ایسا کیا ہوگیا کہ پنجاب حکومت نے روئی کی درآمد پر پابندی کا فیصلہ کرلیا؟

سوتی دھاگے کی درآمدسے 100اسپننگ ملزبندہوئیں،کسانوں کوفائدہ دینے کیلیے باہر سے نہ منگوانے دیاجائے،احسان الحق فوٹو: اے پی پی/فائل

 کراچی -حکومت پنجاب نے وفاقی حکومت سے روئی کی درآمد پر مکمل پابندی لگانے کا مطالبہ کر دیا تاکہ اندرون ملک کسانوں کو پھٹی کے بہتر نرخ مل سکیں۔

سیکریٹری زراعت پنجاب کی جانب سے وزارت خزانہ واقتصادی امور اسلام آباد کے نام لکھے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ رواں سال پنجاب میں کپاس کی کاشت گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زائد ہے جس سے توقع ہے کہ مختلف ٹیکسٹائل ملز کی ضروریات پوری کرنے کیلیے پاکستان بھر میں پیدا ہونے والی روئی کافی ہو گی اس لیے وفاقی حکومت کو فوری طور پر روئی کی درآمد پر پابندی عائد کر دینی چاہیے تاہم خاص حالات میں ٹیکسٹائل ملز کو 29 ملی میٹر سے زائد لمبائی کے حامل ریشے والی روئی درآمد کرنے کی اجازت ہونی چاہیے تاکہ اسپننگ ملز کو سوتی دھاگے کے اسپیشل برانڈ بنانے میں مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اس سلسلے میں چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے کہا ہے کہ پاکستانی کاشت کاروں کو پھٹی کے صحیح نرخ ملنا یقینی بنانے کے لیے حکومت پاکستان کو روئی کے بجائے سوتی دھاگے کی درآمد پر مکمل پابندی عائد کرنی چاہیے کیونکہ سوتی دھاگے کی درآمد پر مختلف ڈیوٹیز اور ٹیکسز عائد ہونے کے باوجود بیشتر ٹیکسٹائل ملز ’’ڈی ٹی آر ای‘‘ اسکیم کے تحت ڈیوٹی فری سوتی دھاگہ درآمد کر رہی ہیں جس سے ملک خصوصاً پنجاب میں اسپننگ ملز کافی عرصے سے معاشی بحران کا شکار ہیں جس کے باعث 100 سے زائد ملز مکمل طور پر بند ہو چکی ہیں جبکہ بیشتر اپنی پوری پیداواری صلاحیت پر فعال نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سوتی دھاگے کی درآمد پر پابندی عائد ہونے سے کاشت کاروں کو بھی پھٹی کے نرخ بین الاقوامی منڈیوں کے مطابق ملنے کے روشن امکانات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کے اس دعوے میں بھی بظاہر کوئی حقیقت دیکھائی نہیں دے رہی کہ پنجاب میں کپاس گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد زائد رقبے پر کاشت کی گئی ہے کیونکہ حکومت پنجاب کی جانب سے ملکی تاریخ میں پہلی بار 15 اپریل سے قبل کپاس کی کاشت پر پابندی عائد کی گئی تھی جس کے باعث فروری مارچ میں روایتی طور پر کپاس کاشت کرنے والے کاشت کاروں نے دوسری فصلیں کاشت کر لی تھیں جبکہ کپاس کی کاشت کے وقت پنجاب کو پانی کے زبردست بحران کا بھی سامنا تھا :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *