ۔ بہت فرق ہے ۔ محبتوں کے انداز اور طریقے بھی مختلف ہیں ۔ خاص کر پنجاب میں پیار و محبت کے چکر بڑے فلمی ، معصومانہ اور کبھی کبھا ر وحشیانہ ہوتے ہیں ۔بلکہ عشق و عاشقی کے لحاظ سے اب تو پنجاب بھی ترقی یا فتہ ہو گیا ہے ۔ بڑی جدید قسم کی محبتیں پروان چڑھنے لگی ہیں لیکن مجھے محبت پر نہیں غیرت پر با ت کر نی ہے ۔ جی ہا ں ۔۔۔۔مردانہ غیرت پر ۔۔۔غیرت مردو ں میں ہی ہوتی ہے ۔ عورت تو اس غیرت کی بنیا د ہے ۔ عورت کے نام پر قتل ہوتے ہیں کیونکہ وہ مرد کی غیرت ہے ۔
غیرت کا سلسلہ بہت دراز ہے لیکن میں پہلے ان شا دیوں کا ذکر کروں گی جن میں اکثر مردوں کی غیرت مری ہوئی ہوتی ہے۔اب تو پنجاب سے بڑا واجبی اور رسمی سا تعلق رہ گیا ہے لیکن بچپن میں چھٹیا ں گا ؤں میں گزرتی تھیں پھر تعلیمی سلسلے آگے پیچھے ہوئے تو چھٹیو ں کے ساتھ گا ؤں یاترا بھی ختم ہو گئی ۔بس کبھی کبھار کسی شادی بیا ہ کی تقریب میں شرکت کیلئے پنجاب جاناہوا ۔اور اس آ نے جانے میں ہمیشہ کوفت اور بے زاری ہی ہوئی ۔ مجھے شادیو ں کے لحا ظ سے گا ؤں دیہات بالکل پسند نہیں ہیں ۔گوکہ بڑی روایتی قسم کی شادیاں ہوتی ہیں ۔لیکن ہمارا اپناخاندان رسم و رواج کے لحاظ سے بہت غریب ہے ۔ بالکل سادہ ،بغیر مایوں مہندی ، بینڈ باجے کے اجڑی پجڑی شادیاں ۔ نہ ڈھولک ، نہ شرلی پٹاخے، نہ لمبی چوڑی رسمیں ۔لیکن برادری میں اتنی غربت نہیں ہے ۔اسی آنے جانے میں کچھ ایسی بھی شادیاں دیکھیں جس نے ذہن پر بہت سارے سوال چھوڑ دئیے ۔ہاں میں غیرت کی با ت کر رہی تھی ۔
پنجاب کی شادیو ں کا ایک لازمی جزو نصیبو لعل کے ہو شربا اور کانو ں سے دھواں نکالتے ہوئے گانے ہیں ۔بڑی اونچی آواز میں ڈیک ریکارڈ پر چل رہے ہوتے ہیں ۔ گھر میں سب کے بہو بیٹیا ں ہوتی ہیں لیکن بھئی شادی بیاہ کا موقع ہے نا ۔۔۔اس لئے سب معاف ہے۔یہی ساری بکواس کسی منٹو نے لکھی ہو تی تواس بے غیرت کو کبھی کا سولی چڑھا دیا ہو تا ۔یا غیرت کے نام پر تو ضرور ہی ٹھکا نے لگ گیا ہوتا ۔ کیا کریں ۔۔۔بہت ہی غیرت مند لوگ ہیں پنجاب کے ۔ غیرت کی حفاظت کیلئے ہر گھر میں کلہاڑیا ں مو جود ہیں ۔مگر اللہ جانے یہ غیرت نصیبولعل کے فحش گیت سنتے ، نرگس کا اسٹیج ڈرامہ دیکھتے ، شادی بیاہ میں کھسروں کا نا چ اور ٹھمکے دیکھتے کہا ں چلی جاتی ہے ۔ چلو ان کی مرضی وہ جیسا گا ئیں ، جیسا نا چیں ، دیکھنے والوں کی بھی مرضی ، سننے والو ں کی بھی لیکن میرا مسئلہ یہ ہے کہ مجھے اس غیرت کا مطلب سمجھ نہیں آ تا ۔
میں نے بڑے بڑے عزت دار اور غیرت مند لوگ دیکھے ۔ شریف النفس، اونچے شملے والے ، وضع دار ، سائیں ، چوہدری ، جاگیر دار ، وڈیرے ، خان اور نہا یت معمولی حسب نسب والے کمی کمین ،چوڑے ، میراثی ، بھانڈ ، چنگڑ حتی کہ کنجر بھی ۔لیکن عزت کا معیا ر اور پیما نہ سمجھ نہیں آیا ۔میں نے غیرت کے نام پر قتل ہونے والی لڑکیو ں کا لا حاصل پن بھی دیکھا اور کم عمر محبت کے گنا ہ گا روں کو بے عزت و رسوا ہوتے بھی ۔
مگر پھر بھی اس کی مکمل تشریح میرے پلے نہیں پڑی ۔
کیا سب مردوں کی غیرت کا معیا ر مختلف ہوتا ہے ؟
کیا سب کی عزتوں کی کسوٹی مختلف ہو تی ہے ؟
Image result for khusra dance
پنجاب کی اکثریت شراب و شبا ب کی قائل ہے ۔میرے حساب سے تو وہاں پردے کا بھی خصوصی رواج نہیں ہو تا ۔ سب سانجھے ہو تے ہیں ۔ آنا جانا لگا رہتا ہے ۔گاؤں کے سارے لڑکے(اپنے اپنے سیمپل کو چھوڑ کر) ویر ، بھرا اور مامے ، چاچے ہوتے ہیں ۔پورے پورے گا ؤں کی زبردستی کی رشتے داریاں ہوتی ہیں ۔صرف کمی کمینوں کو علیحدہ رکھا جا تا ہے ۔ یا کچھ گھرانے جو بہت دیندار اور شرع کے پابند ہو ں ۔
یہ تعلق داری بہت خوب صورت لگتی ہے۔مگر یہ کم بخت غیرت۔۔۔۔یہ پھر سے آکر کھڑی ہو جاتی ہے ۔
میں شادی بیاہ کی بات کر رہی تھی ۔شادی سے ایک یا دو دن پہلے پنڈال سجتا ہے ۔کہنے کو ما یو ں مہندی ، لیکن میرے نزدیک تو کوٹھا سجتا ہے۔جی ہا ں ۔۔۔یہ شریف زادے جو اپنی عورتوں کو گھروں میں دبکا کر بٹھاتے ہیں اور کنجریوں کا برہنہ رقص دیکھ کر ہونکے (آہیں ) بھرتے ہیں ۔یہ بہت ہی غیرت مند ہوتے ہیں ۔ان کے اونچے شملے اس رات ناچنے والیوں کے قدمو ں میں پڑے ہوتے ہیں جب وہ ان کے سامنے نصیبولعل کے گیتوں پرناچ کم جسم زیادہ دکھا رہی ہوتی ہیں ۔اور ویسے بھی نصیبو لعل نے اپنے گیتوں سے مردانہ کمزوری بڑھانے میں جتنا کردار ادا کیا وہ اسے زندہ رکھنے کیلئے کا فی ہے۔واہیات اور بے ہودہ گوئی کو ساز و آواز دے کر اس نے پنجاب کے غیرت مندو ں کی غیرت کا تو خوب ہی جنازہ نکالا لیکن اس کے با وجود مردانہ غیرت پر کوئی سوال نہیں اٹھتا ۔کوئی اٹھا ہی نہیں سکتا ۔۔۔کیونکہ اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔
شامیا نے لگتے ہیں اور گا ؤں بھر کے گھبرو جوان، سوکھے سڑے ، مریل بابے، چاچے ،مامے ، تائے ، رنگ برنگے لباس پہنے کرسیاں اور چارپائیا ں سنبھال کر بیٹھ جاتے ہیں ۔اور تو اور چھوٹے چھوٹے بچے بھی کسی سے پیچھے نہیں رہتے۔ صرف لڑکیو ں اور بچیو ں کو ان جزوقتی کوٹھو ں پر جانے کی اجازت نہیں ملتی ۔ باقی جو بھی آ ئے ۔ راستہ کھلا ہے ۔ جی ہا ں ۔۔۔یہ ہے مردانہ غیرت ۔۔۔جس میں بڑے چھوٹے کی تمیز ختم ہو جاتی ہے ۔ چار پا نچ لڑکیو ں یا لڑکی نما ہیجڑو ں کے جذبات بھڑکا تے رقص کے آگے سب ختم ہو جا تا ہے۔ساری رات یہ محفل عروج پر رہتی ہے۔ شرابوں کا دور چلتا ہے ۔ ہر عمر کے جوان ، بابے اور سوٹڈ بوٹڈ حال سے بے حال ہو تے ہیں ۔ان غیرت مندوں نے تو بچوں کو بھی لائن سے بٹھایا ہو تا ہے ۔ یہ سوچے سمجھے بغیر کہ اس طرح کی محفلیں ان کے ذہنو ں پر کیا اثرات مرتب کریں گی ۔ وہ بڑے ہو کر دیکھا دیکھی غیرت مند تو بن جا ئیں گے لیکن ان کی اصلی غیرت کہا ں ہوگی ؟ اس پر نہ ما ئیں سو چتی ہیں نہ ان کے باپ ، اور پھرمحبت کی اوقات کیا ہے ؟ یہ ان سے جانئے جنہوں نے اپنے گھر کی دیواریں اونچی کرلیں ۔ اپنی ما ں ، بہن ، بیوی اور بیٹیو ں کو دہلیز تک آ نے کی اجازت نہ دی ۔ کسی غیر محرم کی نگاہ غلط ان پر نہ پڑ جائے ۔وہ گھر کی چار دیواری تک محدود رہیں ۔ پڑھنے لکھنے والے پر بھی بابندی ، باہر نکلنے ، ملنے جلنے پر بھی ۔پابندی نہ بھی ہو لیکن غیرت کا لفظ ان کی گھٹی میں پڑا ہوا ہے ۔ مجرا اور ناچ گانا کوئی نیا شوق نہیں ہے۔ شہروں میں اس سے کہیں زیادہ ’’بے حیائی ‘‘ہے مگر شہر کے لوگ تو غیرت مندی کا اتنا واویلا نہیں کرتے ۔ ان کی عزتیں ذرا ذرا سی با ت پر کلہا ڑیو ں کی نذر نہیں ہوتیں ۔اور گاؤں دیہات میں تو ذہنی پسماندگی ویسے ہی اونچے درجے پر ہوتی ہے مگر اس واہیات کلچر کو کیو ں ختم نہیں کیا جا تا ؟اسے’’ عزت دار ‘‘معاشرے میں کیوں رائج کیا ہوا ہے ؟ اگر کرنا ہی ہے تو پھر غیرت کے نام پر قتل عام کیوں بند نہیں ہوتا ۔کیوں بچپنے سے مرد ذات کو عورتوں کا چسکا لگایا جا تا ہے اور جب وہ عورت بھگا تے ہیں تو ان کی عزتوں کو بٹہ لگ جاتا ہے ۔
غیرت مند مردوں کو کھلی چھو ٹ کیو ں دی جاتی ہے ؟ ساری پردے داریاں ، شرم ، غیرت عورت سے مشروط کیو ں ہے ؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *