احمد شاہ مسعود اور حکمت یار کی کشمکش

riayat ullah farooqi
یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ جہاد افغانستان کی بنیاد کا سہرا بھٹو صاحب کے سر ہے جو کابل اور جلال آباد یونیورسٹیوں کے طلبہ کو 1975ء میں اس کام کے لئے پاکستان لائے تھے۔ بھٹو صاحب نے جو طلبہ پاکستان لا کر جنرل نصیر اللہ بابر کے سپرد کئے اور جنہیں جنرل نصیر اللہ بابر نے ٹریننگ کے لئے کرنل امام کے حوالے کیا تھا ان میں تین بہت گہرے دوست بھی تھے جو باقی سب سے زیادہ تیز طرار اور سرگرم ہی نہ تھے بلکہ لیڈ کرتے تھے۔ طلبہ کے اس گروپ نے بھٹو صاحب کی توجہ یوں کھینچی کہ جب روسی اساتذہ نے کابل یونیورسٹی میں الحاد اور کمیونزم کی تبلیغ شروع کی اور یونیورسٹی کا ماحول روسی رنگ میں رنگنا شروع کیا تو ان طلبہ نے مزاحمت شروع کردی اور کابل یونیورسٹی میں مظاہرے شروع ہوگئے۔ ایک دن انہوں نے کابل یونیورسٹی کے ڈانس فلور کو بھی آگ لگادی جو آگے چل کر جہاد افغانستان کا پہلا شعلہ ثابت ہوئی۔ بھٹو صاحب نے بندے دوڑا کر ان طلبہ کو پاکستان بلا لیا اور یہاں انہیں منظم کرنا شروع کردیا۔
Image result for ahmed shah masood and hikmat yar
ان میں جو تین دوست سب سے زیادہ اہم تھے ان کے نام احمد شاہ مسعود، گلب الدین حکمت یار اور جان محمد ہیں۔ ان میں مسعود اور حکمت یار نسبتا باتونی تھے جبکہ جان محمد کم گو اور باقی دونوں سے زیادہ ذہین وشاطر تھا۔ حکمت یار اور مسعود میں سے جان محمد کی زیادہ قربت مسعود کے ساتھ تھی۔ جنرل ضیاء کے دور تک یہ افغانستان کی انٹیلی ایجنسی خاد کی نظروں میں آچکے تھے اور اس کی ان کے پاکستان آنے جانے پر نظر تھی۔ خاد جانتی تھی کہ ان تینوں میں جان محمد سب سے اہم ہے کیونکہ وہی سب سے زیادہ ذہین اور خطرناک ہے۔ جنرل ضیاء کے دور میں آئی ایس آئی نے جہاد کا چارج سنبھالا تو یہ تینوں دوست اس سے جڑ گئے۔ انہی دنوں ایک سانحہ ہوگیا۔ ایک صبح جان محمد غائب تھا۔ حکمت یار اور مسعود الگ الگ اس کی تلاش میں نکلے۔ کچھ گھنٹوں بعد پشاور میں ایک ویرانے سے جان محمد کی لاش ملی۔ مسعود نے حکمت یار سے کہا کہ جہاں سے لاش ملی ہے اسی علاقے میں صبح میں تمہیں دیکھ چکا ہوں۔ حکمت یار نے تسلیم کیا کہ میں یہاں سے گزرا ہوں لیکن میرا اس کی موت سے کوئی لینا دینا نہیں۔ چونکہ آئی ایس آئی سے میٹنگز میں اکثر مسعود اور جان محمد کی رائے ایک ہوجاتی تھی تو فیصلہ انہی کی رائے کے مطابق کرنا پڑ جاتا تھا سو مسعود کو شبہ ہوا کہ آئی ایس آئی اور حکمت یار نے مل کر جان محمد کو مارا ہے۔ آئی ایس آئی نے برق رفتار تحقیق کرکے کیس سلجھا لیا لیکن تب تک مسعود پاکستان سے جا چکا تھا۔اسی غلط فہمی کے نتیجے میں وہ پھر جنرل اسلم بیگ کے دور تک پاکستان نہیں آیا اور پورے جہاد کے دوران جہاں اسے موقع ملتا حکمت یار پر حملہ کراتا تاکہ جان محمد کا بدلہ لیا جاسکے اور جوابا حکمت یار اپنے مرنے والے ساتھیوں کے انتقام کے لئے اس پر حملے کرواتا۔ پاکستان میں مسعود کی تنظیم کے معاملات اور اسلحے کی وصولی ان کی جماعت کے امیر استاد ربانی کیا کرتے تھے مسعود پاکستان نہ آتا۔
Image result for hikmat yar
آئی ایس آئی نے استاد ربانی کے ذریعے مسعود کو بہت سمجھایا کہ جان محمد کا قتل خاد نے کیا ہے اور اس کے ثبوت بھی شیئر کئے لیکن مسعود نے یقین نہ کیا۔ جب آگے چل کر جہاد نے زور پکڑا اور 80 کی دہائی کے اواخر میں افغان حکومت سے جرنیل اور خاد کے اہم افسران منحرف ہونے لگے تو منحرف ہونے والے یہ افسران زیادہ تر مسعود اور حکمت یار کو ہی جوائن کرتے تھے۔ خاد سے منحرف ہونے والے جن اعلیٰ افسران نے مسعود کو جوائن کیا انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ جان محمد کو خاد ہی نے قتل کیا تھا اور خاد کا خیال تھا کہ اگر جان محمد کو مار دیا جائے تو باقی دونوں خود ہی ڈر کر کہیں روپوشی کی زندگی اختیار کر لیں گے۔ جبکہ پاکستان کی سرزمین پر اس لئے قتل کیا گیا تاکہ آئی ایس آئی کو بھی پیغام دیا جا سکے۔ اسلم بیگ کے دور میں احمد شاہ مسعود اسی لئے پاکستان آیا تاکہ رنجش آفیشلی ختم ہوجائے مگر تب تک اتنے فاصلے پیدا ہوچکے تھے کہ گرم جوش قربت پیدا نہیں ہو سکتی تھی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *