کچھ بیگم کلثوم نواز اور مریم نواز کے بارے میں

ata-ul-haq-qasmi

ان دنوں جب کبھی موقع ملے، لاہورکے حلقہ 120کا چکر ضرور لگائیں، ہوسکے تو شام کے بعد جائیں، آپ کو بہت عرصے کے بعد اصلی لاہور اور اصلی لاہوریئے نظر آئیں گے۔ میں نے انتخابی گہما گہمیاں بہت دیکھی ہیں لیکن اس بار یہ رونقیں ہی عروج پر ہیں اور ان کے پیچھے جذباتی کیفیت بھی مختلف قسم کی ہے۔ اصلی مقابلہ بیگم کلثوم نواز اور ڈاکٹر یاسمین راشد کے درمیان ہے۔ مجھے جو فرق محسوس ہورہا ہے وہ مسلم لیگ (ن) کے حوالے سےہے۔ پہلے اس کے پاس ووٹر ہوتے تھے مگر ان ووٹروں کا جوش و خروش اسی امر کی غمازی کررہا ہے کہ یہ ووٹرز اب کارکن کی صورت میں میدان میں اترے ہیں۔ وہ محسوس کررہے ہیں کہ ان کے وزیراعظم کو نااہل قرار دے کر ان کے ووٹ کی تذلیل کی گئی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مریم نواز جس گلی، جس بازار اور جس گھر کا رخ کرتی ہیں وہاں پرجوش کارکنوں کا ایک جم غفیر ان کے گرد جمع ہو جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو میں نے ابھی بتا دی ہے۔ دو وجوہ اس کے علاوہ بھی ہیں۔ ایک تو یہ کہ بیگم کلثوم نواز کی حیثیت صرف سابق وزیراعظم اور پاکستانی عوام کے مقبول رہنما نوازشریف کی اہلیہ کی نہیں ہے بلکہ وہ ایک بہادر خاتون ہیں اور پرویز مشرف کے دور ستم میں جس طرح وہ میدان میں اتر یں اور ایک ڈکٹیٹر کو للکارا، اس نے بیگم کلثوم کو ایک مزاحمتی کردار کی صورت بھی عطا کی۔ گزشتہ روز میرے عزیز دوست اور صف اول کے کالم نگار حامد میر سے میری گپ شپ ہورہی تھی وہ اگرچہ ان دنوں مسلم لیگ کی بعض پالیسیوں کے ناقد ہیں مگر ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کا ووٹ اس حلقے میں ہوتا توہ وہ اس بہادر خاتون کو دیتے جس کا نام کلثوم ہے۔ حلقہ 120 میں مسلم لیگ کا ایک اور پلس پوائنٹ یہ ہے کہ مریم نواز بھی جنرل پرویز مشرف کے دور میں ان تمام تکالیف کا مقابلہ پوری بہادری اور جرات سے کررہی تھیں جس کا سامنا ان کا سارا خاندان کررہا تھا۔ وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ بھی ہیں اور انہیں اپنا نقطہ نظر بیان کرنے کا ہنر بھی آتا ہے۔
تاہم میرے نزدیک ان تمام امور کے علاوہ جو چیز مسلم لیگ (ن) کی جیت کے واضح اشارے دے رہی ہے وہ مسلم لیگ کے ترقیاتی کام ہیں جو یوں تو پورے پاکستان میں نظر آتے ہیں تاہم حلقہ 120سب سے زیادہ خوش قسمت ہے کہ یہاں جتنے بھی لوگوں سے میری بات ہوئی ان میں سے ایک بھی ایسا نہیں تھا جسے اپنے حلقے کے ایم پی اے، ایم این اے یا کونسلر سے کوئی شکایت ہو۔ مجھے لوگوں نے بتایا کہ صرف الیکشن کے دنوں میں نہیں بلکہ سارا سال وہ عوام کی شکایات سنتے اور انہیں دور کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ تحریک انصاف والوں نے وہاں سے ہارنے کے بعد سے ادھر کا رخ ہی نہیں کیا۔ اب انتخابات کا نقارہ بجا تو وہ وعدوں کی پٹاری کھول کر بیٹھ گئے ہیں۔ جیسا کہ میں نے گزشتہ کالم میں بھی لکھا تھا کہ تحریک انصاف کے سب سے بڑے دشمن خود عمران خان ہیں وہ گاہے گاہے ایسے احمقانہ بیانات دیتے رہتے ہیں جس سے رہی سہی کسر بھی پوری ہو جاتی ہے۔ چنانچہ کے پی میں اپنی چار سالہ کارکردگی کے بارے میں انہوں نے جو بیان دیا وہ ان کے دور سیاست کی ’’ریاست‘‘ کا ’’شہنشاہ‘‘ تھا، انہوں نے فرمایا کہ انہیں تو ان چار برسوں میں سمجھ ہی نہیں آئی کہ انہوں نے کرنا کیا ہے۔ آپ خود ہی بتائیں اس بیان کے بعد ان کے پلے رہ ہی کیا جاتا ہے۔
اور ہاں یہ جو میںنے کہا تھا کہ حلقہ 120میں اصل مقابلہ مسلم لیگ اور تحریک انصاف کا ہے تو اسے غلط نہ سمجھیں، میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ مسلم لیگ پہلے سے کتنے زیادہ اور تحریک انصاف پہلے سے کتنے کم ووٹ لیتی ہے۔ مقابلہ نام کی یہاں کوئی چیز نہیں، اگر ہے تو صرف اتنی کہ تحریک انصاف یہاں سے شکست کھاتی ہے یا عبرتناک شکست سے دوچار ہوتی ہے ایک بات اور، میں نے کہنا تھا کہ لاہور میں ان دنوں میلے کا سماں ہے۔ خصوصاً اس حلقے کی رونقیں قابل دید ہیں۔ کہیں دیگیں چڑھ رہی ہیں، کہیں نوجوان موٹر سائیکلوں پر جھنڈوں کے ساتھ فراٹے بھرتے نظر آتے ہیں اور اس کے علاوہ ساری ساری رات لاہور کا یہ علاقہ آپ کو جاگتا نظر آئے گا۔ ان دنوں ’’تھڑا سیاست‘‘ بھی زوروں پر ہے، چنانچہ جن لمحوں میں آپ بوریت محسوس کریں، حلقہ 120کا ایک چکر لگالیں۔ نہ صرف یہ کہ آپ کی بوریت دور ہو جائے گی بلکہ ان سطور میں میں نے جو پیش گوئیاں کی ہیں آپ کو جگہ جگہ اس کے شواہد بھی نظر آئیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *