بدھ مت کا روحانی پیشوا گوتم بدھ کون تھا؟

budh
انتخاب: احمد رئیس

بدھ مت کے پیروکاروں کے مطابق گوتم بدھ کا اصل نام شہزادہ سدھارتھ تھا، وہ بدھ مت کا بانی ہے جو دنیا کے بڑے مذاہب میں سے ایک ہے۔ سدھارتھ کپل وستو کے راجہ کا بیٹا تھا، جو نیپال کی سرحدوں کے نزدیک شمالی ہندوستان کاایک شہر ہے۔ سدھارتھ (جس کی ذات ’’گوتم‘ اور قبیلہ ’’شاکیہ‘‘ تھا) نیپال کی موجود سرحدوں کے بیچ لمبائی کے مقام پر 563 قبل مسیح میں پیدا ہوا۔ سولہ برس کی عمر میں اس کی شادی اس کی ہم عمر عم زاد سے ہوئی۔ شاہی محل میں پر تعیش ماحول میں اس کی پرورش ہوئی، تاہم وہ خود اس ماحول کا خوگر نہیں ہوا۔ وہ بے کل رہتا تھا۔ اس نے مشاہدہ کیا کہ بیشتر انسان غریب ہیں اوراس محرومی کے سبب مسلسل ابتلائوں میں گھرے رہتے ہیں۔ حتی کہ اہل ثروت بھی اکثرمایوس اورناخوش رہتے ہیں۔ نیز ہرشخص بیماری کا شکار ہوتا اورآخر کار مرجاتا ہے۔ قدرتی طور پر سدھارتھ نے غور کیا کہ کوئی ایسی کیفیت بھی ہے جو ان عارضی مسرتوں سے، جوبالآخر موت اور بیماری سے پامال ہو جاتی ہیں، معریٰ ہو۔ انیتس برس کی عمر میں جب اس کے بچے کی پیدائش ہوئی، گوتم نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی موجودہ زندگی سے کنارہ کشی اختیار کرلے اور خود کوسچ کی تلاش کے لیے وقف کردے۔ وہ محل سے روانہ ہوگیا، اس نے اپنی بیوی، اپنے نومولود بچے اور تمام دنیاوی آسائشات کو ترک کردیا۔ وہ ایک مفلس یوگی بن گیا۔ کچھ عرصہ اس نے اس دور کے مشہور یوگی علماء سے حصول علم کیا، ان کے افکار کی مکمل آگہی حاصل ہوجانے کے بعد اس نے انسان کے غیراطمینان بخش مسائل کے اپنے حل وضع کیے۔ یہ خیال عام ہے کہ انتہا درجہ کاذہن سچ کے راستہ کو ہموار کرتا ہے۔ گوتم نے خود بھی ایک سنیاسی بننے کی کوشش کی، کئی سال وہ مسلسل فاقہ کشی اورخوداذیتی کے مراحل سے گزرا۔ پایان کار اسے ادراک ہواکہ جسم کو اذیت دینے سے ذہن میں ابہام پیدا ہوتا ہے، اسی لیے یہ ریاضت اسے سچ کی قربت نہ دے سکی۔ چنانچہ اس نے پھر سے باقاعدہ خوراک لینی شروع کی اور فاقہ کشی کو ترک کردیا۔ خلوت میں ا س نے انسانی موجودگی کے مسائل پر استغراق کیا۔ آخر ایک شام جب وہ ایک عظیم الجثہ انجیر کے درخت تلے بیٹھا تھا، اسے اس چیستان کے سبھی ٹکڑے باہم یکجا ہوتے محسوس ہوئے۔ سدھارتھ نے تمام رات تفکر میں بتائی، صبح ہوئی تو اسے منکشف ہوا کہ اس نے حل پالیا تھا اور یہ کہ وہ اب ’’بدھ‘‘ بن گیا تھا جس کے معنی ایک ’’اہل بصیرت‘‘ کے ہیں۔ تب اس کی عمر پینتیس برس تھی۔زندگی کے پینتالیس برس اس نے شمالی ہندوستان میں سفر کرنے میں گزارے۔ وہ ان لوگوں کے سامنے اپنے خیالات کا پرچار کرتا جواسے سننے آتے تھے۔ 483 قبل مسیح میں اپنی وفات کے سال تک وہ اپنے ہزاروں پیروکار بنا چکا تھا۔ ہر چند کہ اس کے افکار تب لکھے نہیں گئے تھے۔ اس کے چیلوں نے اس کا حرف حرف یاد رکھا۔ یہ حروف نسل درنسل زبانی طورپر ہی سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے رہے۔ بدھ کی بنیادی تعلیمات کوبدھوں کے الفاظ میں ’’چار اعلیٰ سچائیاں‘‘ کے عنوان سے سمیٹا جاسکتا ہے۔ اول انسانی زندگی اپنی جبلی حیثیت میں دکھوں کا مسکن ہے۔ دوئم اس ناخوشی کا سبب انسانی خود غرضی اور خواہش ہے۔ سوم اس انفرادی خود غرضی اور خواہش کو ختم کیاجاسکتا ہے اور ایسی کیفیت پیدا کی جاسکتی ہے جس میں خواہشات اورآرزوئیں فنا ہوجاتی ہیں۔ اسے اصطلاحاً ’’نروان‘‘ کہا جاتا ہے۔ (اس کے لغوی معنی ’’پھٹ پڑنے‘‘ یا ’’تنسیخ‘‘ کرنے کے ہیں) چہارم اس خود غرضی اورخواہش سے فرار کا ذریعہ ’’آٹھ راست راہیں‘‘ ہیں۔ یعنی راست نقطہ نظر، راست سوچ، راست گوئی، راست بازی، راست طرز بودوباش، راست سعی اور راست ذہن اورراست تفکر اور یہ بات بھی ہے کہ بدھ مت ہر کسی کے لیے اپنی آغوش واکیے ہوئے ہے، نہ نسل کا مسئلہ ہے اور نہ ہندوئوں کے برعکس یہاں ذات برادری ہی کچھ اہمیت رکھتی ہے۔ گوتم کی وفات کے بعد ایک عرصہ تک یہ نیامذہب ذراسست رفتاری سے پھیلا۔ تیسری صدی قبل مسیح میں عظیم ہندوستانی شہنشاہ اشوک نے بدھ مت اختیار کرلیا۔ اس کی پشت پناہی سے ہندوستان بھر میں بدھ مت کے اثرات تیزی سے پھیلے۔

بدھ مت ہندوستان سے باہر بھی مقبول ہوا۔ یہ جنوب میں سیلون تک پھیلا اورمشرق میں برماتک۔ وہاں سے بڑھ کر جنوبی ایشیا میں اس نے اپنے قدم جمائے اور ملایا تک پھیلا اور پھر آگے علاقے میں سرایت کر گیا جسے اب انڈونیشیا کہا جاتا ہے۔ بدھ مت کے اثرات شمالی علاقوں میں بھی مرتسم ہوئے، یہ تبت پہنچا اور آگے شمال کی طرف افغانستان اوروسطی ایشیا تک اس کے پیروکار پھیل گئے۔ اس نے چین میں بھی جگہ بنائی جہاں اسے بڑی پذیرائی ملی۔ یہاں سے آگے جاپان اورکوریا میں اس نے اپنے پیروکار پیدا کیے۔ لیکن ہندوستان میں ہی یہ مذہب 500ء کے بعد تنزل کاشکار ہونے لگا اور 1200ء تک یہ سمٹ کربہت مختصر طبقے تک باقی رہ گیا۔ دوسری جانب چین اور جاپان میں بدھ مت ایک بڑے مذہب کی حیثیت موجود رہا۔ تبت اور جنوبی ایشیا میں کئی صدیوں تک اس کی اہمیت میں چنداں تخفیف نہ ہوئی۔ بدھ کی موت کے کئی صدیوں بعد تک اس کی تعلیمات کوضابطہ تحریر میں نہیں لایا گیا۔ قدرتی طورپر یہ مختلف مسالک میں منقسم ہونے لگا۔ اس کی دوشاخیں اہم ہیں۔ ’’تھروید‘‘ جو جنوبی ایشیاء میں مقبول ہے اور جسے مغربی حکماء بدھ کی حقیقی تعلیمات کے قریب ترین مانتے ہیں۔دوسری وسطی ایشیاء سے کشن قوم ابھری اور افغانستان میں موجودہ شہر بگرام کو دارالحکومت بنا کر شمالی ہندوستان تک کا علاقہ اپنے قلمرو میں شامل کر لیا۔ چینی شباہت کے یہ لوگ بدھ مت تھے اور انہوں نے دریائے کابل کی وادی میں اپنے اثرات چھوڑے اور ایک نیا دارالحکومت پرش پور جسے ہم اب پشاور کہتے ہیں آباد کیا۔ ان کی تہذیب گندھارا کہلائی اور ٹیکسلا بام عروج پہ پہنچا۔ یہ زمانہ تقریبا تیسری صدی کا ہے۔ اس کے بعد وسطی ایشیاء سے سفید ہن آئے اور اپنی راہ میں آنے والی ہر آبادی کو تاراج کیا۔ ٹیکسلا ایسا کھنڈر بنا کہ پھر آباد نہ ہوا۔ یہ لوگ بھی مقامی آبادی میں ضم ہوئے اور کہا جاتا ہے کھشتریوں سے ہی ان کا اختلاط ہوا۔ اس کے بعد ساتویں صدی تک قبل ذکر حکمران ہرشوردھن ہی گزرا اور مسلمانوں کی آمد تک یہ رجواڑوں میں منقسم رہا۔ پہلا متنازعہ مسلم حملہ آور گیارہویں صدی کا غزنی حکمران سلطان محمود تھا۔ قوم پرست لوگ اسے لٹیرا تک کہتے ہیں مگر اس نے پنجاب کے راجہ جے پال سے عداوت وراثت میں پائی اور پنجاب کو سلطنت میں شامل کیا۔ اس کی توجہ کا مرکز وسطی ایشیاء میں ماوراءالنہر کا علاقہ تھا۔ اپنی مہمات کے لیے سٹریٹجک ڈیپتھ اور وسائل اس نے مغرب میں ہندوستان سے حاصل کیے۔ اگر وہ متعصب ہوتا تو غزنی میں ہندو محلہ اور ہندو کاریگر نہ ہوتے۔ اس کے دو کمانڈر سونائی اور ہزاری رائے جو مغرب کی فوجی مہمات میں اس کے ہمرکاب رہے، ہندو تھے۔ اس سے قبل مسلمانوں کے اثرات عربوں کی فتح سندھ تک محدود تھے کیونکہ دیبل یمن سے ملاکا تک کے اپنے تجارتی راستے کو محفوظ بنانا چاہتے تھے۔ اگر یہ سیاسی کے بجائے مذہبی جنگ ہوتی تو جنوبی ہند میں مالابار میں عربوں کی بستیاں قائم نہ رہتیں۔ غوری عہد میں شمالی ہندوستان پہ ترک مسلما نوں کا قبضہ ہوا۔ راجپوت راجستھان میں سکڑنے لگے مگر سلاطین دہلی کا ان سے ایک سمجھوتہ بھی رہا اور تبدیلئ مذہب کو فروغ نہ دیا گیا بلکہ بلبن کے دور میں مسلمان ہو جانے والے نچلی ذات کے ہندوؤں کا دربار میں داخلہ بھی ممنوع قرار پایا۔ علاؤالدین خلجی جسے قوم پرست اور متعصب ہندو لٹیرا کہتے ہیں، نے مقامی نومسلموں کی بغاوت کو کچلا اور ہندوستان پہ منگولوں کے سات حملے پسپا کیے۔ تغلق، سادات اور لودھی حکمران بھی اسی طرز کے حکمران تھے۔ 1526 عیسوی کے بعد بابر، جو چغتائی ترک تھا، جس کی تزک بابری بھی ترک زبان میں تحریر ہے، ہندوستان میں عظیم مغلیہ سلطنت کا بانی بنا۔ اس کے بیٹے ہمایوں نے ایک ذہین افغان، جس کی پیدائش پنجاب میں ہوئی، کے ہاتھوں تخت کھویا۔ اشوک کے بعد ہندوستان کو اگر اچھا حکمران ملا تو وہ شیرشاہ تھا جس نے ہندوستان کو اتنے اچھے طریقے سے چلایا کہ دھرتی کا بیٹا کہلانے کا حقدار ہے۔ اس نے پانچ سالہ دور میں ہندوستان کو لوکل سیلف رول کا تصور دیا، پورے شمالی ہند کو سینتالس سرکاروں (ضلعوں) اور ایک لاھ تیرہ ہزار پرگنہ (تحصیلوں) میں تقسیم کرکے مربوط انتظامی ڈھانچہ دیا۔ سنار گاؤں ڈھاکہ سے ملتان تک سڑک تعمیر کی، جسے آج پاکستان میں جی۔ٹی روڈ کہا جاتا ہے مگر ہندوستان میں یہ آج بھی شیر شاہی روڈ ہے، تعمیر کی۔ جاگیروں کا خاتمہ کیا اور زراعت میں اصلاحات کیں۔ کسانوں کو ریاست کی جانب سے مالکانہ حقوق کی سندوں کا اجراء کیا جسے پٹہ کہا جاتا ہے۔ مگر اکبر کی محبت میں متحدہ قومیت کے فلسفے کے حمائیتیوں نے اس Son of Soil کو فراموش کیا۔ اکبر کی کامیابی کا راز شیرشاہ کا انتظامی پس منظر تھا۔ اکبر نے شیرشاہ کے برخلاف دوبارہ جاگیروں کا اجراء کیا۔ منصبداری کے نظام کی اس بحالی نے بعد میں مضبوط مغلیہ سلطنت کی جان لے لی اور پھر طوائف الملوکی پھیلی۔ اکبر کی ذہانت تھی کہ وہ باپ کی طرح ہندوستان کھونا نہیں چاہتا تھا۔

Image result for budha

افغان مسلمانوں کی ملٹری کلاس تھے جبکہ ہندوؤں میں راجپوت۔ مغلوں نے اقتدار افغانوں سے چھینا تھا لہذا اکبر نے راجپوتوں کو افغانوں کا متبادل پایا۔ ان سے رشتہ داریاں بھی کیں اور ان کی توقیر بھی مرزا راجا کے خطابات سے کی۔ اس کی لبرل پالیسی کی بدولت ڈیڑھ صدی تک راجپوتوں نے مغل سلطنت کے لیے اپنا لہو دیا۔ مگر چتوڑ کے مہارانہ اودھے سنگھ اور اس کے بیٹے رانا پرتاب نے کبھی سر نہ جھکایا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اکبر اور پرتاب دونوں لبرل قوم پرستی کے نمائندوں کے ہیرو ہیں۔پھر متنازعہ ترین شخصیت اورنگزیب کی ہے۔ وہ 1682 میں جزیہ نافذ کرتا ہے اور طعنہ و تشنیع کا نشانہ بنا۔ مگر پنڈت نہرو تک اعتراف کرتے ہیں کہ اس کی ذاتی قابلیت نے ہی زوال پزیر مغل سلطنت کو سہارا دیا اور اس کا ذاتی کردار بہترین تھا۔ مگر اس کے طرز عمل کو بھی مذہبی نہیں کہا جا سکتا۔ اس نے بھی راجہ جسونت سنگھ جیسے راجپوتوں کو کمانڈر رکھا۔ اگر ہندو باغیوں کو نہ بخشا گیا تو جنوب کی مسلم ریاستیں بھی اس کے ہاتھوں انجام کو پہنچیں۔ اس سے قبل جنوب کبھی شمال کا حصہ نہیں رہا تھا مگر اورنگزیب نے تاریخ کی سب سے وسیع ہندوستانی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اسی طرح سلطان ٹیپو بھی، 1920 تک جب اس کے ایک ہندو مندر کی امداد کے خطوط منظر عام پہ آئے، ایک متعصب حکمران کے طور پہ لبرلز کے لیے ہدف تنقید تھا۔شاخ ’’مہایانا‘‘ کہلاتی ہے جس کے پیروکار تبت، چین اورشمالی ایشیا میں اکثرت میں ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *