میری والد کے کینسر اور ڈاکٹرز کے خلاف جنگ کی روداد

ماہ رخ حمیدmahrukh hameed

میں ایک عرصہ سے یہ آرٹیکل لکھنا چاہتی تھی ۔ میرے والد نان ہوجکنز  لمپفورا کے سٹیج 3 کی تشخیص ہوئی تھی۔ یہ اپریل 2010 کا واقعہ ہے۔ یہ بہت اچانک ہوا تھا کیونکہ مریے والد کی عمر صرف  58 سال تھی اور وہ صحت کے  معاملے میں بہت احتیاط برتتے تھے۔ وہ چیک اپ بھی باقاعدگی سے کرواتے اور ہمیں ان کی صحت کی کوئی پریشانی نہیں تھی۔ جب والد بیمار ہوئے تو پہلی بار مجھے 'پروفیشنل ' ڈاکٹر حضرات سے واسطہ پڑا۔ تب میں 24 سال کی تھی اور ایک بیرسٹر تھی ۔ میں اپنے والد کی دیکھ بھال کر سکتی تھی اور ان کا علاج کروانے کی صلاحیت رکھتی تھی۔ میرا دنیا بھر کے مختلف ممالک کے کینسر ڈاکٹروں سے رابطہ ہوا لیکن والد نے کہا کہ وہ پاکستان میں ہی علاج کروائیں گے۔پاکستان کا واحد کینسر ہسپتال شوکت خانم ہسپتال ہے اس لیے ہم وہان چلے گئے۔ ہمیں معلوم ہوا کہ اس مرض  کا مریض کا اس ہسپتال میں علاج  نہیں کیا جاتا  اور یہ فیصلہ بورڈ کا ہے جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اس کی وجوہات بتائی جا سکتی ہیں۔ مجھے شوکت خانم کے ڈاکٹرز نے مشورہ دیا کہ اس ہسپتال میں علاج نہ کرواوں کیونکہ وہاں اچھے اور ماہر ڈاکٹروں کی کمی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ میں اپنے والد کو ملک سے باہر لے جاوں۔ مجھے معلوم ہے کہ شوکت خانم ایک اچھا ہسپتال ہے لیکن یہاں کے ڈاکٹروں سے مجھے ایک حیران کن بات پتہ چلی۔ مجھے ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کے قریبی رشتہ دار بھی اسی بیماری کے مریض ہیں لیکن انہوں نے یہاں کے معاملات پر پورا کنٹرول رکھتے ہوئے بھی اپنے اس مریض کو علاج کے لیے لندن بھیجا۔ انہوں نے مجھے بھی ایسا ہی کرنے کا مشورہ دیا۔ وہ ایک ڈاکٹر جیسا رویہ اپنائے ہوئے تھیں۔ وہ مجھے حیرانی سے بھری نظروں سے دیکھنے لگیں۔ میں نے دیکھا کہ میں اپنی نوکرانی کی چپل پہن کر آئی تھی۔ مجھے آج تک ان کا حقارت آمیز رویہ نہیں بھولا۔ چاہے یہ ڈاکٹر کتنے ہی کوالیفائیڈ ہوں اگر یہ اپنے مریض کو تعصب سے باہر نکل کر نہیں دیکھ سکتے تو ان کا کیا فائدہ۔ میں ملک سے باہر علاج کروا سکتی تھی لیکن ان کا کیا جو اپنے مریضو ں کو ملک سے باہر نہیں لے جا سکتے؟ میں جب بھی اس واقعہ کے بارے میں سوچتی ہوں مجھے اس کی وہ حقارت آمیز نظر یاد آتی ہے  اور مجھے یہ دیکھ کر بہت دکھ پہنچتا ہے۔

بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ کچھ ایسے پروفیشنلز بھی موجود تھے جن کا رویہ اس قدر برا نہیں تھا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ملک میں  زیادہ تر لوگوں کا ایسا ہی رویہ  ہے۔  وہ بھلے ہی کوالیفائیڈ ہوں کیا ان کی پروفیشنلزم میں انسانیت شامل نہیں ہے؟ یہ ایک  چارٹرڈ اکاونٹ  کی طرح ہے جو انسان کے فائنانشل ریکارڈ کو ڈی گریڈ کرتا ہے۔ انسان اس کو تو برداشت کر سکتا ہے لیکن ڈاکٹر کا برا رویہ ناقابل برداشت ہوتا ہے۔   اس کے بعد میرے والد نے ایک دوسری جگہ پر علاج کروانے کی ٹھانی اور ہم نے جنگ جاری رکھی۔ جب مجھے وہ وقت یاد آتا ہے تو  مجھے وہ سخت محنت یاد آتی ہے جو ہم نے کی۔ میں بار بار غور کرتی ہوں کہ اس دوران مجھ سے کیا غلطیاں سر زد ہوئیں ۔ مجھے کیا چیز مختلف طریقے سے کرنی چاہیےتھی۔ میرے والد پر کیمیو تھیراپی کے آٹھ سائیکلز گزرے اور اس دوران انہیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔والد کو ہر کیمیو تھیراپی کے بیچ طاقت اکٹھا کرنے کی ضرورت تھی اور انہیں بہت زیادہ دوائیں استعمال کرنا پڑتیں۔ ان کے لیے زندگی بہت مشکل ہوتی گئی اور میری زندگی کا مقصد انہیں کینسر سے نجات دلانا بن گیا۔  

8 بار ٹیسٹ کروانے کے بعد پی ای ٹی سکین میں پتہ چلا کہ کینسر ابھی تک وہیں موجود ہے اور آنکولوجسٹ نے کہا کہ اس کے علاوہ واحد راستہ سٹیم سیل ٹرانسپلانٹ ہے جو صرف کراچی کے بڑے ہسپتال میں ممکن ہے۔ جب میں اور میرا بھائی اس ہسپتال کے اونکولوجی کے شعبہ کے سربراہ سے ملے تو یہ سن کر بے ہوش ہونے والی تھی کہ میرے والد اس کینسر کے چھٹے سٹیج پر ہیں نہ کہ آٹھویں پر  اور اس دوران کینسر کو ختم ہو جانا چاہیے تھا۔ اگر کا کیا مطلب تھا؟ کیا یہ پی ای ٹی سکین میں واضح نہیں تھا؟ انہوں نے حیران کن جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ بہت سے فیکٹرز کی وجہ سے غلط بھی ہو سکتی ہے  اور یہاں کے ڈاکٹرز اتنے تربیت یافتہ نہیں کہ اس رپورٹ کو ٹھیک طرح سے پڑھ سکیں۔ یہاں صرف سی ٹی کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔

میں یہ یقین کر لینا چاہتی تھی کہ والد کو یہ بیماری نہیں تھی۔ میں اپنے والد کو ایسے ملک لے جانا چاہتی تھی جہاں تربیت یافتہ اور پڑھے لکھے ڈاکٹرز موجود ہوں۔ ہم فوری طور پر سنگا پور روانہ ہو گئے جہاں میرے والد کے بہترین دوست  کا اسی طرح کے کینسر کا علاج ہوا تھا۔

میرے والد کی کینسر کے خلاف جنگ مجھے 2013 تک مختلف جگہوں پر لڑنا پڑی۔ میرے والد کا اچانک انتقال ہو گیا جب ہم سب اور ڈاکٹرز کا بھی خیال تھا کہ انہیں نمونیا ہے لیکن کینسر اس دوران ان کے پورے جسم میں پھیل چکا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں نے ان کی دیکھ بحال میں کیا غلطیاں کیں۔ انہوں نے اپنی زندگی مجھے امانت میں دی تھی۔ اس طرح کی امانت واپس کرنا ناممکن ہوتا ہے۔ میں آج بھی ڈاکٹر کے نام سے پہچانے جانے والے لوگوں کو پروفیشنلزم سے پریشان ہوں۔ اب میں جان گئی ہوں کہ اگر مجھے دوبارہ ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تو میں علاج کے لیے پاکستان میں مریض کو کسی ہسپتال میں نہیں لے جاوں گی۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *