حلقہ این اے 120

tariq ahmed
عمران خان کا یہ بیانیہ کہ لوگ اگر عدلیہ کی مضبوطی چاہتے ھیں تو پھر پی ٹی آئی کو جتوائیں ۔ اس بیانیے کو سن کر دسمبر 1984 کا جنرل ضیا الحق کا ریفرنڈم یاد آ گیا۔ جب لوگوں سے پوچھا گیا۔ اگر آپ ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ چاہتے ھیں۔ اور آپ کا جواب ھاں میں ھے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ نے جنرل ضیاء الحق کو پانچ سال کے لیے ملک کا صدر منتخب کر لیا۔ اب کون کافر ھو گا جو اس وقت ملک میں اسلامی نظام نہیں چاہتا تھا۔ چناچہ عیار جنرل صدر منتخب ھو گیا۔ لیکن اب مسئلہ ذرا ٹیڑھا ھے۔ پہلی بات تو یہ ھے۔ کہ خان صاحب عدلیہ کو مزید کتنا مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ جج حضرات ماشاءاللہ پہلے ھی بہت مضبوط "تھی گئے نے"۔ وزیراعظم کو نکال باہر پھینکتے ھیں۔ آئی جی جیسی پوسٹوں پر تعیناتی کے انتظامی حکم جاری کرتے ھیں۔ اب مزید کیا چاھیے ۔ احتساب تو نواز شریف پر رک چکا ۔ اور کرپشن کے خلاف نام نہاد تحریک دم توڑ چکی۔ اور دوسری بات اگر پی ٹی آئی یہ الیکشن ہار گئی تو اس کا مطلب کیا یہ نہیں ھو گا  کہ لوگوں نے عدلیہ کو مضبوط کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ تو عدلیہ کی"بزتی" نہیں ھو جائے گی۔ کیا خان صاحب نے یہ ریفرنڈم کروانے سے پہلے عدلیہ سے مشورہ کر لیا تھا۔ کیا عدلیہ نے عمران خان کو عدلیہ کا نام استعمال کرنے سے روکا ؟ اب اگر لاہور ہائی کورٹ کا نیا بننے والا تین ججوں کا بنچ کلثوم نواز کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیتا ھے۔ تو پھر ضیاء الحق کی مانند پی ٹی آئی کی جیت اور عدلیہ کی مضبوطی تو یقینی ھو گی ناں!۔۔۔۔ہیں جی؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *