روہنگیا مسلمان اور سورہ والضحیٰ کی پکار

hafiz yousuf siraj
کل مغرب کی نماز میں امام صاحب نے پہلی رکعت میں سورہ والضحیٰ کی تلاوت کی ۔ جب انھوں نے  یہ آیت پڑھی:
واماالسائل فلا تنھر ۔۔۔
 "اور سائل کو مت جھڑکو۔"
تو یکایک خیال آیا کہ برما کے ستم رسیدہ بھی  جان کی امان پانے کیلیے ہر قریبی ی ملک کی
 سرحد پر دستک دیتے ہیں مگر کوئی انھیں پناہ کی خیرات نہیں دیتا، بلکہ  امان دینےکے بجائے انھیں جھڑک کے سفاک سمندری لہروں کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔
یہ سورہ رسول معظم ؐ کو مخاطب کرتی ہے۔ اسی سورہ میں پہلے یہ جتایا گیا کہ
"کیا ہم نے آپ کو یتیمی سے اٹھا کر جہاں پناہ نہیں بنایا؟
کیا ہم نے آپ کو راہ راست پر نہیں ڈال دیا؟ کیاہم نے آپ کی تنگدستی کو تونگری سے نہیں بدل دیا؟
سو اب ہونا یہ چاہیے کہ ان سب ادوار کو ذہن میں رکھتے ہوئے آپ:
"سائل کو جھڑکیے نہیں اور خود پر ہوئی رب کی نعمتوں کے اظہار سے چوکیے نہیں۔"
نعمتوں کا اظہار اس لیے بھی تاکہ حاجت مند آپ سے رجوع کر سکیں۔
میں نے سوچا اب یہ جتنے اسلامی ملک ان مظلوم ترین اور محروم ترین روہنگیا مسلمانوں کا دست پناہ طلب دھتکار رہے ہیں، کیا انھیں سورہ والضحیٰ کا مضمون یاد نہیں؟
 کیا انھیںوہ وقت یاد نہیں ، جب ان کے پاس ملک نہیں تھا؟
آزادی اور اختیار و اقتدار نہیں تھا؟
اب یہ خود پر ہونے والی رب کی سب نعمت بھلا کیوں بیٹھے ہیں؟
اب یہ رب کی نعمت کا اظہار کرنے کے بجائے اسے چھپاتے کیوں ہیں؟
اب یہ مظلوم ترین اور جاں بہ لب آدم کے بیٹے بیٹیوں کو امان اور پناہ دینے سے گبھراتے اور ان کا ہاتھ جھٹلاتے کیوں ہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *