عالمی حالات، حکمران اور فوج کا بیانیہ

asghar khan askari

سب جا نتے ہیں کہ 70 کی دھائی میں سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان عالمی با دشاہت پر شدید اختلافات تھے۔سوویت یو نین امریکہ کو عالمی بادشاہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں تھا،جبکہ امریکہ ماسکو کی طرف منہ کرکے جھکنے کے لئے آمادہ نہیں تھا۔کیمو نزم اور کیپٹلزم کے درمیان کشمکش تھی،جبکہ دونوں کی اس دشمنی سے اسلام خطر ے میں تھا۔عالمی با دشاہت کے تاج کو اپنے سروں پر سجانے کے لئے دونوں ممالک انتظا ر میں تھے کہ ایک غلطی کریگا اور دوسرا اس کے پیٹ میں چھرا گھونپ کر اس کا کام تمام کر کے عالمی با دشاہت کا پگھ اپنے سر سجا لے گا۔1979 ء میں سرخ ریچ نے دریا ئے آمو کو عبور کرکے افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں بسیرا کرنے کی غلطی کر لی۔امریکہ ایک چالاک شکاری کی طرح پوری منصوبہ بندی کے ساتھ شکار کرنے کے لئے مو جود تھا ۔انھوں نے سرخ ریچ کو اسی وقت تک افغانستان سے نکلنے نہیں دیا جب تک ان کے جسم کو 20 سے زیادہ ٹکڑوں میں تقسیم نہیں کیا۔سوویت یونین افغانستان میں شکست کے بعد روس بن گیا ۔گز شتہ 3 عشروں سے روس افغانستان میں شکست کے زخم چاٹ رہے ہیں لیکن چھوٹ اتنی گہری ہے کہ مندمل ہو نے کا نام نہیں لے رہی ہے۔سوویت یو نین کے بعد عالمی شہنشا ہیت کا تاج امریکہ کے سرہے۔2001 ء میں امریکہ نے وہی غلطی دوہرائی جو اس سے پہلے گریٹ بر طانیہ اور سوویت یونین کر چکے تھے۔افغانستان پر حملہ کر دیا جو ماضی میں دو عالمی طا قتوں کو اپنی پہاڑوں اور صحراوں میں تحلیل کر چکا ہے۔گز شتہ 16 سالوں سے امریکہ اور ان کے اتحادیوں نے افغانستان میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا بے دردی سے استعمال کیا ۔مگر ان کا مخالف اب بھی اسی طر ح طاقت ور ہے جس طر ح امریکہ کا افغانستان پر یلغار کرنے سے پہلے تھا۔درحقیقت امریکہ بھی افغانستان میں شکست سے دوچار ہے،لیکن وہ با عزت واپسی کے راستے تلاش کر رہا ہے۔اپنے عوام کو جواب دینے کے لئے امریکہ اپنی شکست کا نزلہ کسی اور پر گرانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔جس کے لئے قرعہ فال حسب معمول پاکستان کے نام نکلا ہے۔پینٹا گون اور وائیٹ ہاؤس میں موجود منصوبہ ساز جنھوں اپنی ساری زندگیا ں جنگیں لڑنے اور سفارت کاری میں کھپائی ہے حیران و پریشاں ہیں کہ کون سا حربہ استعمال کر کے افغانستان سے نکلا جا ئے۔اس لئے کہ فتح کے شادیانے بجائے بغیر امریکی قوم 16 سالوں کا حساب مانگے گی۔قوم پو چھے گی کہ 2ہزار لا شوں اور ہزاروں معذروں کا بو جھ اٹھا کر آئے ہو یا کوئی بڑی خبر بھی ہے۔اس لئے اب امریکی قوم کو مزید اندھروں میں رکھنے کے لئے امریکہ کے فوجی اور حکمران اشرافیہ نے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانے ،اپنی شکست چھپانے اور قوم کی جوابات سے چھٹکارا حا صل کر نے کے لئے پاکستان کا انتخاب کیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وہی پرانے الزامات دہرائے ہیں ،مگر افسوس کہ جارج بش اور بارک اوبامہ کے لگا ئے گئے پرانے الزامات کو انھوں نے پالیسی کا نام دیا ہے۔ٹرمپ کے الزامات کے جو اب میں پاکستان کے حکمرانوں اور فوج نے متبادل بیانیہ پیش کر دیا ہے۔وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اپنے گھر کو ٹھک کر نا ہو گا۔فوج کے سربراہ جنرل قمر جا وید با جوہ نے دو ٹوک اعلان کیا ہے کہ جہا د ریا ست کی ذمہ داری ہے۔حکمران اور فوج اس بات پر متفق ہے کہ افغانستان میں جاری جنگ کو پا کستان میں لڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔پاکستان نے متبادل بیانیہ اس لئے پیش کر دیا ہے،کہ گزشتہ 4 عشروں سے وہ افغانستان میں جاری جنگوں میں کسی نہ کسی طر ح سے فریق رہا ہے۔سوویت یو نین کے خلاف پاکستان امریکہ کا اتحادی تھا۔خانہ جنگی کے دوران پاکستان کی کوشش تھی کہ حکمت یار کا ساتھ دیاجائے۔طالبان کے ظہور کے بعد ان کا ساتھ دیا۔پھر طالبان کے خلاف امریکہ کے اتحادی بن گئے۔ابھی تک ان جنگوں میں 70 ہزار سے زیادہ جانی نقصان کا بو جھ اٹھا چکا ہے۔لاکھوں معذور ہو ئے ہیں۔ہزاروں لا پتہ ہے۔مالی نقصان اربوں ڈالرکا ہے۔40 سالہ جنگ سے پاکستان کے حکمران اور فوج بھی اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ افغانستان میں جنگ جیتنے کے لئے متبادل کی ضرورت ہے۔ اس لئے پاکستان نے افغانستان کی پہاڑوں میں نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔پاکستان کا متبادل بیانیہ یہ ہے کہ اپنے گھر کو ٹھک کر و۔مطلب پڑوسی ممالک خصو صا افغانستان کے ساتھ سرحدات کو محفوظ بنانا تاکہ کوئی بھی دراندازی کا الزام نہ لگا ئیں۔پاکستان میں مو جود افغان مہاجرین کی وطن واپسی کو یقینی بنایا جائے ،تاکہ دہشت گر دوں کو پناہ ملنے میں مشکلات ہوں۔اس لئے کہ بعض لوگ افغانستان سے اکر پاکستان میں مقیم اپنے افغان مہاجرین کے گھروں میں رہتے ہیں اور پھر یہاں غیر قانونی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔پاکستان کے متبادل بیانیے کا دوسرا اہم نقطہ جہاد کو ریاست کی ذمہ داری قراردینا ہے۔مطلب یہ ہوا کہ اب کسی بھی ملک کو یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ ساری اسلامی دنیا سے جہاد کے نام پر آفراد کو اکٹھا کر کے پاکستان میں بسائے۔اپنے مقصد کے حصول تک وہ افغانستان میں ان کے لئے لڑتے رہے۔جب ان کا مقصد پورا ہو جائے تو پھر ان کو افغانستان کے پہاڑوں ،صحراوں اور پاکستان کے شہروں میں بے یار ومدد گار چھوڑ دیا جائے یا ان پر دہشت گر دی کا الزام لگا کر پاکستان کو بدنام کیا جائے۔جس طر ح افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ میں پوری اسلامی دنیا سے امریکہ نے خود مجاہدین کو اکٹھا کیا۔ان کو پاکستان لانے کے لئے ہر سہولت دی۔لیکن سوویت یونین کے شکست کے بعد ان کو بیابان میں اکیلے چھوڑ دیا۔پھر ان پر دہشت گردی کا الزام لگا یااور پاکستان کو بھی بد نام کیا کہ وہ دہشت گر دوں کو پناہ دے رہا ہے ،حالانکہ یہی تمام لوگ خود امریکہ عرب ریا ستوں سے جہاد کے نام پر پاکستان میں بسانے کے لئے لائے تھے۔امکان تو یہی ہے کہ پاکستان عالمی حالات کو دیکھتے ہو ئے اس متبادل بیانئے پر قائم رہے گا۔لیکن اس کے ساتھ یہ خدشہ بھی مو جود ہے کہ ایسا نہ ہو کہ مو جودہ حکمران جماعت نے آنے والے انتخابات میں امریکہ مخالف ووٹ کو حا صل کر نے کے لئے واشنگٹن سے معذرت کی ہواور انتخابات کے بعد نئے حکمران پرانے ڈگر پر چلے پڑے۔اسی طر ح اس بات کی بھی کوئی گارنٹی نہیں کہ جنرل قمر جاوید با جوہ کے بعد فوج اس رائے پر قائم رہی گے کہ جہاد ریاست کی ذمہ داری ہے یا دوبارہ جہاد کو لشکروں اور جیشوں کے حوالے کیا جائے گا۔اگر پاکستان کے حکمران اپنے گھر کو ٹھک کرنے کی فکر میں لگ جاتے ہیں اور فوج جہاد کو ریاستی ذمہ داری کے موقف پر قائم رہتی ہے تو پھر امریکہ کو اپنی پالیسی میں تبدیلی پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔پھر ممکن ہے کہ امریکہ افغانستان میں اپنے شکست کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی ناکامی کا ملبہ بھی پاکستان پر گرانے سے سے گریز کریں۔لیکن ان سب کا انحصار پاکستان کے حکمرانوں اور فوج کا اپنے متبادل بیانیے پر قائم رہنے پر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *