مودی پزل

اوون بینٹ جونزowen

اپنی حکومت کے تین سال مکمل کرنے کے بعد مودی شہرت کی بلندیوں کی طرف گامزن ہیں۔ چونکہ اگلا الیکشن 2019 میں ہے جو بہت قریب ہے اس لیے امید کی جا رہی ہے کہ مودی اس الیکشن میں زیادہ برتری کے ساتھ جیت جائیں گے۔ مودی کی دشمنوں کو دوست بنا لینے کی صلاحیت کی وجہ سے بھارت کی 29 میں سے 18 ریاستوں پر بی جے پی کی حکومت ہے۔

تازہ ترین مثال میں نتیش کمار  جو کے جنتا دل کے لیڈر تھے اب بی جے پی کا حصہ بن چکے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی میں شمولیت کے موقع پر کہا کہ کوئی اس وقت مودی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ 2013 میں نتیش کمار بی جے پی سے  مودی کے ایجنڈا کی مخالفت میں الگ ہو گئے تھے۔ اپوزیشن جماعت کانگریس بھی اس وقت بیک فٹ پر ہے۔ اس پارٹی پر نہ صرف کرپشن کے الزامات ہیں بلکہ ہندو نیشنلزم کے سامنے اس کی سیکولرزم بھی شکست کھا رہی ہے۔ دہلی میں پارلیمنٹ کے ایوان بالا میں بھی مودی کا چرچا ہے۔ مودی کے حمایتیوں کا خیال ہے کہ اگر مودی دوبارہ وزیر اعظم بن گئے  انہیں ایوان بالا میں بھی اکثریت حاصل ہو جائے گی۔

پچھلے کافی عرصہ سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ بی جے پی مقامی معاملات کو زیادہ اہمیت کے حامل قرار دے کر طاقت میں آنے کی کوشش کرے گی۔بھارت کے ساتھ حب الوطنی کے معاملے کو اس قدر اہمیت حاصل ہو گئی ہے کہ ائیر ہوسٹس بھی اپنا آخری اعلان 'جے ہند' کے نعرہ کے ساتھ ختم کرنے پر مجبور ہے۔  بل بورڈ ز پر ایسے اشتہار دکھائی دیتے ہیں جو اپنے پراڈکٹس کو ترقی کرتے ہوئے انڈیا سے منسلک کرتے ہیں  اور اپنے بھارتی ہونے پر فخر کا اظہار کرتے ہیں۔ لیکن نیشنلزم اور خاص طور پر ہندو نیشنلزم  مودی کی سیاست کا سب سے اہم  نقطہ ہے۔

پچھلے جنرل الیکشن میں مودی نے انتخابی مہم میں اپنی گجرات حکومت کے دوران معاشی بہتری پر توجہ مرکوز رکھی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی کارکردگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جب کہ کچھ دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ ان کا پیغام واضح تھا کہ وہ ان کا مقصد معاشی حالت بہتر کرنا، عوام کے لیے نوکریاں پیدا کرنا اور غیر ملکی انویسٹ منٹ کو بھارت میں لانا تھا۔ جہاں تک ان کے سیاسی غلبے کا سوال ہے تو ان کے پاس ایسا کوئی بہانہ نہیں ہے جسے وہ اپنے وعدے پورے کرنے میں رکاوٹ قرار دے سکیں۔ لیکن معیشت میں بہتری کے دعوے پر شدو مد سے بحث جاری ہے۔ 2016-17 کے دوران بھارت کی معیشت 8 پر سیپٹا سے کم ہو کر 7 اعشاریہ ایک پر آ گئی۔ اگرچہ بھارت کی معاشی ترقی نہ ہوتا دیکھ کر دوسرے ملک خوش ہوں گے لیکن بھارت کو معاشی ترقی کی اشد ضرورت ہے۔ یہ توقع کی جا رہی ہے کہ اگلے دس سال میں  دنیا کی جاب مارکیٹ کے 25 پی سی امیدوار بھارتی ہوں گے۔ بھارت کو ایسی صورتحال سے بچنے کےلیے بہت تیزی سے معیشت بہتر کرنا ہو گی۔

جب مودی ایک چائے والا سے بھارتی وزیر اعظم بننے کے سفر پر نکلے تو انہیں بھارتی سیاست میں ایک اجنبی قرار دیا جا رہا تھا۔آر ایس ایس جس کے مودی ممبر تھے اسے شدت پسندی کی وجہ سے تین بار پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ گجرات فسادات میں ان کا ہاتھ ہونے کے شکو ک وشبہات کی وجہ سے جس میں ہزاروں مسلمانوں کو مارا گیا، امریکہ نے ان پر اپنے ملک میں داخلے پر پابندی لگائی اور برطانیہ نے ان سے تمام تعلقات ختم کر لیے۔ آج تک مودی نے گجرات فسادات کی مذمت نہیں کی ہے۔  لیکن بھارتی سیاست کی مرکز ثقل اب رائٹ ونگ کی طرف شفٹ ہو چکی ہے۔ اب مودی کو ایک مین سٹریم سیاستدان تسلیم کر لیا گیا ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بہت جلد مودی ایک ماڈریٹ سیاستدان کی صورت میں نظر آئیں گے اور رائٹ گروپ سے اپنے آپ کو علیحدہ کر لیں گے جس کا مقصد صرف گائے کی حفاظت کرنا ہے۔

سب سے اہم مسائل میں سے ایک چیز یہ ہے کہ  مودی معاشی اصلاحات پر کس قدر توجہ دیتے ہیں۔ دہلی میں یہ بحث گرم ہے کہ مودی کے 'انڈیا فرسٹ' کے نعرے کا اصل مطلب کیا ہے۔ کیا مودی ہندو کلچر کے معاملات کو زیادہ اہمیت دے کر ووٹ بٹورنا چاہتے ہیں  یا وہ واقعی بھارت کو ایک سب سے بڑی معاشی قوت بنانے کے خواہشمند ہیں۔ یا پھر ان کا مقصد نیشنلزم اور ریفارم کو سب سے زیادہ اہم معاملہ قرار دینا ہے۔ بیف ایکسپورٹ پرلگنے والی پابندی سے لگتا ہے کہ مودی کی توجہ بھارتی کلچر  کی جنگ اور شناخت کی سیاست  پر ہے نہ کہ بھارت کی معاشی حالت کو بہتر کرنے پر۔

کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ مودی ہندو نیشنلزم کو چھوڑ کر کلاس پولیٹکس کا راستہ اپناتے ہوئے اپنے آپ کو غریبوں کا چمپئن لیڈر بنانا پسند کریں گے۔ دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ جب انہیں دوسری بار حکومت ملے گی تو وہ ہندو نیشنلسٹ عوام کے لیے صرف بیان بازی تک محدود رہتے ہوئے معاشی ایجنڈا کو اہمیت دیں گے۔ لیکن ایک نقطہ ایسا ہے جس پر دونوں مخالف طبقات متفق ہیں وہ یہ کہ مودی بہت مضبوط ہیں۔ اپنے بیان میں تو بی جے پی اپنے آپ کو مشکلات کا شکار پارٹی بتاتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی اس وقت بھارتی اسٹیبلشمنٹ کا چہرہ بن چکی ہے۔ 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *