اُس نے صرف بال کٹوائے اور وہ عورت ہی نہ رہی۔۔۔

زینب مہدی

zainab mehdi

اگر میں آپ کو بتاؤں تو کیا آپ یقین کریں گے کہ ایک پاکستانی سُپر ماڈل شیفہ جبّار خٹک کو صرف اسلیے لیڈیز واش روم میں جانے سے روک دیا گیا کہ اُس کے بال چھوٹے کٹے ہوے تھے؟ جی ہاں نا صرف اُس کے بنیادی حقوق کو پامال کیا گیا بلکہ سوشل میڈیا پر بھی اُس کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیاکہ صرف ایک فوٹو شوٹ کے لیے اُس نے اپنے بالوں کی قربانی دے دی۔
ان تمام حقارت آمیز باتوں کو روکنے کے لیے خٹک نے ایک لائیو ویڈیو ریکارڈ کی اور اپنے تمام ہیٹرز سے خود بات کرنے کا فیصلہ کیا۔خٹک نے کھل کے لوگوں کے دوہرے روّیے کی بات کی کہ کہیں تو لوگ یہ بات کرتے ہیں کہ عورتوں کو با اختیار بنانے کی ضرورت ہے اور دوسری طرف موقع ملتے ہی خود اُن کو نیچا دکھاتے ہیں۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ لوگوں کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ اُنہیں کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ کسی کی physical appearenceکہ بارے میں کوئی بات کر یں۔
سوال یہ ہے کہ کچھ انچ بال کٹوانا قربانی کیسے ہو گیا؟ معاشرہ یہ مانتا ہے کہ اُس نے اپنے بال کٹوا کر اپنی نسوانیت کی قربانی دی تا کہ وہ ایک ماچو عورتبن سکیں اور لوگ اُن کو ہم جنس پرست یا پھر خواجہ سراء سمجھیں جبکہ اس حبس کے موسم میں تو کوئی بھی اپنے بال چھوٹے کٹوا سکتا ہے۔
میں خود بھی ایک چھوٹے بالوں والی پاکستانی عورت ہوں اور ایسے ہی خیالات کا سامنا مجھے خود بھی کرنا پڑا جب میں اپنے بال کٹوا کر اپنے گھر پہنچی۔

میرے گھر میں رہنے والی ایک عورت خورشیدہ کا کہنا تھا کہ میرے بال کٹ گئے ہیں تو اب مجھ سے شادی کون کرے گا جس کے جواب میں میرا کہنا تھا کہ sheefa jabbar 2میرے بال یہ فیصلہ کیسے کر سکتے ہیں کہ آگے میری زندگی میں کیا ہونیوالا ہے ؟
یہ سچ ہے کہ کچھ صدیاں پہلے عورت کے بال ہی اُس کی جسمانی زرخیزی کی نشاندہی کرتے تھے اور یہ مانا جاتا تھا کہ جس عورت کے بال لمبے ہیں وہ جسمانی طور پر صحت مند ہے اور ماں بننے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔لیکن یہ سب پرانی باتیں ہیں اور معاشرہ وقت کے ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ لیکن آج کے معاشرے میں بھی بالوں کی اتنی اہمیت حیران کن ہے۔ اب Rapunzel کے بالوں کی مثال ہی لے لیں۔ آج کے دور میں تو کوئی بھی ہئیر سٹائلسٹ یہ سمجھ سکتا ہے کہ Rapunzel نے ایکسٹنشن لگائی ہوئی ہیں۔
لمبے بال لمبا وقت اور لمبی محنت ماگتے ہیں۔ اُن کا خیال کرنا پڑتا ہے اور عورتیں اپنا پیسہ اور ٹائم بالوں کے اوپر اسلیے صرف کرتی ہیں کہ اُن کو بچپن سے ہی بتایا جاتا ہے کہ لمبے بال کتنا اہم مسئلہ ہے۔ اس معاملے میں بھی فیصلے کی ڈوری مرد کے ہاتھ میں ہی ہوتی ہے۔ عورت کتنی خوبصورت ہے اُس کو جانچنے کا پیمانہ یہی ہے کہ وہ مرد کو کتنی خوبصورت لگتی ہے۔جبکہ دوسری طرف مرد کے بالوں کا چھوٹا یا بڑا ہونا اُس کی مردانگی میں کوئی رکاوٹ نہیں بلکہ ہمیں باور کرایا جاتا ہے کہ لمبے والوں مرد تو اور بھی ہینڈسم لگتے ہیں۔ اب مووی کے کردار تھور یا ٹارزن کی مثال ہی لے لیں، دونوں کے بال لمبے ہیں اور دونوں لمبے بالوں کے باوجود مردانگی سے بھرپور ہیں۔
تو پھر آج بھی لوگوں کی ذاتیات کو نشانہ کیوں بنایا جاتا ہے؟ کیوں ہم عورتوں کو جیسے وہ ہیں ویسے قبول نہیں کرپاتے اور ہمہ وقت اُن کو تبدیل کرنے پر ہی لگے رہتے ہیں؟ اور کیوں ہم عورت کی ظاہری خوبصورتی کو اُس کی اندرونی خصوصیات پر فوقیت دیتے ہیں؟ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ کتاب کو عنوان سے مت پہچانو مگر عورت کو ہم اُس کی ظاہری چوائس سے ہی پہچان لیتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *